صحیح بخاری

Sahih Bukhari

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت

The virtues and merits of the companions of the prophet.

حضرت حسن اور حسین رضیاللہعنہما کے فضائل کا بیان

(22) CHAPTER. The merits of Al- Hasan and Al-Husain.

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، عَنْ الْحَسَنِ ، سَمِعَ أَبَا بَكْرَةَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ إِلَى جَنْبِهِ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ مَرَّةً وَإِلَيْهِ مَرَّةً ، وَيَقُولُ : ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ .

Narrated Abu Bakra: I heard the Prophet talking at the pulpit while Al-Hasan was sitting beside him, and he (i.e. the Prophet ) was once looking at the people and at another time Al-Hasan, and saying, This son of mine is a Saiyid (i.e. chief) and perhaps Allah will bring about an agreement between two sects of the Muslims through him.

ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوموسیٰ نے بیان کیا، ان سے حسن نے، انہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور پھر حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عنهما , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ ، وَيَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا , أَوْ كَمَا قَالَ .

Narrated Usama bin Zaid: That the Prophet used to take him and Al-Hasan, and used to say, O Allah! I love them, so please love them, or said something similar.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر یہ دعا کرتے تھے «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ”اے اللہ! مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت رکھ۔“ «أو كما قال‏.‏» ۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَام فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ ، وَقَالَ : فِي حُسْنِهِ شَيْئًا ، فَقَالَ أَنَسٌ : كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ .

Narrated Muhammad: Anas bin Malik said, The head of Al-Husain was brought to 'Ubaidullah bin Ziyad and was put in a tray, and then Ibn Ziyad started playing with a stick at the nose and mouth of Al-Husain's head and saying something about his handsome features. Anas then said (to him), Al-Husain resembled the Prophet more than the others did. Anas added, His (i.e. Al-Husain's) hair was dyed with Wasma (i.e. a kind of plant used as a dye).

مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حسین بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا ( کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا ) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ انہوں نے «وسمة‏.‏» کا خضاب استعمال کر رکھا تھا۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ .

Narrated Al-Bara: I saw the Prophet carrying Al-Hasan on his shoulder an saying, O Allah! I love him, so please love him.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی نے خبر دی، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ آپ کے کاندھے مبارک پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ”اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت رکھ۔“

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَمَلَ الْحَسَنَ وَهُوَ ، يَقُولُ : بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ , لَيْسَ شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ , وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ .

Narrated `Uqba bin Al-Harith: I saw Abu Bakr carrying Al-Hasan and saying, Let my father be sacrificed for you; you resemble the Prophet and not `Ali, while `Ali was laughing at this.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: میرے باپ ان پر فدا ہوں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ ہیں، علی سے نہیں اور علی رضی اللہ عنہ مسکرا رہے تھے۔

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , وَصَدَقَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ .

Narrated Ibn `Umar: Abu Bakr used to say, Please Muhammad (i.e. the Prophet) by doing good to his family.

مجھ سے یحییٰ بن معین اور صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں واقد بن محمد نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( کی خوشنودی ) کو آپ کے اہل بیت کے ساتھ ( محبت و خدمت کے ذریعہ ) تلاش کرو۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ .

Narrated Anas: None resembled the Prophet more than Al-Hasan bin `Ali did.

مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے، اور عبدالرزاق نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , وَسَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ ، قَالَ شُعْبَةُ : أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ ، فَقَالَ : أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا .

Narrated Ibn Abi Nu'm: A person asked `Abdullah bin `Umar whether a Muslim could kill flies. I heard him saying (in reply). The people of Iraq are asking about the killing of flies while they themselves murdered the son of the daughter of Allah's Apostle . The Prophet said, They (i.e. Hasan and Husain) are my two sweet basils in this world.

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، انہوں نے ابن ابی نعم سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور کسی نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص ( احرام کی حالت میں ) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو قتل کر چکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دونوں ( نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