صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب صلح کے مسائل کا بیان

The book of peacemaking.

اگر ظلم کی بات پر صلح کریں تو وہ صلح لغو ہے

(5) CHAPTER If some people are (re)conciled on illegal basis, their (re)conciliation is rejected.


حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ .

Narrated Aisha: Allah's Apostle said, If somebody innovates something which is not in harmony with the principles of our religion, that thing is rejected.

ہم سے یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہمارے دین میں از خود کوئی ایسی چیز نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ رد ہے۔ اس کی روایت عبداللہ بن جعفر مخرمی اور عبدالواحد بن ابی عون نے سعد بن ابراہیم سے کی ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح