صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب قرض لینے ادا کرنے حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں

The book of loans, freezing of property, and bankruptcy.

مال کو تباہ کرنا یعنی بے جا اسراف منع ہے

(19) CHAPTER. What is forbidden as regards wasting money.


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ ، فَقَالَ : إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ .

Narrated Ibn `Umar: A man came to the Prophet and said, I am often betrayed in bargaining. The Prophet advised him, When you buy something, say (to the seller), 'No deception. The man used to say so afterwards.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا کہ خرید و فروخت میں مجھے دھوکا دے دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب خرید و فروخت کیا کرو، تو کہہ دیا کر کہ کوئی دھوکا نہ ہو۔ چنانچہ پھر وہ شخص اسی طرح کہا کرتا تھا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح