Narrated Anas: The Prophet said, This is a mountain that loves us and is loved by us.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں قرہ بن خالد نے، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“
Narrated Anas bin Malik: When the mountain of Uhud appeared before Allah's Apostle he said, This IS a mountain that loves us and is loved by us. O, Allah! Abraham made Mecca a Sanctuary, and I have made Medina (i.e. the area between its two mountains) a Sanctuary as well.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خیبر سے واپس ہوتے ہوئے ) احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں ان دو پتھریلے میدانوں کے درمیان والے علاقے ( مدینہ منورہ ) کو حرمت والا شہر قرار دیتا ہوں۔“
Narrated `Uqba: One day the Prophet went out and offered the (funeral) prayer for the people (i.e. martyrs) of Uhud as he used to offer a funeral prayer for any dead person, and then (after returning) he ascended the pulpit and said, I am your predecessor before you, and I am a witness upon you, and I am looking at my Tank just now, and I have been given the keys of the treasures of the world (or the keys of the world). By Allah, I am not afraid that you will worship others besides Allah after me, but I am afraid that you will compete with each other for (the pleasures of) this world.
مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے حوض ( حوض کوثر ) کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا ( آپ حوض کوثر نے یوں فرمایا ) «مفاتيح الأرض» یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ ( دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے ) ۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