TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(39) CHAPTER. Ghazwa of Khaibar. - غزوہخیبر کا بیان - The book of al- maghazi. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 33 of The book of al- maghazi. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 33 of 78 · 49 Hadith
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ , وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، نَهَى عَنْ أَكْلِ الثُّومِ , هُوَ عَنْ نَافِعٍ وَحْدَهُ ، وَلُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، عَنْ سَالِمٍ .
Narrated Ibn `Umar: On the day of Khaiber, Allah's Apostle forbade the eating of garlic and the meat of donkeys.
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے ‘ ان سے نافع اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پالتو گدھوں کے کھانے سے منع فرمایا تھا۔ لہسن کھانے کی ممانعت کا ذکر صرف نافع سے منقول ہے اور پالتو گدھوں کے کھانے کی ممانعت صرف سالم سے منقول ہے۔
4215
Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ .
Narrated `Ali bin Abi Talib: On the day of Khaibar, Allah's Apostle forbade the Mut'a (i.e. temporary marriage) and the eating of donkey-meat.
مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ اور حسن نے جو دونوں محمد بن علی کے صاحبزادے ہیں ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کی ممانعت کی تھی اور پالتو گدھوں کے کھانے کی بھی۔
4216
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ .
Narrated Ibn `Umar: On the day of Khaibar, Allah's Apostle forbade the eating of donkey meat.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی۔
4217
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle forbade the eating of donkey-meat.
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔
4218
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: On the day of Khaibar, Allah's Apostle forbade the eating of donkey meat and allowed the eating of horse meat.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے ‘ ان سے عمرو نے ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھے کے گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔
4219
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي ، قَالَ : وَبَعْضُهَا نَضِجَتْ ، فَجَاءَ مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا وَأَهْرِقُوهَا ، قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى : فَتَحَدَّثْنَا أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : نَهَى عَنْهَا الْبَتَّةَ لِأَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ .
Narrated Ibn Abi `Aufa: We where afflicted with severe hunger on the day of Khaibar. While the cooking pots were boiling and some of the food was well-cooked, the announcer of the Prophet came to say, Do not eat anything the donkey-meat and upset the cooking pots. We then thought that the Prophet had prohibited such food because the Khumus had not been taken out of it. Some others said, He prohibited the meat of donkeys from the point of view of principle, because donkeys used to eat dirty things.
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عباد نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے بیان کیا اور انہوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا کہ غزوہ خیبر میں ایک موقع پر ہم بہت بھوکے تھے ‘ ادھر ہانڈیوں میں ابال آ رہا تھا ( گدھے کا گوشت پکایا جا رہا تھا ) اور کچھ پک بھی گئیں تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ گدھے کے گوشت کا ایک ذرہ بھی نہ کھاؤ اور اسے پھینک دو۔ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر بعض لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت اس لیے کی ہے کہ ابھی اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ نے اس کی واقعی ممانعت ( ہمیشہ کے لیے ) کر دی ہے ‘ کیونکہ یہ گندگی کھاتا ہے۔
4220
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابُوا حُمُرًا ، فَطَبَخُوهَا ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ .
Narrated Al-Bara and `Abdullah bin Abl `Aufa: That when they were in the company of the Prophet, they got some donkeys which they (slaughtered and) cooked. Then the announcer of the Prophet said, Turn the cooking pots upside down (i.e. throw out the meat).
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی اور انہیں براء اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ پھر انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں انڈیل دو۔
4221
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابُوا حُمُرًا ، فَطَبَخُوهَا ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ .
Narrated Al-Bara and `Abdullah bin Abl `Aufa: That when they were in the company of the Prophet, they got some donkeys which they (slaughtered and) cooked. Then the announcer of the Prophet said, Turn the cooking pots upside down (i.e. throw out the meat).
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی اور انہیں براء اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ پھر انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں انڈیل دو۔
4222
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، يُحَدِّثَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ نَصَبُوا الْقُدُورَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ .
Narrated Al-Bara' and Ibn Abi `Aufa: On the day of Khaibar when the cooking pots were put on the fire, the Prophet said, Turn the cooking pots upside down.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ انہوں نے براء بن عازب اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہم سے سنا۔ یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا تھا کہ ہانڈیوں کا گوشت پھینک دو ‘ اس وقت ہانڈیاں چولہے پر رکھی جا چکی تھیں۔
4223
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، يُحَدِّثَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدْ نَصَبُوا الْقُدُورَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ .
