TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of the stories of the prophets. - کتاب انبیاء علیہم السلام کے بیان میں - Book 61 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 61 of Sahih Bukhari, with 42 chapters and 163 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

163 Hadith · 42 Chapters
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: “And to Dawud (David) We gave Sulaiman (Solomon). How excellent (a) slave! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us). (V.38:30)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ تَقَعُ فِي النَّارِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, My example and the example o the people is like that of a person who lit a fire and let the moths, butterflies and these insects fall in it.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور تمام انسانوں کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔“
3426
Sahih
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: “And to Dawud (David) We gave Sulaiman (Solomon). How excellent (a) slave! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us). (V.38:30)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ۔
وَقَالَ : كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَتْ : صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ ، وَقَالَتْ : الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَتْ : الصُّغْرَى لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةُ .
He also said, There were two women, each of whom had a child with her. A wolf came and took away the child of one of them, whereupon the other said, 'It has taken your child.' The first said, 'But it has taken your child.' So they both carried the case before David who judged that the living child be given to the elder lady. So both of them went to Solomon bin David and informed him (of the case). He said, 'Bring me a knife so as to cut the child into two pieces and distribute it between them.' The younger lady said, 'May Allah be merciful to you! Don't do that, for it is her (i.e. the other lady's) child.' So he gave the child to the younger lady.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو عورتیں تھیں اور دونوں کے ساتھ دونوں کے بچے تھے۔ اتنے میں ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو اٹھا لے گیا۔ ان دونوں میں سے ایک عورت نے کہا بھیڑیا تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے اور دوسری نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے۔ دونوں داؤد علیہ السلام کے یہاں اپنا مقدمہ لے گئیں۔ آپ نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ اس کے بعد وہ دونوں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے یہاں آئیں اور انہیں اس جھگڑے کی خبر دی۔ انہوں نے فرمایا کہ اچھا چھری لاؤ۔ اس بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان بانٹ دوں۔ چھوٹی عورت نے یہ سن کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے ایسا نہ کیجئے، میں نے مان لیا کہ اسی بڑی کا لڑکا ہے۔ اس پر سلیمان علیہ السلام نے اس چھوٹی کے حق میں فیصلہ کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے «سكين» کا لفظ اسی دن سنا، ورنہ ہم ہمیشہ ( چھری کے لیے ) «مدية‏.» کا لفظ بولا کرتے تھے۔
3427
Sahih
(41) CHAPTER. The Statement of Allah: “And indeed We bestowed upon Luqman Al-Hikmah (wisdom and religious understanding) (up to) a great Zulm (wrong) indeed.” (V.31:12,13)
حضرت لقمان کا بیان اور سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 ، قَالَ : أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَنَزَلَتْ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 .
Narrated `Abdullah: When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong. was revealed, the companions of the Prophet said, Who amongst us has not mixed his belief with wrong? Then Allah revealed: Join none in worship with Allah, Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم‏» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنے ایمان میں ظلم نہیں کیا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ بیشک شرک ہی ظلم عظیم ہے۔“
3428
Sahih
(41) CHAPTER. The Statement of Allah: “And indeed We bestowed upon Luqman Al-Hikmah (wisdom and religious understanding) (up to) a great Zulm (wrong) indeed.” (V.31:12,13)
حضرت لقمان کا بیان اور سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا ، قَالَ : لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 .
Narrated `Abdullah: When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong.' was revealed, the Muslims felt it very hard on them and said, O Allah's Apostle! Who amongst us does not do wrong to himself? He replied, The Verse does not mean this. But that (wrong) means to associate others in worship to Allah: Don't you listen to what Luqman said to his son when he was advising him, O my son! Join not others in worship with Allah. Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed. (31.13)
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم‏» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
3429
Sahih
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “(This is) a mention of the mercy of your Lord to His slave Zakariya (Zachariah)... (up to) We have given that name to none before (him)”. (V.19:2-7)
حضرت زکریا علیہ السلام کا بیان ۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ، قَالَ جِبْرِيلُ : قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : نَعَمْ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ ، قَالَ : هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ ، قَالَا : مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ .
Narrated Malik bin Sasaa: That the Prophet talked to them about the night of his Ascension to the Heavens. He said, (Then Gabriel took me) and ascended up till he reached the second heaven where he asked for the gate to be opened, but it was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'I am Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' He replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' He said, 'Yes.' When we reached over the second heaven, I saw Yahya (i.e. John) and Jesus who were cousins. Gabriel said, 'These are John (Yahya) and Jesus, so greet them.' I greeted them and they returned the greeting saying, 'Welcome, O Pious Brother and Pious Prophet!;'
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کے متعلق بیان فرمایا کہ پھر آپ اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر تشریف لے گئے۔ پھر دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ پوچھا گیا: کون ہیں؟ کہا کہ جبرائیل علیہ السلام۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا گیا: کیا انہیں لانے کے لیے بھیجا، کہا کہ جی ہاں۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام وہاں موجود تھے۔ یہ دونوں نبی آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا، دونوں نے جواب دیا اور کہا خوش آمدید نیک بھائی اور نیک نبی۔
3430
Sahih
(44) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h), the story of) Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family to a place facing east. (V.19:16).
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا ثُمَّ ، يَقُولُ :أَبُو هُرَيْرَةَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سورة آل عمران آية 36 .
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab: Abu Huraira said, I heard Allah's Apostle saying, 'There is none born among the off-spring of Adam, but Satan touches it. A child therefore, cries loudly at the time of birth because of the touch of Satan, except Mary and her child. Then Abu Huraira recited: And I seek refuge with You for her and for her offspring from the outcast Satan (3.36)
ہم سے ابولیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر ایک بنی آدم جب پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے اور بچہ شیطان کے چھونے سے زور سے چیختا ہے۔ سوائے مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہما السلام کے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( اس کی وجہ مریم علیہما السلام کی والدہ کی دعا ہے کہ اے اللہ! ) میں اسے ( مریم کو ) اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
3431
Sahih
(45) CHAPTER. “And (remember) when the angels said: ‘O Maryam (Mary)! Verily, Allah has chosen you... (up to)... As to which of them should be charged with the care of Maryam (Mary)... (V.3:42-44)
اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ، اور ( وہ وقت یاد کر ) جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بیشک اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ .
Narrated `Ali: I heard the Prophet saying, Mary, the daughter of `Imran, was the best among the women (of the world of her time) and Khadija is the best amongst the women. (of this nation).
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، ان سے ہشام، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا، کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مریم بنت عمران ( اپنے زمانہ میں ) سب سے بہترین خاتون تھیں اور اس امت کی سب سے بہترین خاتون خدیجہ ہیں ( رضی اللہ عنہا ) ۔
3432
Sahih
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when the angels said: O Maryam (Mary)! Verily, Allah gives you glad tidings of a Word [Be! - and he was! i.e., Isa (Jesus) the son of Maryam] frm Him, his name will be Messiah Isa, the son of Maryam... (up to)... Be! - and it is. (V.3:45:47)
اللہ پاک کا سورۃ آل عمران میں فرمانا جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ .
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari: The Prophet said, The superiority of `Aisha to other ladies is like the superiority of Tharid (i.e. meat and bread dish) to other meals. Many men reached the level of perfection, but no woman reached such a level except Mary, the daughter of `Imran and Asia, the wife of Pharaoh.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، انہوں نے کہا ہم کہ میں نے مرہ ہمدانی سے سنا۔ وہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی۔ مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی۔“
3433
Sahih
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when the angels said: O Maryam (Mary)! Verily, Allah gives you glad tidings of a Word [Be! - and he was! i.e., Isa (Jesus) the son of Maryam] frm Him, his name will be Messiah Isa, the son of Maryam... (up to)... Be! - and it is. (V.3:45:47)
اللہ پاک کا سورۃ آل عمران میں فرمانا جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! ۔
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ ، تَابَعَهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, Amongst all those women who ride camels (i.e. Arabs), the ladies of Quraish are the best. They are merciful and kind to their off-spring and the best guardians of their husbands' properties.' Abu Huraira added, Mary the daughter of `Imran never rode a camel.
