صحیح بخاری

Sahih Bukhari

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت

The virtues and merits of the companions of the prophet.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا

(5) CHAPTER. The saying of the Prophet : “If I were to take a Khalil... .

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا جَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا , فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ , فَنَزَعَ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ، قَالَ وَهْبٌ : الْعَطَنُ مَبْرَكُ الْإِبِلِ ، يَقُولُ : حَتَّى رَوِيَتِ الْإِبِلُ فَأَنَاخَتْ .

Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said. While (in a dream), I was standing by a well, drawing water from it. Abu Bakr and `Umar came to me. Abu Bakr took the bucket (from me) and drew one or two buckets of water, and there was some weakness in his drawing. May Allah forgive him. Then Ibn Al-Khattab took the bucket from Abu Bakr, and the bucket turned into a very large one in his hands. I had never seen such a mighty person amongst the people as him in performing such hard work. He drew so much water that the people drank to their satisfaction and watered their camels. (Wahab, a sub-narrator said, till their camels drank and knelt down. )

مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے صخر نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک کنویں پر ( خواب میں ) کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابوبکر اور عمر بھی پہنچ گئے۔ پھر ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں ضعف تھا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے گا۔ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے ڈول عمر نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ایک بہت بڑے ڈول کی شکل میں ہو گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا اور بہادر انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور مضبوط قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اونٹوں کے پانی پلانے کی جگہیں بھر لیں، وہب نے بیان کیا کہ «العطن» اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں، عرب لوگ بولتے ہیں، اونٹ سیراب ہوئے کہ ( وہیں ) بیٹھ گئے۔

حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوْا اللَّهَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى مَنْكِبِي ، يَقُولُ : رَحِمَكَ اللَّهُ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ , لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا , فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ .

Narrated Ibn `Abbas: While I was standing amongst the people who were invoking Allah for `Umar bin Al-Khattab who was lying (dead) on his bed, a man behind me rested his elbows on my shoulder and said, (O `Umar!) May Allah bestow His Mercy on you. I always hoped that Allah will keep you with your two companions, for I often heard Allah's Apostle saying, I, Abu Bakr and `Umar were (somewhere). I, Abu Bakr and `Umar did (something). I, Abu Bakr and `Umar set out.' So I hoped that Allah will keep you with both of them. I turned back to see that the speaker was `Ali bin Abi Talib.

ہم سے ولید بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن سعید بن ابی الحسین مکی نے ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اس وقت ان کا جنازہ چارپائی پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آ کر میرے شانوں پر اپنی کہنیاں رکھ دیں اور ( عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ) کہنے لگے اللہ آپ پر رحم کرے۔ مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ( دفن ) کرائے گا، میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ ”میں اور ابوبکر اور عمر تھے“، ”میں نے اور ابوبکر اور عمر نے یہ کام کیا“، ”میں اور ابوبکر اور عمر گئے“ اس لیے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ہی دونوں بزرگوں کے ساتھ رکھے گا۔ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَوَضَعَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا , فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَفَعَهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ : رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ .

Narrated `Urwa bin Az-Zubair: I asked `Abdullah bin `Amr, What was the worst thing the pagans did to Allah's Apostle? He said, I saw `Uqba bin Abi Mu'ait coming to the Prophet while he was praying.' `Uqba put his sheet round the Prophet's neck and squeezed it very severely. Abu Bakr came and pulled `Uqba away from the Prophet and said, Do you intend to kill a man just because he says: 'My Lord is Allah, and he has brought forth to you the Evident Signs from your Lord?

مجھ سے محمد بن یزید کوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے، ان سے یحییٰ ابن ابی کثیر نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی تھی تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈال کر کھینچی جس سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ پھنس گیا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اس بدبخت کو دفع کیا اور کہا کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