Narrated `Aisha: 'Ashura' (i.e. the tenth of Muharram) was a day on which the tribe of Quraish used to fast in the prelslamic period of ignorance. The Prophet also used to fast on this day. So when he migrated to Medina, he fasted on it and ordered (the Muslims) to fast on it. When the fasting of Ramadan was enjoined, it became optional for the people to fast or not to fast on the day of Ashura.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عاشورا کا روزہ قریش کے لوگ زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے باقی رکھا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا لیکن جب رمضان کا روزہ ۲ ھ میں فرض ہوا تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کا جی چاہے عاشورا کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔
Narrated Ibn `Abbas: The people used to consider the performance of `Umra in the months of Hajj an evil deed on the earth, and they used to call the month of Muharram as Safar and used to say, When (the wounds over) the backs (of the camels) have healed and the foot-marks (of the camels) have vanished (after coming from Hajj), then `Umra becomes legal for the one who wants to perform `Umra. Allah's Apostle and his companions reached Mecca assuming Ihram for Hajj on the fourth of Dhul-Hijja. The Prophet ordered his companions to perform `Umra (with that lhram instead of Hajj). They asked, O Allah's Apostle! What kind of finishing of Ihram? The Prophet said, Finish the Ihram completely.'
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ خیال کرتے تھے۔ وہ محرم کو صفر کہتے۔ ان کے ہاں یہ مثل تھی کہ اونٹ کی پیٹھ کا زخم جب اچھا ہونے لگے اور ( حاجیوں کے ) نشانات قدم مٹ چکیں تو اب عمرہ کرنے والوں کا عمرہ جائز ہوا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو حج کا احرام باندھے ہوئے ( مکہ ) تشریف لائے تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے حج کو عمرہ کر ڈالیں ( طواف اور سعی کر کے احرام کھول دیں ) ۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ( اس عمرہ اور حج کے دوران میں ) کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام چیزیں! جو احرام کے نہ ہونے کی حالت میں حلال تھیں وہ سب حلال ہو جائیں گی۔
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab's grand-father: In the pre-lslamic period of ignorance a flood of rain came and filled the valley in between the two mountains (around the Ka`ba).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ عمرو بن دینار بیان کیا کرتے تھے کہ ہم سے سعید بن مسیب نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے سعید کے دادا حزن سے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ سیلاب آیا کہ ( مکہ کی ) دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی ہی پانی ہو گیا۔ سفیان نے بیان کیا کہ بیان کرتے تھے کہ اس حدیث کا ایک بہت بڑا قصہ ہے۔
Narrated Qais bin Abi Hazim: Abu Bakr went to a lady from the Ahmas tribe called Zainab bint Al-Muhajir and found that she refused to speak. He asked, Why does she not speak. The people said, She has intended to perform Hajj without speaking. He said to her, Speak, for it is illegal not to speak, as it is an action of the pre-islamic period of ignorance. So she spoke and said, Who are you? He said, A man from the Emigrants. She asked, Which Emigrants? He replied, From Quraish. She asked, From what branch of Quraish are you? He said, You ask too many questions; I am Abu Bakr. She said, How long shall we enjoy this good order (i.e. Islamic religion) which Allah has brought after the period of ignorance? He said, You will enjoy it as long as your Imams keep on abiding by its rules and regulations. She asked, What are the Imams? He said, Were there not heads and chiefs of your nation who used to order the people and they used to obey them? She said, Yes. He said, So they (i.e. the Imams) are those whom I meant.