اور ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والیوں ( عربی خواتین ) میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں۔ اپنے بچے پر سب سے زیادہ محبت و شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی سب سے بہتر نگراں و محافظ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے تھے کہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی تھیں۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو زہری کے بھتیجے اور اسحاق کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
3434
Sahih
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “O people of the Scriptures (Jews and Christians)! Do not exceed the limits in your religion... (up to )... as a Disposer of affairs. (V.4:171)
اللہ پاک کا سورۃ النساء میں فرمانا اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو ( سختی اور تشدد ) نہ کرو ۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ ، قَالَ الْوَلِيدُ : حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنَادَةَ وَزَادَ : مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَيَّهَا شَاءَ .
Narrated 'Ubada: The Prophet said, If anyone testifies that None has the right to be worshipped but Allah Alone Who has no partners, and that Muhammad is His Slave and His Apostle, and that Jesus is Allah's Slave and His Apostle and His Word which He bestowed on Mary and a Spirit created by Him, and that Paradise is true, and Hell is true, Allah will admit him into Paradise with the deeds which he had done even if those deeds were few. (Junada, the sub-narrator said, 'Ubada added, 'Such a person can enter Paradise through any of its eight gates he likes. )
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا اور ان سے عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ وحدہ لا شریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جسے پہنچا دیا تھا اللہ نے مریم تک اور ایک روح ہیں اس کی طرف سے اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اس نے جو بھی عمل کیا ہو گا ( آخر ) اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ ولید نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن جابر نے بیان کیا، ان سے عمیر نے اور جنادہ نے اور اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ( ایسا شخص ) جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے ( داخل ہو گا ) ۔
3435
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى وَكَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ ، يُقَالُ لَهُ : جُرَيْجٌ كَانَ يُصَلِّي جَاءَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ ، فَقَالَ : أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُومِسَاتِ وَكَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ وَكَلَّمَتْهُ فَأَبَى فَأَتَتْ رَاعِيًا فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالَتْ : مِنْجُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَكَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ وَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أَتَى الْغُلَامَ ، فَقَالَ : مَنْ أَبُوكَ يَا غُلَامُ ، قَالَ : الرَّاعِي ، قَالُوا : نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : لَا إِلَّا مِنْ طِينٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهُ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهَا يَمَصُّهُ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَصُّ إِصْبَعَهُ ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ : لِمَ ذَاكَ ، فَقَالَ : الرَّاكِبُ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَهَذِهِ الْأَمَةُ يَقُولُونَ سَرَقْتِ زَنَيْتِ وَلَمْ تَفْعَلْ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, None spoke in cradle but three: (The first was) Jesus, (the second was), there a man from Bani Israel called Juraij. While he was offering his prayers, his mother came and called him. He said (to himself), 'Shall I answer her or keep on praying? (He went on praying) and did not answer her, his mother said, O Allah! Do not let him die till he sees the faces of prostitutes. So while he was in his hermitage, a lady came and sought to seduce him, but he refused. So she went to a shepherd and presented herself to him to commit illegal sexual intercourse with her and then later she gave birth to a child and claimed that it belonged to Juraij. The people, therefore, came to him and dismantled his hermitage and expelled him out of it and abused him. Juraij performed the ablution and offered prayer, and then came to the child and said, 'O child! Who is your father?' The child replied, 'The shepherd.' (After hearing this) the people said, 'We shall rebuild your hermitage of gold,' but he said, 'No, of nothing but mud.'