صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی

The book of the beginning of creation.

مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے ۔

(15) CHAPTER. The best property of a Muslim will be sheep he takes to pasture on the tops of mountains.

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكَ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ .

Narrated Abu Sa`id al-Khudri: Allah's Apostle said, There will come a time when the best property of a man will be sheep which he will graze on the tops of mountains and the places where rain falls (i.e. pastures) escaping to protect his religion from afflictions.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے، اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک زمانہ آئے گا جب مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں لے کر چلا جائے گا تاکہ اس طرح اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچا لے۔“

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ ، وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ .

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The main source of disbelief is in the east. Pride and arrogance are characteristics of the owners of horses and camels, and those bedouins who are busy with their camels and pay no attention to Religion; while modesty and gentleness are the characteristics of the owners of sheep.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے خبر دی، انہیں اعرج نے خبر دی، اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کفر کی چوٹی مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو ( عموماً ) گاؤں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے۔“

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : الْإِيمَانُ يَمَانٍ هَا هُنَا أَلَا إِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ .

Narrated `Uqba bin `Umar and Abu Mas`ud: Allah's Apostle pointed with his hand towards Yemen and said, True Belief is Yemenite yonder (i.e. the Yemenite, had True Belief and embraced Islam readily), but sternness and mercilessness are the qualities of those who are busy with their camels and pay no attention to the Religion where the two sides of the head of Satan will appear. Such qualities belong to the tribe of Rabi`a and Mudar.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ مجھ سے قیس نے بیان کیا اور ان سے عقبہ بن عمرو ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے یمن میں! ہاں، اور قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں۔ جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی، یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا .

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, When you hear the crowing of cocks, ask for Allah's Blessings for (their crowing indicates that) they have seen an angel. And when you hear the braying of donkeys, seek Refuge with Allah from Satan for (their braying indicates) that they have seen a Satan.

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔“

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحَلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَ مَا أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ وَلَمْ يَذْكُرْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ .

Narrated Jabir bin `Abdullah: Allah's Apostle said, When night falls (or it is evening), keep your children close to you for the devils spread out at that time. But when an hour of the night elapses, you can let them free. Close the doors and mention the Name of Allah, for Satan does not open a closed door.

ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب رات کا اندھیرا شروع ہو یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) جب شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لیا کرو، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلتے ہیں۔ البتہ جب ایک گھڑی رات گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر لو، کیوں کے شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھول سکتا، ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بالکل اسی طرح حدیث سنی تھی جس طرح مجھے عطاء نے خبر دی تھی، البتہ انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ ”اللہ کا نام لو۔“

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ وَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَارَ إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْ ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْ فَحَدَّثْتُ كَعْبًا ، فَقَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : لِي مِرَارًا ، فَقُلْتُ : أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ .

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, A group of Israelites were lost. Nobody knows what they did. But I do not see them except that they were cursed and changed into rats, for if you put the milk of a she-camel in front of a rat, it will not drink it, but if the milk of a sheep is put in front of it, it will drink it. I told this to Ka`b who asked me, Did you hear it from the Prophet ? I said, Yes. Ka`b asked me the same question several times.; I said to Ka`b. Do I read the Torah? (i.e. I tell you this from the Prophet.)

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے، ان سے خالد نے ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے۔ ( ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں ) میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کر دیا گیا۔ کیونکہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے ( کیونکہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا ) اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں۔ پھر میں نے یہ حدیث کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے ( حیرت سے ) پوچھا، کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث سنی ہے؟ کئی مرتبہ انہوں نے یہ سوال کیا۔ اس پر میں نے کہا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تو پھر کس سے ) کیا میں توراۃ پڑھا کرتا ہوں؟ ( کہ اس سے نقل کر کے بیان کرتا ہوں ) ۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ وَهْب ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَزَعَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ .

Narrated Aisha: The Prophet called the Salamander, a mischief-doer. I have not heard him ordering that it should be killed. Sa`d bin Waqqas claims that the Prophet ordered that it should be killed.

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ ( چھپکلی ) کے متعلق فرمایا کہ وہ موذی جانور ہے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مار ڈالنے کا حکم نہیں سنا تھا اور سعد بن ابی وقاص بتاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ .

Narrated Um Sharik: That the Prophet ordered her to kill Salamanders.

ہم سے صدقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ام شریک رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ .

Narrated `Aisha: The Prophet said, Kill the snake with two white lines on its back, for it blinds the on-looker and causes abortion.

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس سانپ کے سر پر دو نقطے ہوتے ہیں، انہیں مار ڈالا کرو، کیونکہ وہ اندھا بنا دیتے ہیں اور حمل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔“ ابواسامہ کے ساتھ اس کو حماد بن سلمہ نے بھی روایت کیا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ يُصِيبُ الْبَصَرَ وَيُذْهِبُ الْحَبَلَ .

Narrated `Aisha: The Prophet ordered that a short-tailed or mutilated-tailed snake (i.e. Abtar) should be killed, for it blinds the on-looker and causes abortion.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم بریدہ سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور حمل کو ساقط کر دیتا ہے۔

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ ثُمَّ نَهَى ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَمَ حَائِطًا لَهُ فَوَجَدَ فِيهِ سِلْخَ حَيَّةٍ ، فَقَالَ : انْظُرُوا أَيْنَ هُوَ فَنَظَرُوا ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ فَكُنْتُ أَقْتُلُهَا لِذَلِكَ .

Narrated Abu Mulaika: Ibn `Umar used to kill snakes, but afterwards he forbade their killing and said, Once the Prophet pulled down a wall and saw a cast-off skin of a snake in it. He said, 'Look for the snake. 'They found it and the Prophet said, Kill it. For this reason I used to kill snakes.

ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابویونس قشیری (حاتم بن ابی صغیرہ) نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو پہلے مار ڈالا کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں مارنے سے خود ہی منع کرنے لگے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سے ایک سانپ کی کینچلی نکلی، آپ نے فرمایا کہ دیکھو، وہ سانپ کہاں ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا ( اور وہ مل گیا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو، میں بھی اسی وجہ سے سانپوں کو مار ڈالا کرتا تھا۔

فَلَقِيتُ أَبَا لُبَابَةَفَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقْتُلُوا الْجِنَّانَ إِلَّا كُلَّ أَبْتَرَ ذِي طُفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يُسْقِطُ الْوَلَدَ وَيُذْهِبُ الْبَصَرَ فَاقْتُلُوهُ .

Later on I met Abu Lubaba who told me the Prophet said, 'Do not kill snakes except the short-tailed or mutilated-tailed snake with two white lines on its back, for it causes abortion and makes one blind. So kill it.'

پھر میری ملاقات ایک دن ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارا کرو۔ البتہ دم کٹے ہوئے سانپ کو جس پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں اس کو مار ڈالو، کیونکہ یہ اتنا زہریلا ہے کہ حاملہ کے حمل کو گرا دیتا ہے اور آدمی کو اندھا بنا دیتا ہے۔“

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ .

Narrated Nafi`: Ibn `Umar used to kill snakes.

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو مار ڈالا کرتے تھے۔

فَحَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ فَأَمْسَكَ عَنْهَا .

But when Abu Lubaba informed him that the Prophet had forbidden the killing of snakes living in houses, he gave up killing them.

پھر ان سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے پتلے یا سفید سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو انہوں نے مارنا چھوڑ دیا۔