Narrated Al-Bara' and Ibn Abi `Aufa: On the day of Khaibar when the cooking pots were put on the fire, the Prophet said, Turn the cooking pots upside down.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ انہوں نے براء بن عازب اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہم سے سنا۔ یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا تھا کہ ہانڈیوں کا گوشت پھینک دو ‘ اس وقت ہانڈیاں چولہے پر رکھی جا چکی تھیں۔
4224
Sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
Narrated Al-Bara: We took part in a Ghazwa with the Prophet (same as Hadith No. 533).
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے پھر پہلی حدیث کی طرح روایت نقل کی۔
4225
Sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ أَنْ نُلْقِيَ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ نِيئَةً وَنَضِيجَةً ، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ بَعْدُ .
Narrated Al-Bara Bin Azib: During the Ghazwa of Khaibar, the Prophet ordered us to throw away the meat of the donkeys whether it was still raw or cooked. He did not allow us to eat it later on.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی ‘ کہا ہم عاصم کونے خبر دی ‘ انہیں عامر نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پالتو گدھوں کا گوشت ہم پھینک دیں ‘ کچا بھی اور پکا ہوا بھی ‘ پھر ہمیں اس کے کھانے کا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں دیا۔
4226
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَا أَدْرِي أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لَحْمَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ؟ .
Narrated Ibn `Abbas: I do not know whether the Prophet forbade the eating of donkey-meat (temporarily) because they were the beasts of burden for the people, and he disliked that their means of transportation should be lost, or he forbade it on the day of Khaibar permanently.
مجھ سے محمد بن ابی الحسین نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے ‘ ان سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ اس سے بوجھ ڈھونے والے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ بوجھ ڈھونے والے جانور ختم ہو جائیں یا آپ نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔
4227
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا ، قَالَ : فَسَّرَهُ نَافِعٌ فَقَالَ : إِذَا كَانَ مَعَ الرَّجُلِ فَرَسٌ فَلَهُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَسٌ فَلَهُ سَهْمٌ .
Narrated Ibn `Umar: On the day of Khaibar, Allah's Apostle divided (the war booty of Khaibar) with the ratio of two shares for the horse and one-share for the foot soldier. (The sub-narrator, Nafi` explained this, saying, If a man had a horse, he was given three shares and if he had no horse, then he was given one share. )
ہم سے حسن بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عمر نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں ( مال غنیمت سے ) سواروں کو دو حصے دیئے تھے اور پیدل فوجیوں کو ایک حصہ ‘ اس کی تفسیر نافع نے اس طرح کی ہے اگر کسی شخص کے ساتھ گھوڑا ہوتا تو اسے تین حصے ملتے تھے اور اگر گھوڑا نہ ہوتا تو صرف ایک حصہ ملتا تھا۔
4228
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، أَخْبَرَهُ ، قَالَ : مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا : أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ ، وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ ، قَالَ جُبَيْرٌ : وَلَمْ يَقْسِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، وَبَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا .
Narrated Jubair bin Mut`im: `Uthman bin `Affan and I went to the Prophet and said, You had given Banu Al-Muttalib from the Khumus of Khaibar's booty and left us in spite of the fact that we and Banu Al-Muttalib are similarly related to you. The Prophet said, Banu Hashim and Banu Al-Muttalib only are one and the same. So the Prophet did not give anything to Banu `Abd Shams and Banu Nawfal.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے بنو مطلب کو تو خیبر کے خمس میں سے عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ آپ سے قرابت میں ہم اور وہ برابر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو ( خمس میں سے ) کچھ نہیں دیا تھا۔
4229
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ ، إِمَّا قَالَ : بِضْعٌ ، وَإِمَّا قَالَ : فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ ، أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي ، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا ، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، وَكَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ : سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ ، وَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً ، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا , فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ : أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ , قَالَ عُمَرُ : الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ ، قَالَتْ أَسْمَاءُ : نَعَمْ ، قَالَ : سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ ، فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ : كَلَّا وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ ، وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ ، وَاللَّهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَيْهِ .
Narrated Abu Musa: The news of the migration of the Prophet (from Mecca to Medina) reached us while we were in Yemen. So we set out as emigrants towards him. We were (three) I and my two brothers. I was the youngest of them, and one of the two was Abu Burda, and the other, Abu Ruhm, and our total number was either 53 or 52 men from my people. We got on board a boat and our boat took us to Negus in Ethiopia. There we met Ja`far bin Abi Talib and stayed with him. Then we all came (to Medina) and met the Prophet at the time of the conquest of Khaibar. Some of the people used to say to us, namely the people of the ship, We have migrated before you. Asma' bint 'Umais who was one of those who had come with us, came as a visitor to Hafsa, the wife the Prophet . She had migrated along with those other Muslims who migrated to Negus. `Umar came to Hafsa while Asma' bint 'Umais was with her. `Umar, on seeing Asma,' said, Who is this? She said, Asma' bint 'Umais, `Umar said, Is she the Ethiopian? Is she the sea-faring lady? Asma' replied, Yes. `Umar said, We have migrated before you (people of the boat), so we have got more right than you over Allah's Apostle On that Asma' became angry and said, No, by Allah, while you were with Allah's Apostle who was feeding the hungry ones amongst you, and advised the ignorant ones amongst you, we were in the far-off hated land of Ethiopia, and all that was for the sake of Allah's Apostle . By Allah, I will neither eat any food nor drink anything till I inform Allah's Apostle of all that you have said. There we were harmed and frightened. I will mention this to the Prophet and will not tell a lie or curtail your saying or add something to it.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے متعلق خبر ملی تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی نیت سے نکل پڑے۔ میں اور میرے دو بھائی ‘ میں دونوں سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی کا نام ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھا اور دوسرے کا ابو رہم۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اوپر پچاس یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ تریپن ( 53 ) یا باون ( 52 ) میری قوم کے لوگ ساتھ تھے۔ ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں لا ڈالا۔ وہاں ہماری ملاقات جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہو گئی ‘ جو پہلے ہی مکہ سے ہجرت کر کے وہاں پہنچ چکے تھے۔ ہم نے وہاں انہیں کے ساتھ قیام کیا ‘ پھر ہم سب مدینہ ساتھ روانہ ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ کچھ لوگ ہم کشتی والوں سے کہنے لگے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جو ہمارے ساتھ مدینہ آئی تھیں ‘ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ ان سے ملاقات کے لیے وہ بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ اس وقت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہیں تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اسماء بنت عمیس۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اچھا وہی جو حبشہ سے بحری سفر کر کے آئی ہیں۔۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم تم لوگوں سے ہجرت میں آگے ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمہارے مقابلہ میں زیادہ قریب ہیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا اس پر بہت غصہ ہو گئیں اور کہا ہرگز نہیں: اللہ کی قسم! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو ‘ تم میں جو بھوکے ہوتے تھے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھلاتے تھے اور جو ناواقف ہوتے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت و موعظت کیا کرتے تھے۔ لیکن ہم بہت دور حبشہ میں غیروں اور دشمنوں کے ملک میں رہتے تھے ‘ یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے راستے ہی میں تو کیا اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کہہ لوں۔ ہمیں اذیت دی جاتی تھی ‘ دھمکایا ڈرایا جاتا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کروں گی اور آپ سے اس کے متعلق پوچھوں گی۔ اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی ‘ نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ کسی ( خلاف واقعہ بات کا ) اضافہ کروں گی۔
4230
Sahih
فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَمَا قُلْتِ لَهُ ؟ ، قَالَتْ : قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ، قَالَتْ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي .
So when the Prophet came, she said, O Allah's Prophet `Umar has said so-and-so. He said (to Asma'), What did you say to him? Asma's aid, I told him so-and-so. The Prophet said, He (i.e. `Umar) has not got more right than you people over me, as he and his companions have (the reward of) only one migration, and you, the people of the boat, have (the reward of) two migrations. Asma' later on said, I saw Abu Musa and the other people of the boat coming to me in successive groups, asking me about this narration,, and to them nothing in the world was more cheerful and greater than what the Prophet had said about them. Narrated Abu Burda: Asma' said, I saw Abu Musa requesting me to repeat this narration again and again.
چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے انہیں یہ یہ جواب دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تم سے زیادہ مجھ سے قریب نہیں ہیں۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو صرف ایک ہجرت حاصل ہوئی اور تم کشتی والوں نے دو ہجرتوں کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ کے بعد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھنے لگے۔ ان کے لیے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر اور کوئی چیز نہیں تھی۔
4231
Sahih
قَالَ أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ ، وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ ، أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ قَالَ لَهُمْ : إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ .
Narrated Abu Burda: Abu Musa said, The Prophet said, I recognize the voice of the group of Al- Ashariyun, when they recite the Qur'an, when they enter their homes at night, and I recognize their houses by (listening) to their voices when they are reciting the Qur'an at night although I have not seen their houses when they came to them during the day time. Amongst them is Hakim who, on meeting the cavalry or the enemy, used to say to them (i.e. the enemy). My companions order you to wait for them.'
ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مجھ سے اس حدیث کو باربار سنتے تھے۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میرے اشعری احباب رات میں آتے ہیں تو میں ان کی قرآن کی تلاوت کی آواز پہچان جاتا ہوں۔ اگرچہ دن میں ‘ میں نے ان کی اقامت گاہوں کو نہ دیکھا ہو لیکن جب رات میں وہ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی آواز سے میں ان کی اقامت گاہوں کو پہچان لیتا ہوں۔ میرے انہی اشعری احباب میں ایک مرد دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈبھیڑ ہو جاتی ہے یا آپ نے فرمایا کہ دشمن سے ‘ تو ان سے کہتا ہے کہ میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لیے ان کا انتظار کر لو۔
4232
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، فَقَسَمَ لَنَا وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدْ الْفَتْحَ غَيْرَنَا .
Narrated Abu Musa: We came upon the Prophet after he had conquered Khaibar. He then gave us a share (from the booty), but apart from us he did not give to anybody else who did not attend the Conquest.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم نے حفص بن غیاث سے سنا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت میں ) ہمارا بھی حصہ لگایا۔ آپ نے ہمارے سوا کسی بھی ایسے شخص کا حصہ مال غنیمت میں نہیں لگایا جو فتح کے وقت ( اسلامی لشکر کے ساتھ ) موجود نہ رہا ہو۔
4233
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً ، إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالْإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ : مِدْعَمٌ أَهْدَاهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّى أَصَابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ ، فَقَالَ النَّاسُ : هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلَى ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا ، فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ أَوْ بِشِرَاكَيْنِ فَقَالَ : هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ .
Narrated Abu Huraira: When we conquered Khaibar, we gained neither gold nor silver as booty, but we gained cows, camels, goods and gardens. Then we departed with Allah's Apostle to the valley of Al-Qira, and at that time Allah's Apostle had a slave called Mid`am who had been presented to him by one of Banu Ad-Dibbab. While the slave was dismounting the saddle of Allah's Apostle an arrow the thrower of which was unknown, came and hit him. The people said, Congratulations to him for the martyrdom. Allah's Apostle said, No, by Him in Whose Hand my soul is, the sheet (of cloth) which he had taken (illegally) on the day of Khaibar from the booty before the distribution of the booty, has become a flame of Fire burning him. On hearing that, a man brought one or two leather straps of shoes to the Prophet and said, These are things I took (illegally). On that Allah's Apostle said, This is a strap, or these are two straps of Fire.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک بن انس نے بیان کیا ‘ ان سے ثور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن مطیع کے مولیٰ سالم نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے ‘ اونٹ ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر ان کے لگا۔ لوگوں نے کہا مبارک ہو: شہادت! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک دوسرے صحابی ایک یا دو تسمے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی جہنم کا تسمہ بنتا۔
4234
Sahih

Chapters

78
01
(1) CHAPTER. The Ghazwa of Al-'Ushaira or Al-Usaira.
غزوہعشیرہ یا عسرہ کا بیان
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Prophet's prediction about whom he thought would be killed at Badr.
بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے ۔ اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کا بیان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The story of the Ghazwa of Badr.
غزوہبدر کا بیان
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying: 'I will help you with a thousand of a angels each behind the other (following one another) in succession.' Allah made it only as glad tidings, and that your hearts be at rest therewith. And there is no victory except from Allah. verily, Allah is All-Mighty, All-Wise. (Remember) when He covered you with a slumber as a security from Him, and He caused water (rain) to descend on you from the sky, to clean you thereby and to remove from you the Rijz (whispering, evil-suggestions) of Shaitan (Satan), and to strengthen yor hearts, and make your feet firm thereby. (Remember) when your Lord revealed to the angels, 'Verily, I am with you so keep firm those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who have disbelived, so strike them over the necks, and smite over all their fingers and toes.' This is because they defined and disobeys Allah and His Messenger, then verily, Allah is Severe in punisllment.” (V.8:9-13)
اللہ تعالیٰ کا فرمان
5 Hadith
05
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
55 Hadith
06
(6) CHAPTER. The number of the warriors of Badr.
جنگبدر میں شریک ہونے والوں کا شمار
5 Hadith
07
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The killing of Abu Jahl.