(The third was the hero of the following story) A lady from Bani Israel was nursing her child at her breast when a handsome rider passed by her. She said, 'O Allah ! Make my child like him.' On that the child left her breast, and facing the rider said, 'O Allah! Do not make me like him.' The child then started to suck her breast again. (Abu Huraira further said, As if I were now looking at the Prophet sucking his finger (in way of demonstration. ) After a while the people passed by, with a lady slave and she (i.e. the child's mother) said, 'O Allah! Do not make my child like this (slave girl)!, On that the child left her breast and said, 'O Allah! Make me like her.' When she asked why, the child replied, 'The rider is one of the tyrants while this slave girl is falsely accused of theft and illegal sexual intercourse.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گود میں تین بچوں کے سوا اور کسی نے بات نہیں کی۔ اول عیسیٰ علیہ السلام ( دوسرے کا واقعہ یہ ہے کہ ) بنی اسرائیل میں ایک بزرگ تھے، نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی ماں نے انہیں پکارا۔ انہوں نے۔ ( اپنے دل میں ) کہا کہ میں والدہ کا جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں؟ اس پر ان کی والدہ نے ( غصہ ہو کر ) بددعا کی: اے اللہ! اس وقت تک اسے موت نہ آئے جب تک یہ زانیہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے سامنے ایک فاحشہ عورت آئی اور ان سے بدکاری چاہی لیکن انہوں نے ( اس کی خواہش پوری کرنے سے ) انکار کیا۔ پھر ایک چرواہے کے پاس آئی اور اسے اپنے اوپر قابو دے دیا اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ اور اس نے ان پر یہ تہمت دھری کہ یہ جریج کا بچہ ہے۔ ان کی قوم کے لوگ آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا، انہیں نیچے اتار کر لائے اور انہیں گالیاں دیں۔ پھر انہوں نے وضو کر کے نماز پڑھی، اس کے بعد بچے کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے؟ بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ چرواہا ہے اس پر ( ان کی قوم شرمندہ ہوئی اور ) کہا ہم آپ کا عبادت خانہ سونے کا بنائیں گے۔ لیکن انہوں نے کہا ہرگز نہیں، مٹی ہی کا بنے گا ( تیسرا واقعہ ) اور ایک بنی اسرائیل کی عورت تھی، اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ قریب سے ایک سوار نہایت عزت والا اور خوش پوش گزرا۔ اس عورت نے دعا کی: اے اللہ! میرے بچے کو بھی اسی جیسا بنا دے لیکن بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر اس کے سینے سے لگ کر دودھ پینے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے میں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی چوس رہے ہیں ( بچے کے دودھ پینے کی کیفیت بتلاتے وقت ) پھر ایک باندی اس کے قریب سے لے جائی گئی ( جسے اس کے مالک مار رہے تھے ) تو اس عورت نے دعا کی کہ اے اللہ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا۔ بچے نے پھر اس کا پستان چھوڑ دیا اور کہا کہ اے اللہ! مجھے اسی جیسا بنا دے۔ اس عورت نے پوچھا۔ ایسا تو کیوں کہہ رہا ہے؟ بچے نے کہا کہ وہ سوار ظالموں میں سے ایک ظالم شخص تھا اور اس باندی سے لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے چوری کی اور زنا کیا حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
3436
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ لَقِيتُ مُوسَى ، قَالَ : فَنَعَتَهُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ ، قَالَ : مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، قَالَ : وَلَقِيتُ عِيسَى فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ ، قَالَ : وَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالْآخَرُ فِيهِ خَمْرٌ ، فَقِيلَ لِي : خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ ، فَقِيلَ لِي : هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ .
