صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب وضو کے بیان میں

The book of wudu (ablution).

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بیہوش آدمی پر اپنے وضو کا پانی چھڑکنے کے بیان میں

(44) CHAPTER. The sprinkling of remaining water after performing ablution on an unconscious person by the Prophet .

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ ، فَعَقَلْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَنِ الْمِيرَاثُ ؟ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ .

Narrated Jabir: Allah's Apostle came to visit me while I was sick and unconscious. He performed ablution and sprinkled the remaining water on me and I became conscious and said, O Allah's Apostle! To whom will my inheritance go as I have neither ascendants nor descendants? Then the Divine verses regarding Fara'id (inheritance) were revealed.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے محمد بن المنکدر کے واسطے سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں بیمار تھا ایسا کہ مجھے ہوش تک نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا وارث کون ہو گا؟ میرا تو صرف ایک کلالہ وارث ہے۔ اس پر آیت میراث نازل ہوئی۔