Narrated `Aisha: Magic was worked on the Prophet so that he began to fancy that he was doing a thing which he was not actually doing. One day he invoked (Allah) for a long period and then said, I feel that Allah has inspired me as how to cure myself. Two persons came to me (in my dream) and sat, one by my head and the other by my feet. One of them asked the other, What is the ailment of this man? The other replied, 'He has been bewitched The first asked, 'Who has bewitched him?' The other replied, 'Lubaid bin Al-A'sam.' The first one asked, 'What material has he used?' The other replied, 'A comb, the hair gathered on it, and the outer skin of the pollen of the male date-palm.' The first asked, 'Where is that?' The other replied, 'It is in the well of Dharwan.' So, the Prophet went out towards the well and then returned and said to me on his return, Its date-palms (the date-palms near the well) are like the heads of the devils. I asked, Did you take out those things with which the magic was worked? He said, No, for I have been cured by Allah and I am afraid that this action may spread evil amongst the people. Later on the well was filled up with earth.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹے تھے ) جادو ہوا تھا۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے ہشام نے لکھا تھا، انہوں نے اپنے والد سے سنا تھا اور یاد رکھا تھا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا۔ آپ کے ذہن میں بات ہوتی تھی کہ فلاں کام میں کر رہا ہوں حالانکہ آپ اسے نہ کر رہے ہوتے۔ آخر ایک دن آپ نے دعا کی پھر دعا کی کہ اللہ پاک اس جادو کا اثر دفع کرے۔ اس کے بعد آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہوا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ تدبیر بتا دی ہے جس میں میری شفا مقدر ہے۔ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک تو میرے سر کی طرف بیٹھ گئے اور دوسرا پاؤں کی طرف۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا، انہیں بیماری کیا ہے؟ دوسرے آدمی نے جواب دیا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا، جادو ان پر کس نے کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم یہودی نے، پوچھا کہ وہ جادو ( ٹونا ) رکھا کس چیز میں ہے؟ کہا کہ کنگھے میں، کتان میں اور کھجور کے خشک خوشے کے غلاف میں۔ پوچھا، اور یہ چیزیں ہیں کہاں؟ کہا بئر دوران میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور واپس آئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، وہاں کے کھجور کے درخت ایسے ہیں جیسے شیطان کی کھوپڑی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، وہ ٹونا آپ نے نکلوایا بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خود شفا دی اور میں نے اسے اس خیال سے نہیں نکلوایا کہ کہیں اس کی وجہ سے لوگوں میں کوئی جھگڑا کھڑا کر دوں۔ اس کے بعد وہ کنواں بند کر دیا گیا۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, During your sleep, Satan knots three knots at the back of the head of each of you, and he breathes the following words at each knot, 'The night is, long, so keep on sleeping,' If that person wakes up and celebrates the praises of Allah, then one knot is undone, and when he performs ablution the second knot is undone, and when he prays, all the knots are undone, and he gets up in the morning lively and gay, otherwise he gets up dull and gloomy.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی تم میں سے سویا ہوا ہوتا ہے، تو شیطان اس کے سر کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے خوب اچھی طرح سے اور ہر گرہ پر یہ افسون پھونک دیتا ہے کہ ابھی بہت رات باقی ہے۔ پڑا سوتا رہ۔ لیکن اگر وہ شخص جاگ کر اللہ کا ذکر شروع کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز فجر پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور صبح کو خوش مزاج خوش دل رہتا ہے۔ ورنہ بدمزاج سست رہ کر وہ دن گزارتا ہے۔“
Narrated `Abdullah: It was mentioned before the Prophet that there was a man who slept the night till morning (after sunrise). The Prophet said, He is a man in whose ears (or ear) Satan had urinated.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حاضر خدمت تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا، جو رات بھر دن چڑھے تک پڑا سوتا رہا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایسا شخص ہے جس کے کان یا دونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, If anyone of you, when having sexual relation with his wife, say: 'In the name of Allah. O Allah! Protect us from Satan and prevent Satan from approaching our offspring you are going to give us,' and if he begets a child (as a result of that relation) Satan will not harm it.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے منصور نے ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آتا ہے اور یہ دعا پڑتا ہے «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا.» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! ہم سے شیطان کو دور رکھ اور جو کچھ ہمیں تو دے ( اولاد ) اس سے بھی شیطان کو دور رکھ۔“ پھر اگر ان کے یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, When the (upper) edge of the sun appears (in the morning), don't perform a prayer till the sun appears in full, and when the lower edge of the sun sets.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب سورج کا اوپر کا کنارہ نکل آئے تو نماز نہ پڑھو جب تک وہ پوری طرح ظاہر نہ ہو جائے اور جب غروب ہونے لگے تب بھی اس وقت تک کے لیے نماز چھوڑ دو جب تک بالکل غروب نہ ہو جائے۔“
Don't perform a prayer till it sets completely. And you should not seek to pray at sunrise or sunset for the sun rises between two sides of the head of the devil (or Satan).