Narrated Hisham: From Ma`mar as below. Narrated Abu Huraira: The Prophet said, I met Moses on the night of my Ascension to heaven. The Prophet then described him saying, as I think, He was a tall person with lank hair as if he belonged to the people of the tribe of Shanu's.' The Prophet further said, I met Jesus. The Prophet described him saying, He was one of moderate height and was red-faced as if he had just come out of a bathroom. I saw Abraham whom I resembled more than any of his children did. The Prophet further said, (That night) I was given two cups; one full of milk and the other full of wine. I was asked to take either of them which I liked, and I took the milk and drank it. On that it was said to me, 'You have taken the right path (religion). If you had taken the wine, your (Muslim) nation would have gone astray.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے (دوسری سند) مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس رات میری معراج ہوئی، میں نے موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کیا وہ.... میرا خیال ہے کہ معمر نے کہا.... دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ نے بیان کیا کہ میں نے عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حلیہ بیان فرمایا کہ درمیانہ قد اور سرخ و سپید تھے، جیسے ابھی ابھی غسل خانے سے باہر آئے ہوں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملاقات کی تھی اور میں ان کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ مجھ سے کہا گیا کہ جو آپ کا جی چاہے لے لو۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا اور پی لیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ فطرت کی آپ نے راہ پا لی، یا فطرت کو آپ نے پا لیا۔ اس کے بجائے اگر آپ شراب کا برتن لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
3437
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ عِيسَى ومُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ ، وَأَمَّا مُوسَى فَآدَمُ جَسِيمٌ سَبْطٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, I saw Moses, Jesus and Abraham (on the night of my Ascension to the heavens). Jesus was of red complexion, curly hair and a broad chest. Moses was of brown complexion, straight hair and tall stature as if he was from the people of Az-Zutt.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، کہا ہم کو عثمان بن مغیرہ نے خبر دی، انہیں مجاہد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نہایت سرخ گھونگھریالے بال والے اور چوڑے سینے والے تھے اور موسیٰ علیہ السلام گندم گوں دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے کوئی قبیلہ زط کا آدمی ہو۔“
3438
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَيِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ .
Narrated `Abdullah: The Prophet mentioned the Masih Ad-Dajjal in front of the people saying, Allah is not one-eyed while Masih Ad-Dajjal is blind in the right eye and his eye looks like a bulging out grape.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے، لیکن دجال داہنی آنکھ سے کانا ہو گا، اس کی آنکھ اٹھے ہوئے انگور کی طرح ہو گی۔
3439
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
وَأَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا يُرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعَرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ، فَقَالُوا : هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلًا وَرَاءَهُ جَعْدًا قَطِطًا أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ، قَالُوا : الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ، تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ .
While sleeping near the Ka`ba last night, I saw in my dream a man of brown color the best one can see amongst brown color and his hair was long that it fell between his shoulders. His hair was lank and water was dribbling from his head and he was placing his hands on the shoulders of two men while circumambulating the Ka`ba. I asked, 'Who is this?' They replied, 'This is Jesus, son of Mary.' Behind him I saw a man who had very curly hair and was blind in the right eye, resembling Ibn Qatan (i.e. an infidel) in appearance. He was placing his hands on the shoulders of a person while performing Tawaf around the Ka`ba. I asked, 'Who is this? 'They replied, 'The Masih, Ad-Dajjal.'
اور میں نے رات کعبہ کے پاس خواب میں ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا جو گندمی رنگ کے آدمیوں میں شکل کے اعتبار سے سب سے زیادہ حسین و جمیل تھا۔ اس کے سر کے بال شانوں تک لٹک رہے تھے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے شانوں پر رکھے ہوئے وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ مسیح ابن مریم ہیں۔ اس کے بعد میں نے ایک شخص کو دیکھا، سخت اور مڑے ہوئے بالوں والا جو داہنی آنکھ سے کانا تھا۔ اسے میں نے ابن قطن سے سب سے زیادہ شکل میں ملتا ہوا پایا، وہ بھی ایک شخص کے شانوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا، یہ کون ہیں؟ فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے نافع سے کی ہے۔
3440
