صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب حیض کے احکام و مسائل

The book of menses (menstrual periods).

جو عورت ( حج میں ) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو ( اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ )

(27) CHAPTER. If a woman gets her menses after Tawaf-al-Ifada.

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ ؟ فَقَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَاخْرُجِي .

Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) I told Allah's Apostle that Safiya bint Huyai had got her menses. He said, She will probably delay us. Did she perform Tawaf (Al-Ifada) with you? We replied, Yes. On that the Prophet told her to depart.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے اپنے باپ ابوبکر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن کی بیٹی عمرہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو ( حج میں ) حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف ( زیارت ) نہیں کیا۔ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو۔

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا حَاضَتْ .

Narrated Ibn `Abbas: A woman is allowed to leave (go back home) if she gets menses (after Tawaf-Al-Ifada).

ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے عبداللہ بن طاؤس کے حوالہ سے، وہ اپنے باپ طاؤس بن کیسان سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ حائضہ کے لیے ( جب کہ اس نے طواف افاضہ کر لیا ہو ) رخصت ہے کہ وہ گھر جائے ( اور طواف وداع کے لیے نہ رکی رہے ) ۔

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ : إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : تَنْفِرُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ .

Ibn `Umar formerly used to say that she should not leave but later on I heard him saying, She may leave, since Allah's Apostle gave them the permission to leave (after Tawaf-Al-Ifada).

ابن عمر ابتداء میں اس مسئلہ میں کہتے تھے کہ اسے ( بغیر طواف وداع کے ) جانا نہیں چاہیے۔ پھر میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ چلی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی رخصت دی ہے۔