Narrated Nafi`: Ibn `Umar informed me that on the day (of Mu'tah) he stood beside Ja`far who was dead (i.e. killed in the battle), and he counted fifty wounds in his body, caused by stabs or strokes, and none of those wounds was in his back.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن حارث انصاری نے ‘ ان سے سعید بن ابی ہلال نے بیان کیا اور کہا کہ مجھ کو نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ اس غزوہ موتہ میں جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی لاش پر کھڑے ہو کر میں نے شمار کیا تو نیزوں اور تلواروں کے پچاس زخم ان کے جسم پر تھے لیکن پیچھے یعنی پیٹھ پر ایک زخم بھی نہیں تھا۔
`Abdullah bin `Umar said: Allah's Apostle appointed Zaid bin Haritha as the commander of the army during the Ghazwa of Mu'tah and said, If Zaid is martyred, Ja`far should take over his position, and if Ja`far is martyred, `Abdullah bin Rawaha should take over his position.' `Abdulla-h bin `Umar further said, I was present amongst them in that battle and we searched for Ja`far bin Abi Talib and found his body amongst the bodies of the martyred ones, and found over ninety wounds over his body, caused by stabs or shots (of arrows).
ہمیں احمد بن ابی بکر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ موتہ کے لشکر کا امیر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہوں اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس غزوہ میں ‘ میں بھی شریک تھا۔ بعد میں جب ہم نے جعفر رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو ان کی لاش ہمیں شہداء میں ملی اور ان کے جسم پر کچھ اوپر نوے زخم نیزوں اور تیروں کے تھے۔
Narrated Anas: The Prophet had informed the people of the martyrdom of Zaid, Ja`far and Ibn Rawaha before the news of their death reached. The Prophet said, Zaid took the flag (as the commander of the army) and was martyred, then Ja`far took it and was martyred, and then Ibn Rawaha took it and was martyred. At that time the Prophet's eyes were shedding tears. He added, Then the flag was taken by a Sword amongst the Swords of Allah (i.e. Khalid) and Allah made them (i.e. the Muslims) victorious.
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید ‘ جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کو دے دی تھی جب ابھی ان کے متعلق کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اب زید جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں ‘ اب وہ شہید کر دیئے گئے ‘ اب جعفر نے جھنڈا اٹھا لیا ‘ وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ اب ابن رواحہ نے جھنڈا اٹھا لیا ‘ وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائی۔
Narrated `Amra: I heard `Aisha saying, When the news of the martyrdom of Ibn Haritha, Ja`far bin Abi Talib and `Abdullah bin Rawaka reached, Allah's Apostle sat with sorrow explicit on his face. `Aisha added, I was then peeping through a chink in the door. A man came to him and said, O Allah's Apostle! The women of Ja`far are crying.' Thereupon the Prophet told him to forbid them to do so. So the man went away and returned saying, I forbade them but they did not listen to me. The Prophet ordered him again to go (and forbid them). He went again and came saying, 'By Allah, they overpowered me (i.e. did not listen to me). `Aisha said that Allah's Apostle said (to him), Go and throw dust into their mouths. Aisha added, I said, May Allah put your nose in the dust! By Allah, neither have you done what you have been ordered, nor have you relieved Allah's Apostle from trouble.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ‘ کہا کہ مجھے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تھی ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے چہرے سے غم ظاہر ہو رہا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں دروازے کی دراڑ سے جھانک رہی تھی۔ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتیں چلاّ کر رو رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں روک دو۔ بیان کیا کہ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ کر کہا کہ میں نے انہیں روکا اور یہ بھی کہہ دیا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی۔ پھر اس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع کرنے کے لیے فرمایا۔ وہ صاحب پھر جا کر واپس آئے اور کہا: قسم اللہ کی! وہ تو ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دو۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ میں نے کہا: اللہ تیری ناک غبار آلود کرے نہ تو تو عورتوں کو روک سکا نہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا ہی چھوڑا۔
Narrated 'Amir: Whenever Ibn `Umar greeted the son of Ja`far, he used to say (to him), Assalam 'Alaika (i.e. peace be on you) O the son of two-winged person.
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے عامر شعبی نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے لیے سلام بھیجتے تو السلام علیک یا ابن ذی الجناحین کہتے۔
Narrated Khalid bin Al-Walid: On the day (of the battle of) Mu'tah, nine swords were broken in my hand, and nothing was left in my hand except a Yemenite sword of mine.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ نو تلواریں ٹوٹی تھیں۔ صرف ایک یمن کا بنا ہوا چوڑے پھل کا تیغہ باقی رہ گیا تھا۔
Narrated Khalid bin Al-Walid: On the day of Mu'tah, nine swords were broken in my hand and only a Yemenite sword of mine remained in my hand.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں ‘ صرف ایک یمنی تیغہ میرے ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا۔
Narrated An-Nu`man bin Bashir: `Abdullah bin Rawaha fell down unconscious and his sister `Amra started crying and was saying loudly, O Jabala! Oh so-and-so! Oh so-and-so! and went on calling him by his (good ) qualities one by one). When he came to his senses, he said (to his sister), When-ever you said something, I was asked, 'Are you really so (i.e. as she says)?
مجھ سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے عامر شعبی نے اور ان سے نعمان بن بشیر نے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر ( ایک مرتبہ کسی مرض میں ) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ والدہ نعمان بن بشیر یہ سمجھ کر کہ کوئی حادثہ آ گیا ‘ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے لیے پکار کر رونے لگیں۔ ہائے میرے بھائی ہائے ‘ میرے ایسے اور ویسے۔ ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے گنانے لگیں لیکن جب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے۔
Narrated Ash Shabi: An Nu`man bin Bashir said, Abdullah bin Rawaha fell down unconscious.. (and mentioned the above Hadith adding, Thereupon, when he died she (i.e. his sister) did not weep over him.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبثر بن قاسم نے بیان کیا ‘ ان سے حصین نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بے ہوشی ہو گئی تھی ‘ پھر اوپر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ چنانچہ جب ( غزوہ موتہ ) میں وہ شہید ہوئے تو ان کی بہن ان پر نہیں روئیں۔