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ مَا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِعِيسَى أَحْمَرُ وَلَكِنْ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ، قَالُوا : ابْنُ مَرْيَمَ فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ، قَالُوا : هَذَا الدَّجَّالُ وَأَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ : رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ هَلَكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
Narrated Salim from his father: No, By Allah, the Prophet did not tell that Jesus was of red complexion but said, While I was asleep circumambulating the Ka`ba (in my dream), suddenly I saw a man of brown complexion and lank hair walking between two men, and water was dropping from his head. I asked, 'Who is this?' The people said, 'He is the son of Mary.' Then I looked behind and I saw a red-complexioned, fat, curly-haired man, blind in the right eye which looked like a bulging out grape. I asked, 'Who is this?' They replied, 'He is Ad-Dajjal.' The one who resembled to him among the people, was Ibn Qatar. (Az-Zuhri said, He (i.e. Ibn Qatan) was a man from the tribe Khuza`a who died in the pre-lslamic period. )
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا، کہا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ سرخ تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اپنے کو دیکھا، اس وقت مجھے ایک صاحب نظر آئے جو گندمی رنگ لٹکے ہوئے بال والے تھے، دو آدمیوں کے درمیان ان کا سہارا لیے ہوئے اور سر سے پانی صاف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ ابن مریم علیہما السلام ہیں۔ اس پر میں نے انہیں غور سے دیکھا تو مجھے ایک اور شخص بھی دکھائی دیا جو سرخ، موٹا، سر کے بال مڑے ہوئے اور داہنی آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے اٹھا ہوا انار ہو، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس سے شکل و صورت میں ابن قطن بہت زیادہ مشابہ تھا۔ زہری نے کہا کہ یہ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا جو جاہلیت کے زمانہ میں مر گیا تھا۔
3441
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ وَالْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ .
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, I am the nearest of all the people to the son of Mary, and all the prophets are paternal brothers, and there has been no prophet between me and him (i.e. Jesus).
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں ابن مریم علیہما السلام سے دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قریب ہوں، انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں اور میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔
3442
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Both in this world and in the Hereafter, I am the nearest of all the people to Jesus, the son of Mary. The prophets are paternal brothers; their mothers are different, but their religion is one.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں ( کی طرح ) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے۔“ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
3443
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ ، فَقَالَ لَهُ : أَسَرَقْتَ ، قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، فَقَالَ عِيسَى : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ عَيْنِي .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Jesus, seeing a man stealing, asked him, 'Did you steal?, He said, 'No, by Allah, except Whom there is None who has the right to be worshipped' Jesus said, 'I believe in Allah and suspect my eyes.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا پھر اس سے دریافت فرمایا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور میری آنکھوں کو دھوکا ہوا۔“
3444
Sahih
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ .
Narrated `Umar: I heard the Prophet saying, Do not exaggerate in praising me as the Christians praised the son of Mary, for I am only a Slave. So, call me the Slave of Allah and His Apostle.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا تھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
3445
Sahih

Chapters

42
01
(1b) CHAPTER.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا ، اے رسول ! وہ وقت یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک ( قوم کو ) جانشین بنانے والا ہوں ۔
10 Hadith
02
(2) CHAPTER. Souls are like recruited troops.
روحوں کے جتھے ہیں جھنڈ کے جھنڈ ۔
1 Hadith
03
(3b) CHAPTER.
سورۃ نوح میں اللہ کا یہ فرمانا ۔
5 Hadith
04
(5) CHAPTER. The reference to Idris. He was Nuh's (Noah) great-grandfather, and it is said that he was Nuh's grandfather. The Statement of Allah: We raised him (i.e., Idris) to a high station . (V.19:57)
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ۔
1 Hadith
05
(6b) And also the Statement of Allah: And as for Ad, they were destroyed by a furious violent wind!
( اور سورۃ الحاقہ میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
3 Hadith
06
(7) CHAPTER. The story of Gog and Magog.
یاجوج و ماجوج کا بیان ۔
3 Hadith
07
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And Allah did take Ibrahim (Abraham) as a Khalil (an intimate friend). (V.4:125)
( سورۃ نساء میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ ۔
12 Hadith
08
(9) CHAPTER.
سورۃ الصافات میں جو لفظ یزفون وارد ہوا ہے ، اس کے معنی ہیں دوڑ کر چلے ۔
5 Hadith
09
(10) CHAPTER.
