صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب غزوات کے بیان میں

The book of al- maghazi.

قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان

(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ .

Narrated Abu Musa: My brother and I came from Yemen (to Medina) and remained for some time, thinking that Ibn Masud and his mother belonged to the family of the Prophet because of their frequent entrance (upon the Prophet) and their being attached to him.

مجھ سے عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں اور میرے بھائی ابورحم یا ابوبردہ یمن سے آئے تو ہم ( ابتداء میں ) بہت دنوں تک یہ سمجھتے رہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات دن بہت آیا جایا کرتے تھے اور ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ أَبُو مُوسَى أَكْرَمَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ جَرْمٍ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَهُ وَهُوَ يَتَغَدَّى دَجَاجًا ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ ، فَدَعَاهُ إِلَى الْغَدَاءِ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ ، فَقَالَ : هَلُمَّ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ ، فَقَالَ : إِنِّي حَلَفْتُ لَا آكُلُهُ ، فَقَالَ : هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنْ يَمِينِكَ ، إِنَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ ، فَأَبَى أَنْ يَحْمِلَنَا ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُتِيَ بِنَهْبِ إِبِلٍ ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ ، فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا ، قُلْنَا : تَغَفَّلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَقَدْ حَمَلْتَنَا ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنْ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا .

Narrated Zahdam: When Abu Musa arrived (at Kufa as a governor) he honored this family of Jarm (by paying them a visit). I was sitting near to him, and he was eating chicken as his lunch, and there was a man sitting amongst the people. Abu Musa invited the man to the lunch, but the latter said, I saw chickens (eating something (dirty) so I consider them unclean. Abu Musa said, Come on! I saw the Prophet eating it (i.e. chicken). The man said I have taken an oath that I will not ea (chicken) Abu Musa said. Come on! I will tell you about your oath. We, a group of Al-Ash`ariyin people went to the Prophet and asked him to give us something to ride, but the Prophet refused. Then we asked him for the second time to give us something to ride, but the Prophet took an oath that he would not give us anything to ride. After a while, some camels of booty were brought to the Prophet and he ordered that five camels be given to us. When we took those camels we said, We have made the Prophet forget his oath, and we will not be successful after that. So I went to the Prophet and said, O Allah' Apostle ! You took an oath that you would not give us anything to ride, but you have given us. He said, Yes, for if I take an oath and later I see a better solution than that, I act on the later (and gave the expiation of that oaths

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے زہدم نے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ( کوفہ کے امیر بن کر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ) آئے تو اس قبیلہ جرم کا انہوں نے بہت اعزاز کیا۔ زہدم کہتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ مرغ کا ناشتہ کر رہے تھے۔ حاضرین میں ایک اور صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کھانے پر بلایا تو ان صاحب نے کہا کہ جب سے میں نے مرغیوں کو کچھ ( گندی ) چیزیں کھاتے دیکھا ہے، اسی وقت سے مجھے اس کے گوشت سے گھن آنے لگی ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آؤ بھائی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ ان صاحب نے کہا لیکن میں نے اس کا گوشت نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم آ تو جاؤ میں تمہیں تمہاری قسم کے بارے میں بھی علاج بتاؤں گا۔ ہم قبیلہ اشعر کے چند لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ( غزوہ تبوک کے لیے ) جانور مانگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے۔ ہم نے پھر آپ سے مانگا تو آپ نے اس مرتبہ قسم کھائی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے لیکن ابھی کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ غنیمت میں کچھ اونٹ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے پانچ اونٹ ہم کو دلائے۔ جب ہم نے انہیں لے لیا تو پھر ہم نے کہا کہ یہ تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دیا۔ آپ کو غفلت میں رکھا، قسم یاد نہیں دلائی۔ ایسی حالت میں ہماری بھلائی کبھی نہیں ہو گی۔ آخر میں آپ کے پاس آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تو قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے پھر آپ نے سواری دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن جب بھی میں کوئی قسم کھاتا ہوں اور اس کے سوا دوسری صورت مجھے اس سے بہتر نظر آتی ہے تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے ( اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں ) ۔

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ، قَالُوا : أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ .

Narrated `Imran bin Husain: The people of Banu Tamim came to Allah's Apostle, and he said, Be glad (i.e. have good tidings). O Banu Tamim! They said, As you have given us good tidings then give us (some material things). On that the features of Allah's Apostle changed (i.e. he took it ill). Then some people from Yemen came, and the Prophet said (to them) Accept good tidings as Banu Tamim have not accepted them. They said, We accept them, O Allah's Apostle!

مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصخرہ جامع بن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن محرز مازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْإِيمَانُ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ وَالْجَفَاءُ ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ .

Narrated Abu Masud: The Prophet beckoned with his hand towards Yemen and said, Belief is there. The harshness and mercilessness are the qualities of those farmers etc, who are busy with their camels and pay no attention to the religion (is towards the east) from where the side of the head of Satan will appear; those are the tribes of Rabi`a and Mudar.

ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور بےرحمی اور سخت دلی اونٹ کی دم کے پیچھے پیچھے چلانے والوں میں ہے، جدھر سے شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں ( یعنی مشرق ) قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ، وَقَالَ غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The people of Yemen have come to you and they are more gentle and soft-hearted. Belief is Yemenite and Wisdom is Yemenite, while pride and haughtiness are the qualities of the owners of camels (i.e. bedouins). Calmness and solemnity are the characters of the owners of sheep.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آ گئے ہیں، ان کے دل کے پردے باریک، دل نرم ہوتے ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں۔ اور غندر نے بیان کیا اس حدیث کو شعبہ سے، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْفِتْنَةُ هَا هُنَا هَا هُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ .

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Belief is Yemenite while afflictions appear from there (the east) from where the side of the head of Satan will appear.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابن بلال نے، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث (سالم) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یمن کا ہے اور فتنہ ( دین کی خرابی ) ادھر سے ہے اور ادھر ہی سے شیطان کے سر کا کونا نمودار ہو گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ .

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The people of Yemen have come to you, and they are more soft hearted and gentle hearted people. The capacity for understanding religion is Yemenite and Wisdom is Yemenite.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آئے ہیں جو نرم دل رقیق القلب ہیں، دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَجَاءَ خَبَّابٌ ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيَسْتَطِيعُ هَؤُلَاءِ الشَّبَابُ أَنْ يَقْرَءُوا كَمَا تَقْرَأُ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ شِئْتَ أَمَرْتُ بَعْضَهُمْ يَقْرَأُ عَلَيْكَ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : اقْرَأْ يَا عَلْقَمَةُ ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ أَخُو زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ : أَتَأْمُرُ عَلْقَمَةَ أَنْ يَقْرَأَ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْمِكَ وَقَوْمِهِ ، فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَيْفَ تَرَى ؟ قَالَ : قَدْ أَحْسَنَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا وَهُوَ يَقْرَؤُهُ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : أَلَمْ يَأْنِ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَنْ تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَلْقَاهُ .رَوَاهُ غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ .

Narrated Alqama: We were sitting with Ibn Masud when Khabbab came and said, O Abu `Abdur-Rahman! Can these young fellows recite Qur'an as you do? Ibn Mas`ud said, If you wish I can order one of them to recite (Qur'an) for you . Khabbab replied, Yes. Ibn Mas`ud said, Recite, O 'Alqama! On that, Zaid bin Hudair, the brother of Ziyad bin Hudair said, (to Ibn Mas`ud), Why have you ordered 'Alqama to recite though he does not recite better than we? Ibn Mas`ud said, If you like, I would tell you what the Prophet said about your nation and his (i.e. 'Alqama's) nation. So I recited fifty Verses from Sura-Maryam. `Abdullah (bin Mas`ud) said to Khabbab, What do you think (about 'Alqama's recitation)? Khabbab said, He has recited well. `Abdullah said, Whatever I recite, 'Alqama recites. Then `Abdullah turned towards Khabbab and saw that he was wearing a gold ring, whereupon he said, Hasn't the time for its throwing away come yet? Khabbab said, You will not see me wearing it after today, and he throw it away.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ مشہور صحابی تشریف لائے اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا یہ نوجوان لوگ ( جو تمہارے شاگرد ہیں ) اسی طرح قرآن پڑھ سکتے ہیں جیسے آپ پڑھتے ہیں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں کسی سے تلاوت کے لیے کہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: علقمہ! تم پڑھو، زید بن حدیر، زیاد بن حدیر کے بھائی، بولے آپ علقمہ سے تلاوت قرآن کے لیے فرماتے ہیں حالانکہ وہ ہم سب سے اچھے قاری نہیں ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سنا دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم کے حق میں فرمائی تھی۔ خیر علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے سورۃ مریم کی پچاس آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہو کیسا پڑھتا ہے؟ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا بہت خوب پڑھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو آیت بھی میں جس طرح پڑھتا ہوں علقمہ بھی اسی طرح پڑھتا ہے، پھر انہوں نے خباب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، تو کہا: کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ یہ انگوٹھی پھینک دی جائے۔ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج کے بعد آپ یہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے انگوٹھی اتار دی۔ اسی حدیث کو غندر نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