( بدر کے دن ) ابوجہل کا قتل ہونا
21 Hadith
09
(9) CHAPTER. The superiority of those who fought the battle of Badr.
بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
10
(12) CHAPTER.
جنگبدر میں فرشتوں کا شریک ہونا
1 Hadith
11
(14) CHAPTER. The story of Bani An-Nadir.
بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان
8 Hadith
12
(15) CHAPTER. The killing of Kab bin Al-Ashraf.
کعببناشرف یہودی کے قتل کا قصہ
2 Hadith
13
(16) CHAPTER. The killing of Abu Rafi, Abdullah bin Abi Al-Huqaiq.
ابورافع ۔ یہودی عبداللہبنابی الحقیق کے قتل کا قصہ
2 Hadith
14
(17) CHAPTER. The Ghazwa of Uhud.
غزوہاحد کا بیان
11 Hadith
15
(18) CHAPTER: “When two parties from among you were about the lose heart, but Allah was their Wali (Protector and Supporter).” (V.3:122)
جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایماندار وں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے
14 Hadith
16
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
2 Hadith
17
(23) CHAPTER. Narration regarding Umm Salit.
حضرت امسلیط رضیاللہعنہا کا تذکرہ
1 Hadith
18
(24) CHAPTER. The martyrdom of Hamza bin Abdul-Muttalib .
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضیاللہعنہ کی شہادت کا بیان
1 Hadith
19
(25) CHAPTER. The wounds inflicted on the Prophet on the day (of the battle) of Uhud.
غزوہاحد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم پہنچے تھے ان کا بیان
2 Hadith
20
(26) CHAPTER. (Allah's Statement):- “Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammad )... (V.3:172)
وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا ( یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے )
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. The Muslims who were killed on the day (of the battle) of Uhud.
جن مسلمانوں نے غزوہاحد میں شہادت پائی ان کا بیان ۔
5 Hadith
22
(28) CHAPTER. “Uhud is a mountain that loves us and is loved by us.”
ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔
3 Hadith
23
(29) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Ar-Raji, Ril, Dhakwan and Bir Mauna.
غزوہ رجیع کا بیان
11 Hadith
24
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
20 Hadith
25
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
8 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
13 Hadith
27
(33) CHAPTER. The Ghazwa of Banu Al-Mustaliq which belongs to the tribe of Khuzaa. It is also called the Ghazwa of Al- Muraisi.
غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع ( بھی کہلاتا ) ہے
2 Hadith
28
(34) CHAPTER. The Ghazwa of Anmar.
غزوہ انمار کا بیان
1 Hadith
29
(35) CHAPTER. The narration of AI-Ifk.
واقعہ افک کا بیان
7 Hadith
30
(36) CHAPTER. The Ghazwa of Al- Hudaibiya.
غزوہ حدیبیہ کا بیان
44 Hadith
31
(37) CHAPTER. The story of (the tribes of) 'Ukl and 'Uraina.
قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ
2 Hadith
32
(38) CHAPTER. Ghazwa Dhat-Qarad.
ذات قرد کی لڑائی کا بیان
1 Hadith
33
(39) CHAPTER. Ghazwa of Khaibar.
غزوہخیبر کا بیان
49 Hadith
34
(40) CHAPTER. The appointment of a ruler for Khaibar by the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا
4 Hadith
35
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
1 Hadith
36
(42) CHAPTER. The sheep which was poisoned (and presented) to the Prophet at Khaibar.
اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا ۔ اس کو عروہ نے عائشہ رضیاللہعنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
1 Hadith
37
(43) CHAPTER. The Ghazwa of Zaid bin Haritha.
غزوہ زیدبنحارثہ کا بیان
1 Hadith
38
(44) CHAPTER. The Umra Al-Qada.
عمرہ قضاء کا بیان
9 Hadith
39
(45) CHAPTER. The Ghazwa of Mu'tah in the land of Sham.
غزوہموتہ کا بیان جو سرزمین شام میں سنہ 8ھ میں ہوا تھا
9 Hadith
40
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا
4 Hadith
41
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
غزوہ فتح مکہ کا بیان
5 Hadith
42
(48) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Fath (was fought) during Ramadan.
غزوہ فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ 8 ھ میں ہوا تھا
2 Hadith
43
(49) CHAPTER. Where did the Prophet fix the flag on the day of the conquest of Makkah?
فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا ؟
9 Hadith
44
(50) CHAPTER. The entrance of the Prophet from the upper part of Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر کے بالائی جانب سے مکہ میں داخل ہونا
3 Hadith
45
(52) CHAPTER.