اور نماز سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے وقت نہ پڑھو، کیونکہ سورج شیطان کے سر کے یا شیطانوں کے سر کے دونوں کونوں کے بیچ میں سے نکلتا ہے۔ عبدہ نے کہا میں نہیں جانتا ہشام نے شیطان کا سر کہا یا شیطانوں کا۔
Narrated Abu Said Al-Khudri: The Prophet said, If while you are praying, somebody intends to pass in front of you, prevent him; and should he insist, prevent him again; and if he insists again, fight with him (i.e. prevent him violently e.g. pushing him violently), because such a person is (like) a devil.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے حمید بن بلال نے، ان سے ابوصالح نے ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے نماز پڑھنے میں کسی شخص کے سامنے سے کوئی گزرے تو اسے گزرنے سے روکے، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکے اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے۔“
Narrated Muhammad bin Sirin: Abu Huraira said, Allah's Apostle put me in charge of the Zakat of Ramadan (i.e. Zakat-ul-Fitr). Someone came to me and started scooping some of the foodstuff of (Zakat) with both hands. I caught him and told him that I would take him to Allah's Apostle. Then Abu Huraira told the whole narration and added He (i.e. the thief) said, 'Whenever you go to your bed, recite the Verse of Al-Kursi (2.255) for then a guardian from Allah will be guarding you, and Satan will not approach you till dawn.' On that the Prophet said, He told you the truth, though he is a liar, and he (the thief) himself was the Satan.
اور عثمان بن ہیشم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صدقہ فطر کے غلہ کی حفاظت پر مجھے مقرر کیا، ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے غلہ لپ بھربھر کر لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ اب میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا۔ پھر انہوں نے آخر تک حدیث بیان کی، اس ( چور ) نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹنے لگو تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو، اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک نگہبان مقرر ہو جائے گا اور شیطان تمہارے قریب صبح تک نہ آ سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات تو اس نے سچی کہی ہے اگرچہ وہ خود جھوٹا ہے، وہ شیطان تھا۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Satan comes to one of you and says, 'Who created so-and-so? 'till he says, 'Who has created your Lord?' So, when he inspires such a question, one should seek refuge with Allah and give up such thoughts.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور تمہارے دل میں پہلے تو یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی، فلاں چیز کس نے پیدا کی؟ اور آخر میں بات یہاں تک پہنچاتا ہے کہ خود تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب کسی شخص کو ایسا وسوسہ ڈالے تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے، شیطانی خیال کو چھوڑ دے۔“
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, When the month of Ramadan comes, the gates of Paradise are opened and the gates of the (Hell) Fire are closed, and the devils are chained.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے تیمیین کے مولیٰ ابن ابی انس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں کس دیا جاتا ہے۔“
Narrated Ubai bin Ka`b: That he heard Allah's Apostle saying, (The prophet) Moses said to his attendant, Bring us our early meal' (18.62). The latter said, 'Did you remember when we betook ourselves to the rock? I indeed forgot the fish and none but Satan made me forget to remember it. (18.63) Moses did not feel tired till he had crossed the place which Allah ordered him to go to.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ( نوف بکالی کہتا ہے کہ خضر کے پاس جو موسیٰ گئے تھے وہ دوسرے موسیٰ تھے ) تو انہوں نے کہا کہ ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق سفر ( یوشع بن نون ) سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لا، اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ کو معلوم بھی ہے جب ہم نے چٹان پر پڑاؤ ڈالا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا ( اور اپنے ساتھ نہ لا سکا ) اور مجھے اسے یاد رکھنے سے صرف شیطان نے غافل رکھا اور موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکن معلوم نہیں کی جب تک اس حد سے نہ گزر لیے، جہاں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔
Narrated `Abdullah bin `Umar: I saw Allah's Apostle pointing towards the east saying, Lo! Afflictions will verily emerge hence; afflictions will verily emerge hence where the (side of the head of) Satan appears.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے تھے کہ ہاں! فتنہ اسی طرف سے نکلے گا جہاں سے شیطان کے سر کا کونا نکلتا ہے۔
Narrated `Abdullah bin `Umar: I saw Allah's Apostle pointing towards the east saying, Lo! Afflictions will verily emerge hence; afflictions will verily emerge hence where the (side of the head of) Satan appears.
