صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں (صفة الصلوة)

The book of adhan (sufa-tus-salat).

صبح کی نماز پڑھ کر عورتوں کا جلدی سے چلا جانا اور مسجد میں کم ٹھہرنا

(165) CHAPTER. Retuming of the women immediately after the Fajr prayer and their staying in the mosque for a short period only.

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعيدُ بْنُ مَنْصًورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، فَيَنْصَرِفْنَ نِسَاءُ الْمُؤْمِنِينَ ، لَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ أَوْ لَا يَعْرِفُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا .

Narrated `Aisha: Allah's Apostle used to offer the Fajr prayer when it was still dark and the believing women used to return (after finishing their prayer) and nobody could recognize them owing to darkness, or they could not recognize one another.

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے بیان کیا، ان سے اس کے باپ (قاسم بن محمد بن ابی بکر) نے ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز منہ اندھیرے پڑھتے تھے۔ مسلمانوں کی عورتیں جب ( نماز پڑھ کر ) واپس ہوتیں تو اندھیرے کی وجہ سے ان کی پہچان نہ ہوتی یا وہ ایک دوسری کو نہ پہچان سکتیں۔