صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں (صفة الصلوة)

The book of adhan (sufa-tus-salat).

رکوع پوری طرح کرنے کی اور اس پر اعتدال و طمانیت کی حد

(121) CHAPTER. And what is said regarding the limit of the completion of bowing and of keeping the back straight and the calmness with which it is performed.

حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُجُودُهُ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مَا خَلَا الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ .

Narrated Al-Bara: The bowing, the prostration the sitting in between the two prostrations and the standing after the bowing of the Prophet but not qiyam (standing in the prayer) and qu`ud (sitting in the prayer) used to be approximately equal (in duration).

ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع و سجود، دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً سب برابر تھے۔ سوا قیام اور تشہد کے قعود کے۔