CHAPTER: The Person Observing I’tikaf Entering His House For A Need.باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے ۔
Chapter 78 of Fasting (kitab al-siyam) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
A similar tradition has been transmitted by Aishah from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. Abu Dawud said: And Yunus also narrated in a similar way from al-Zuhri, and no one supported Malik in his narration from Urwah from Umrah ; and Mamar, Ziyad bin Sad and others have also narrated it from al-Zuhri from Urwah on the authority of Aishah.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الاعتکاف ۳ (۲۰۲۹)، صحیح مسلم/الحیض ۳ (۲۹۷)، سنن الترمذی/الصیام ۸۰ (۸۰۵)، سنن النسائی/ الکبری/ الاعتکاف (۳۳۷۵)، سنن ابن ماجہ/الصوم ۶۳ (۱۷۷۶)، (تحفة الأشراف: ۱۶۵۷۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۸) (صحیح)
Aishah said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to observe Itikaf in the mosque and put his head near me through the opening of the apartment, and I would wash his head. Musaddad said: And I would comb it while I was menstruating.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی، کنگھی کر دیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۶۸۷۰) (صحیح)
Safiyyah said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was observing Itikaf (in the mosque), I would come to him to visit him. I had a talk with him and then stood up. I then returned and he (the Prophet) also stood up to accompany me (to my house). Her dwelling place was in the house of Usamah bin Zaid. Two men from the Ansar (helpers) passed (by him at the moment). When they saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, they walked quickly. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Be at ease, she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Be glory to Allah, Messenger of Allah! He said: Satan runs in man like blood. I feared he might inspire something in your mind, or he said: evil (the narrator doubted).
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، ( اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی ) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے ) ، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! ( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ ( یا کہا: کوئی شر ) نہ ڈال دے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاعتکاف ۱۱ (۲۰۳۸)، ۱۲ (۲۰۳۹)، بدء الخلق ۱۱ (۳۲۸۱)، الأحکام ۲۱ (۷۱۷۱)، صحیح مسلم/السلام ۹ (۲۱۷۵)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۶۵ (۱۷۷۹)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۰۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۵۶، ۲۸۵، ۳۰۹، ۶/۳۳۷)، سنن الدارمی/الصوم ۵۵ (۱۸۲۱)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (۴۹۹۴) (صحیح)