باب
32 Hadith
10
(11) CHAPTER. Allah's Statement: “And tell them about the guests (the angels) of Ibrahim (Abraham).” (V.15:51).
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر میں فرمایا ‘ اے پیغمبر ! ان لوگوں کو ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا قصہ سنائیے ۔
1 Hadith
11
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Qur'an) Ismail (Ishmael) : Verily! He was true to what he promised...” (V.19:54)
( حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بیان ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور یاد کرو اسماعیل کو کتاب میں بیشک وہ وعدے کے سچے تھے ۔ “
1 Hadith
12
(14) CHAPTER.
حضرت یعقوب علیہ السلام کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ ” کیا تم لوگ اس وقت موجو دتھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت حاضر ہوئی ۔ آخر آیت ونحن لہ مسلمون تک ۔
1 Hadith
13
(15) CHAPTER. “And (remember) Lout (Lot)! When he said to his people, Do you commit Al-Fahishah (evil, great sins, every kind of unlawful sexual intercourse, sodomy) (up to) so, evil was the rain of those who were warned. (V.27:54-58)
( حضرت لوط علیہ السلام کا بیان ) اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ النمل میں فرمانا کہ ۔
1 Hadith
14
(16) CHAPTER. “Then, when the messengers (the angels) came unto the family of Lout, he said, 'Verily you are people unknown to me.' ” (V.15:61,62)
( سورۃ الحجر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) ۔
1 Hadith
15
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “And to Thamud (people, We sent) their brother Salih...” (V.7:73).
( قوم ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کا بیان ) ۔
5 Hadith
16
(18) CHAPTER. Or were you witnesses when death approached Yaqub (Jacob)?... (V.2:133)
حضرت یعقوب علیہ السلام کا بیان ‘ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا کہ کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب علیہ السلام کی موت حاضر ہوئی ۔
1 Hadith
17
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, in Yasuf (Joseph) and his brethren there were Ayat (proofs, evidences, verses, lessons, signs, revelation, etc.) for those who ask. (V.12:7)
( حضرت یوسف علیہ السلام کا بیان ) اللہ پاک نے فرمایا کہ بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں پوچھنے والوں کیلئے قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں ۔
8 Hadith
18
(20) CHAPTER. The Statement of Allah: “And Ayyub, when he cried to his Lord: 'Verily, distress has seized me, and You are the Most Mercifull of all those who show mercy.' ”(V.21:83)
( سورۃ انبیاء میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔
1 Hadith
19
(22) CHAPTER: And a believing man of Firaun's (Pharaoh) family, who hid his faith said.. (up to).. A Musrif (a polytheist, or a murderer who shed blood without a right, or those who commit great sins, oppressor, transgressor), a liar! (V.40:28)
( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد ( شمعان نامی ) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مسرف کذاب تک ۔
1 Hadith
20
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: And has there come to you the story of Musa (Moses)? When he saw a fire.. (up to ).. in the acred vally, Tuwa. (V.20:9-12)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ طہٰ ) میں فرمانا ۔
1 Hadith
21
(24) CHAPTER: The Statement of Allah: Has there come to you the story of Musa (Moses)? (V.79:15) And Allah's Statement: ...And to Moses Allah spoke directly. (V.4:164)
( سورۃ طہٰ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان اور کیا تجھ کو موسیٰ کا واقعہ معلوم ہوا ہے اور ( سورۃ نساء میں ) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا ۔
4 Hadith
22
(25) CHAPTER. The Statement of Allah: “And We appointed for Musa (Moses) thirty nights... (up to)... And I am the first of the believers' (V.7:142,143)
سورۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ۔
2 Hadith
23
(27) CHAPTER. The story of Al-Khidr with Musa (Moses).
