Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a man has two wives and he is inclined to one of them, he will come on the Day of resurrection with a side hanging down.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہو گا ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to divide his time equally and said: O Allah, this is my division concerning what I control, so do not blame me concerning what You control and I do not. Abu Dawud said: By it meant the heart.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں کی ) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے ( یعنی دل کا میلان ) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا ۔
Narrated Hisham bin Urwah: On the authority of his father that Aishah said: O my nephew, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not prefer one of us to the other in respect of his division of the time of his staying with us. It was very rare that he did not visit us any day (i. e. he visited all of us every day). He would come near each of his wives without having intercourse with her until he reached the one who had her day and passed his night with her. When Saudah daughter of Zam'ah became old and feared that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would divorce her, she said: Messenger of Allah, I give to Aishah the day you visit me. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم accepted it from her. She said: We thing that Allah, the Exalted, revealed about this or similar matter the Quranic verse: If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part. . . . [4: 128]
عروہ کہتے ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے قریب ہوتے، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے، اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ کر دیں گے تو کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے رہے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ: «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا» ( سورۃ النساء: ۱۲۸ ) نازل کی: اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو ۔
Narrated Aishah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to aske our permission on the day he had to stay with one of his wives (by turns) after the following Quranic verse was revealed: You may distance those whom you like, and draw close to those whom you like [33: 51]. The narrator Muadhah said: I said to her: What did you say to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ? She said: I used to say: If had an option for that, I would not preferred anyone to myself.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آیت کریمہ: «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں ( سورۃ الاحزاب: ۵۱ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیتے تھے۔ معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں؟ کہنے لگیں: میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔
Aishah said The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent for his wives during his illness. When they got together, he صلی اللہ علیہ وسلم said “I am unable to visit all of you. If you think to permit me to stay with Aishah you may do so. ” So they permitted him (to stay with Aishah).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا: اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں ، چنانچہ ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دے دی۔
Aishah wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم reported “When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to go on a journey he cast lots amongst his wives and the one who was chosen by lot went on it with him. He divided his time, day and night (equally) for each of his wives except that Saudah daughter of Zam’ah gave her day to Aishah.
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی۔