صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب حج کے مسائل کا بیان

The book of hajj.

قربانی کے جانور کا اشعار کرنا

(108) CHAPTER. The marking of the Budn (camels for sacrifice).

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا أَوْ قَلَّدْتُهَا ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى البيت وَأَقَامَ بالمدينة ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلٌّ .

Narrated `Aisha: I twisted the garlands for the Hadis of the Prophet and then he marked and garlanded them (or I garlanded them) and then made them proceed to the Ka`ba but he remained in Medina and no permissible thing was regarded as illegal for him then .

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشعار کیا اور ہار پہنایا، یا میں نے ہار پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے لیے انہیں بھیج دیا اور خود مدینہ میں ٹھہر گئے لیکن کوئی بھی ایسی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حرام نہیں ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی۔