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رات کا اندھیرا شروع ہونے پر یا رات شروع ہونے پر اپنے بچوں کو اپنے پاس ( گھر میں ) روک لو، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلنا شروع کرتے ہیں۔ پھر جب عشاء کے وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو ( چلیں پھریں ) پھر اللہ کا نام لے کر اپنا دروازہ بند کرو، اللہ کا نام لے کر اپنا چراغ بجھا دو، پانی کے برتن اللہ کا نام لے کر ڈھک دو، اور دوسرے برتن بھی اللہ کا نام لے کر ڈھک دو ( اور اگر ڈھکن نہ ہو ) تو درمیان میں ہی کوئی چیز رکھ دو۔“
Narrated Safiya bint Huyay: While Allah's Apostle was in I`tikaf, I called on him at night and having had a talk with him, I got up to depart. He got up also to accompany me to my dwelling place, which was then in the house of Usama bin Zaid. Two Ansari men passed by, and when they saw the Prophet they hastened away. The Prophet said (to them). Don't hurry! It is Safiya, the daughter of Huyay (i.e. my wife). They said, Glorified be Allah! O Allah's Apostle! (How dare we suspect you?) He said, Satan circulates in the human mind as blood circulates in it, and I was afraid that Satan might throw an evil thought (or something) into your hearts.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے اور ان سے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لیے ( مسجد میں ) آئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتی رہی، پھر جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا مکان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان ہی میں تھا۔ اسی وقت دو انصاری صحابہ ( اسید بن حضیر، عبادہ بن بشیر ) گزرے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیز چلنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، ذرا ٹھہر جاؤ یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا، سبحان اللہ: یا رسول اللہ! ( کیا ہم بھی آپ کے بارے میں کوئی شبہ کر سکتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ نہ ڈال دے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لفظ «سوء» کی جگہ ) لفظ «شيئا» فرمایا، معنی ایک ہی ہیں۔
Narrated Sulaiman bin Surd: While I was sitting in the company of the Prophet, two men abused each other and the face of one of them became red with anger, and his jugular veins swelled (i.e. he became furious). On that the Prophet said, I know a word, the saying of which will cause him to relax, if he does say it. If he says: 'I seek Refuge with Allah from Satan.' then all is anger will go away. Some body said to him, The Prophet has said, 'Seek refuge with Allah from Satan. ' The angry man said, Am I mad?
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور ( قریب ہی ) دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے کہ ایک شخص کا منہ سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ فرمایا «أعوذ بالله من الشيطان.» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان سے۔“ تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ لوگوں نے اس پر اس سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تمہیں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے، اس نے کہا، کیا میں کوئی دیوانہ ہوں۔
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, If anyone of you, on having sexual relation with his wife, says: 'O Allah! Protect me from Satan, and prevent Satan from approaching the offspring you are going to give me,' and if it happens that the lady conceives a child, Satan will neither harm it nor be given power over it.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص جب اپنی بیوی کے پاس جائے اور یہ دعا پڑھ لے۔ «اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتني.» ”اے اللہ! مجھے شیطان سے دور رکھ اور جو میری اولاد پیدا ہو، اسے بھی شیطان سے دو رکھ۔“ پھر اس صحبت سے اگر کوئی بچہ پیدا ہو تو شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور نہ اس پر تسلط قائم کر سکے گا۔ شعبہ نے بیان کیا اور ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسی ہی روایت کی۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet offered a prayer, and (after finishing) he said, Satan came in front of me trying persistently to divert my attention from the prayer, but Allah gave me the strength to over-power him.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آ گیا تھا اور نماز تڑوانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غالب کر دیا۔ پھر حدیث کو تفصیل کے ساتھ آخر تک بیان کیا۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, When the call for the prayer is pronounced, Satan takes to his heels, passing wind with noise, When the call for the prayer is finished, he comes back. And when the Iqama is pronounced, he again takes to his heels, and after its completion, he returns again to interfere between the (praying) person and his heart, saying to him. 'Remember this or that thing.' till the person forgets whether he has offered three or four rak`at: so if one forgets whether he has prayed three or four rak`at, he should perform two prostrations of Sahu (i.e. forgetfulness).
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان اپنی پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے۔ پھر جب تکبیر ہونے لگتی ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے اور آدمی کے دل میں وساوس ڈالنے لگتا ہے کہ فلاں بات یاد کر اور فلاں بات یاد کر، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ تین رکعت نماز پڑھی تھی یا چار رکعت، جب یہ یاد نہ رہے تو سہو کے دو سجدے کرے۔“
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, When any human being is born. Satan touches him at both sides of the body with his two fingers, except Jesus, the son of Mary, whom Satan tried to touch but failed, for he touched the placenta-cover instead.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شیطان ہر انسان کی پیدائش کے وقت اپنی انگلی سے اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے جب انہیں وہ کچوکے لگانے گیا تو پردے پر لگا آیا تھا ( جس کے اندر بچہ رہتا ہے۔ اس کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی، اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی اس حرکت سے محفوظ رکھا ) ۔“
Narrated Alqama: I went to Sham (and asked. Who is here? ), The people said, Abu Ad-Darda. Abu Darda said, Is the person whom Allah has protected against Satan, (as Allah's Apostle said) amongst you . The subnarrator, Mughira said that the person who was given Allah's Refuge through the tongue of the Prophet was `Ammar (bin Yasir).
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں شام پہنچا تو لوگوں نے کہا، ابودرداء آئے انہوں نے کہا، کیا تم لوگوں میں وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان پر ( یعنی آپ کے زمانے سے ) شیطان سے بچا رکھا ہے۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے یہی حدیث، اس میں یہ ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ میں لینے کا اعلان کیا تھا، آپ کی مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی۔