فتح مکہ کے دن قیام نبوی کا بیان
5 Hadith
46
(53) CHAPTER. The stay of the Prophet in Makkah during the period of the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام کرنا
3 Hadith
47
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
9 Hadith
48
(56) CHAPTER. The Ghazwa of Autas.
غزوہ اوطاس کا بیان
1 Hadith
49
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
14 Hadith
50
(58) CHAPTER. The Sariya (i.e., an army unit sent by the Prophet ) which was sent towards Najd.
نجد کی طرف جو لشکرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا ، اس کا بیان
1 Hadith
51
(59) CHAPTER. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid (to fight) with Banu Jadhima.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خالدبنولید ر ضی اللہ عنہ کو بنیجذیمہ قبیلے کی طرف بھیجنا
1 Hadith
52
(60) CHAPTER. The Sariya of Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi and Alqama bin Majazziz Al-Mudliji, and it is said that it was called the Sariya of the Ansar.
عبداللہبنحذافہ سہمی رضی اللہ عنہ
1 Hadith
53
(61) CHAPTER. The sending of Abu Musa and Mu'adh to Yemen before the Hajjat-al-Wada.
حجۃالوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰاشعری اور حضرت معاذبنجبل رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
8 Hadith
54
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
6 Hadith
55
(63) CHAPTER. Ghazwa Dhul-Khalasa.
غزوہ ذوالخلصہ کا بیان
3 Hadith
56
(64) CHAPTER. The Ghazwa of Dhat-us-Salasil, which is the Ghazwa of Lakhm and Judham.
غزوہ ذاتالسلاسل کا بیان
1 Hadith
57
(65) CHAPTER. The departure of Jarir to Yemen.
حضرت جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا یمن کی طرف جانا
1 Hadith
58
(66) CHAPTER. The Ghazwa of the sea-coast.
غزوہ سیفالبحر کا بیان
3 Hadith
59
(67) CHAPTER. The Hajj in which Abu Bakr led the people in the 9th year (of Al-Hijrah)
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ھ میں حج کرنا
2 Hadith
60
(68) CHAPTER. The delegation of Bani Tamim.
بنیتمیم کے وفد کا بیان
1 Hadith
61
(69) CHAPTER.
محمد بن اسحاق نے کہا کہ
2 Hadith
62
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
4 Hadith
63
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
6 Hadith
64
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
2 Hadith
65
(73) CHAPTER. The story of the people of Najran (Christians).
نجران کے نصاریٰ کا قصہ
3 Hadith
66
(74) CHAPTER. The story of Oman and Al-Bahrain.
عمان اور بحرین کاقصہ
1 Hadith
67
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
8 Hadith
68
(76) CHAPTER. The story of Daus and Tufail bin Amr Ad-Dausi.
قبیلہدوس اور طفیل بنعمر و دوسی رضیاللہعنہ کا بیان
2 Hadith
69
(77) CHAPTER. The delegation of Taiy, and the narration of Adi bin Hatim.
قبیلہ طے کے وفد اور عدی بنحاتم رضیاللہعنہ کا قصہ
1 Hadith
70
(78) CHAPTER. Hajjat-ul-Wada.
حجۃالوداع کابیان
20 Hadith
71
(79) CHAPTER. The Ghazwa of Tabuk, which is also called Ghazwa AI-Usrah (i.e., the battle of hardship).
غزوہتبوک کا بیان ، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی ( تنگی کا غزوہ ) بھی ہے ۔
3 Hadith
72
(80) CHAPTER. The narration of Kab bin Malik.
حضرت کعب بنمالک رضیاللہعنہ کے واقعہ کا بیا ن
1 Hadith
73
(81) CHAPTER. The dismounting of the Prophet at (the place called) Al-Hijr.
حجر بستی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا
2 Hadith
74
(83) CHAPTER. The letter of the Prophet to Kisra (Khosrau) and Qaiser (Caesar).
کسریٰ ( شاہایران ) اور قیصر ( شاہروم ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا
4 Hadith
75
(84) CHAPTER. The sickness of the Prophet and his death.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
35 Hadith
76
(85) CHAPTER. The last statement, the Prophet spoke.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا
4 Hadith
77
(88) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet during his fatal illness.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو مرضالموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا
1 Hadith
78
(90) CHAPTER. How many Ghazawat the Prophet fought.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے ہیں ؟
3 Hadith
No chapter matched that.