Narrated `Urwa from Aisha: Some people performed Tawaf (of the Ka`ba) after the morning prayer and then sat to listen to a preacher till sunrise, and then they stood up for the prayer. Then Aisha commented, Those people kept on sitting till it was the time in which the prayer is disliked and after that they stood up for the prayer.
ہم سے حسن بن عمر بصریٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے حبیب نے، ان سے عطاء نے، ان سے عروہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ لوگوں نے صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا۔ پھر ایک وعظ کرنے والے کے پاس بیٹھ گئے اور جب سورج نکلنے لگا تو وہ لوگ نماز ( طواف کی دو رکعت ) پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( ناگواری کے ساتھ ) فرمایا جب سے تو یہ لوگ بیٹھے تھے اور جب وہ وقت آیا کہ جس میں نماز مکروہ ہے تو نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔
Narrated `Abdullah: I heard the Prophet forbidding the offering of prayers at the time of sunrise and sunset.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہوتے اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔
Narrated Abida bin Humaid: `Abdul, `Aziz bin Rufa`i said, I saw `Abdullah bin Az-Zubair performing Tawaf of the Ka`ba after the morning prayer then offering the two rak`at prayer.
ہم سے حسن بن محمد زعفرانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیدہ بن حمیدنے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ فجر کی نماز کے بعد طواف کر رہے تھے اور پھر آپ نے دو رکعت ( طواف کی ) نماز پڑھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے گھر آتے (عصر کے بعد) تو یہ دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔
عبدالعزیز نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو عصر کے بعد بھی دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ وہ بتاتے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے گھر آتے ( عصر کے بعد ) تو یہ دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