صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب وضو کے بیان میں

The book of wudu (ablution).

باب

(40b) CHAPTER.

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْجَعْدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ .

Narrated As-Sa'ib bin Yazid: My aunt took me to the Prophet and said, O Allah's Apostle! This son of my sister has got a disease in his legs. So he passed his hands on my head and prayed for Allah's blessings for me; then he performed ablution and I drank from the remaining water. I stood behind him and saw the seal of Prophethood between his shoulders, and it was like the Zir-al-Hijla (means the button of a small tent, but some said 'egg of a partridge.' etc.)

ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے جعد کے واسطے سے بیان کیا، کہا انہوں نے سائب بن یزید سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میری خالہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں کے درمیان ایسی تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی۔ ( یا کبوتر کا انڈا ) ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ قَالَ : لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا مِثْلَهُ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ .

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet once passed by two graves and said, These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid). One of them never saved himself from being soiled with his urine, while the other used to go about with calumnies (to make enmity between friends). The Prophet then took a green leaf of a date-palm tree, split it into (pieces) and fixed one on each grave. They said, O Allah's Apostle! Why have you done so? He replied, I hope that their punishment might be lessened till these (the pieces of the leaf) become dry. (See the footnote of Hadith 215).

ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے مجاہد کے واسطے سے روایت کیا، وہ طاؤس سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ پر نہیں۔ ایک تو ان میں سے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لے کر بیچ سے اس کے دو ٹکڑے کئے اور ہر ایک قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایسا ) کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں ان پر عذاب میں کچھ تخفیف رہے۔ ابن المثنی نے کہا کہ اس حدیث کو ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، انہوں نے مجاہد سے اسی طرح سنا۔