حضرت خضراور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات ۔
3 Hadith
24
(29) CHAPTER. Allah's Statement: “...And they came upon a people devoted to some of their idols (in worship)...” (V.7:138)
اللہ پاک کا ( سورۃ الاعراف میں ) فرمانا کہ ۔
1 Hadith
25
(31) CHAPTER. The death of Musa (Moses) and his remembrance after his death.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ان کے بعد کے حالات کا بیان ۔
4 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Statement of Allah: “And Allah has set forth an example for those who believe, the wife of Firaun (Pharaoh)... (up to)... and she was of the Qanitin (i.e., obedient to Allah).” (V.66:11,12)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اورایمان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ فرعون کی بیوی کی مثال بیان کرتا ہے “ ۔
1 Hadith
27
(35) CHAPTER: The Statement of Allah: “And verily, Yunus 9Jonah) was one of the Messengers... (up to)... And he had done an act worthy of blame. (V.37:139-148)
حضرت یونس علیہ السلام کا بیان ۔
5 Hadith
28
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “And to David We gave the Zabur (Psalms)... (V.4:163) .
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور دی ہم نے داود علیہ السلام کو زبور “ ۔
3 Hadith
29
(38) CHAPTER. The most beloved Salat (prayer) to Allah was the SaIat (prayer) of (the Prophet) Dawud (David).
حضرت داؤد علیہ السلام کا بیان ۔
1 Hadith
30
(39) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And remember Our slave Dawud (David), endued with power. Verily, he was ever oft-returning in all matters and in repentance (toward Allah)... (up to)... And sound judgement in speech and decision. (V.38:17-20)
اللہ پاک کا سورۃ ص میں فرمانا ‘ ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر ‘ وہ خدا کی طرف رجوع ہونے والا تھا ۔
2 Hadith
31
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: “And to Dawud (David) We gave Sulaiman (Solomon). How excellent (a) slave! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us). (V.38:30)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ۔
5 Hadith
32
(41) CHAPTER. The Statement of Allah: “And indeed We bestowed upon Luqman Al-Hikmah (wisdom and religious understanding) (up to) a great Zulm (wrong) indeed.” (V.31:12,13)
حضرت لقمان کا بیان اور سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
2 Hadith
33
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “(This is) a mention of the mercy of your Lord to His slave Zakariya (Zachariah)... (up to) We have given that name to none before (him)”. (V.19:2-7)
حضرت زکریا علیہ السلام کا بیان ۔
1 Hadith
34
(44) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h), the story of) Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family to a place facing east. (V.19:16).
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کا بیان ۔
1 Hadith
35
(45) CHAPTER. “And (remember) when the angels said: ‘O Maryam (Mary)! Verily, Allah has chosen you... (up to)... As to which of them should be charged with the care of Maryam (Mary)... (V.3:42-44)
اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ، اور ( وہ وقت یاد کر ) جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بیشک اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا ہے ۔
1 Hadith
36
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when the angels said: O Maryam (Mary)! Verily, Allah gives you glad tidings of a Word [Be! - and he was! i.e., Isa (Jesus) the son of Maryam] frm Him, his name will be Messiah Isa, the son of Maryam... (up to)... Be! - and it is. (V.3:45:47)
اللہ پاک کا سورۃ آل عمران میں فرمانا جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! ۔
2 Hadith
37
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “O people of the Scriptures (Jews and Christians)! Do not exceed the limits in your religion... (up to )... as a Disposer of affairs. (V.4:171)
اللہ پاک کا سورۃ النساء میں فرمانا اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو ( سختی اور تشدد ) نہ کرو ۔
1 Hadith
38
(48) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h)) the story of Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family...” (V.19:16)
سورۃ مریم میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا ( اس ) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ۔
12 Hadith
39
(49) CHAPTER. The advent (descent) of Isa (Jesus), son of Maryam (Mary).
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا آسمان سے اترنا ۔
2 Hadith
40
(50) CHAPTER. What has been said about Bani Israel.
بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان ۔
14 Hadith
41
(51) CHAPTER. (The tale of three Israelites, a leper, a bald man and a blind man.
بنی اسرائیل کے ایک کوڑھی اور ایک نابینا اور ایک گنجے کا بیان ۔
1 Hadith
42
(53) CHAPTER. The tale of the cave.
غار والوں کا قصہ
1 Hadith
No chapter matched that.