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک عورت سے ملے ان کا نام زینب بنت مہاجر تھا۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتیں دریافت فرمایا کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتیں؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اجی بات کرو اس طرح حج کرنا تو جاہلیت کی رسم ہے، چنانچہ اس نے بات کی اور پوچھا آپ کون ہیں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں مہاجرین کا ایک آدمی ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ مہاجرین کے کس قبیلہ سے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ قریش سے، انہوں نے پوچھا قریش کے کس خاندان سے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا تم بہت پوچھنے والی عورت ہو، میں ابوبکر ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین حق عطا فرمایا ہے اس پر ہم ( مسلمان ) کب تک قائم رہ سکیں گے؟ آپ نے فرمایا اس پر تمہارا قیام اس وقت تک رہے گا جب تک تمہارے امام حاکم سیدھے رہیں گے۔ اس خاتون نے پوچھا امام سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو اگر لوگوں کو کوئی حکم دیں تو وہ اس کی اطاعت کریں؟ اس نے کہا کہ کیوں نہیں ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امام سے یہی مراد ہیں۔
Narrated `Aisha: A black lady slave of some of the 'Arabs embraced Islam and she had a hut in the mosque. She used to visit us and talk to us, and when she finished her talk, she used to say: The day of the scarf was one of our Lord's wonders: Verily! He has delivered me from the land of Kufr. When she said the above verse many times, I (i.e. `Aisha) asked her, What was the day of the scarf? She replied, Once the daughter of some of my masters went out and she was wearing a leather scarf (round her neck) and the leather scarf fell from her and a kite descended and picked it up, mistaking it for a piece of meat. They (i.e. my masters) accused me of stealing it and they tortured me to such an extent that they even looked for it in my private parts. So, while they all were around me, and I was in my great distress, suddenly the kite came over our heads and threw the scarf, and they took it. I said to them 'This is what you accused me of stealing, though I was innocent.
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک کالی عورت جو کسی عرب کی باندی تھی اسلام لائی اور مسجد میں اس کے رہنے کے لیے ایک کوٹھری تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ ہمارے یہاں آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی، لیکن جب باتوں سے فارغ ہو جاتی تو وہ یہ شعر پڑھتی ”اور ہار والا دن بھی ہمارے رب کے عجائب قدرت میں سے ہے، کہ اسی نے ( بفضلہ ) کفر کے شہر سے مجھے چھڑایا۔“ اس نے جب کئی مرتبہ یہ شعر پڑھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے دریافت کیا کہ ہار والے دن کا قصہ کیا ہے؟ اس نے بیان کیا کہ میرے مالکوں کے گھرانے کی ایک لڑکی ( جو نئی دولہن تھی ) لال چمڑے کا ایک ہار باندھے ہوئے تھی۔ وہ باہر نکلی تو اتفاق سے وہ گر گیا۔ ایک چیل کی اس پر نظر پڑی اور وہ اسے گوشت سمجھ کر اٹھا لے گئی۔ لوگوں نے مجھ پر اس کی چوری کی تہمت لگائی اور مجھے سزائیں دینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ میری شرمگاہ کی بھی تلاشی لی۔ خیر وہ ابھی میرے چاروں طرف جمع ہی تھے اور میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی کہ چیل آئی اور ہمارے سروں کے بالکل اوپر اڑنے لگی۔ پھر اس نے وہی ہار نیچے گرا دیا۔ لوگوں نے اسے اٹھا لیا تو میں نے ان سے کہا اسی کے لیے تم لوگ مجھے اتہام لگا رہے تھے حالانکہ میں بےگناہ تھی۔
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, If anybody has to take an oath, he should swear only by Allah. The people of Quraish used to swear by their fathers, but the Prophet said, Do not swear by your fathers.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم نہ کھائے۔“
Narrated `Abdur-Rahman bin Al-Qasim: Al-Qasim used to walk in front of the funeral procession. He used not to get up for the funeral procession (in case it passed by him). And he narrated from `Aisha that she said, The people of the pre-lslamic period of ignorance used to stand up for the funeral procession. When they saw it they used to say twice: 'You were noble in your family. What are you now?
مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ ان کے والد قاسم بن محمد جنازہ کے آگے آگے چلا کرتے تھے اور جنازہ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے وہ بیان کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازہ کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور اسے دیکھ کر دو بار کہتے تھے کہ اے مرنے والے جس طرح اپنی زندگی میں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا اب ویسا ہی کسی پرندے کے بھیس میں ہے۔
Narrated `Umar: The pagans used not to leave Jam' (i.e. Muzdalifa) till the sun had risen on Thabir mountain. The Prophet contradicted them by leaving (Muzdalifa) before the sun rose.
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جب تک دھوپ ثبیر پہاڑی پر نہ آ جاتی قریش ( حج میں ) مزدلفہ سے نہیں نکلا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا۔
Narrated Husain: That `Ikrima said, Kasan Dihaqa means glass full (of something) followed successively with other full glasses.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا، کیا تم لوگوں سے یحییٰ بن مہلب نے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے (قرآن مجید کی آیت میں) کے متعلق فرمایا کہ اس کے ( معنی ٰ ہیں ) بھرا ہوا پیالہ جس کا مسلسل دور چلے۔
Ibn `Abbas said: In the pre-lslamic period of ignorance I heard my father saying, Provide us with Kasan Dihaqa.
عکرمہ نے بیان کیا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں ( یہ لفظ استعمال کرتے تھے ) «اسقنا كأسا دهاقا.» یعنی ہم کو بھرپور جام شراب پلاتے رہو۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The most true words said by a poet was the words of Labid. He said, Verily, Everything except Allah is perishable and Umaiya bin As-Salt was about to be a Muslim (but he did not embrace Islam).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے سچی بات جو کوئی شاعر کہہ سکتا تھا وہ لبید شاعر نے کہی ”ہاں اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“ اور امیہ بن ابی الصلت ( جاہلیت کا ایک شاعر ) مسلمان ہونے کے قریب تھا۔
Narrated `Aisha: Abu Bakr had a slave who used to give him some of his earnings. Abu Bakr used to eat from it. One day he brought something and Abu Bakr ate from it. The slave said to him, Do you know what this is? Abu Bakr then enquired, What is it? The slave said, Once, in the pre-Islamic period of ignorance I foretold somebody's future though I did not know this knowledge of foretelling but I, cheated him, and when he met me, he gave me something for that service, and that is what you have eaten from. Then Abu Bakr put his hand in his mouth and vomited whatever was present in his stomach.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو روزانہ انہیں کچھ کمائی دیا کرتا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے اپنی ضرورت میں استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھا لیا۔ پھر غلام نے کہا آپ کو معلوم ہے؟ یہ کیسی کمائی سے ہے؟ آپ نے دریافت فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کے لیے کہانت کی تھی حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھا لیکن اتفاق سے وہ مجھے مل گیا اور اس نے اس کی اجرت میں مجھ کو یہ چیز دی تھی، آپ کھا بھی چکے ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی تمام چیزیں قے کر کے نکال ڈالیں۔
Narrated Ibn `Umar: In the pre-lslamic period of ignorance the people used to bargain with the meat of camels on the principle of Habal-al-Habala which meant the sale of a she-camel that would be born by a she-camel that had not yet been born. The Prophet forbade them such a transaction.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہا، مجھ کو نافع نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ «حبل الحبلة» تک قیمت کی ادائیگی کے وعدہ پر، اونٹ کا گوشت ادھار بیچا کرتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ «حبل الحبلة» کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حاملہ اونٹنی اپنا بچہ جنے پھر وہ نوزائیدہ بچہ ( بڑھ کر ) حاملہ ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی خرید و فروخت ممنوع قرار دے دی تھی۔
Narrated Ghailan bin Jarir: We used to visit Anas bin Malik and he used to talk to us about the Ansar, and used to say to me: Your people did so-and-so on such-and-such a day, and your people did so-and-so on such-and-such a day.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ غیلان بن جریر نے بیان کیا کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ وہ ہم سے انصار کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے اور مجھ سے فرماتے کہ تمہاری قوم نے فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا، فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا۔