صحیح بخاری

Sahih Bukhari

قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

The book of commentary.

آیت ( ( کنتم خیر امۃ ) ) الخ کی تفسیر

(7) CHAPTER. “You (true believers in Islamic Monotheism, and real followers of Prophet Muhammad and his Sunna) are the best of peoples ever raised up for mankind... (V.3:110)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110 ، قَالَ : خَيْرَ النَّاسِ لِلنَّاسِ ، تَأْتُونَ بِهِمْ فِي السَّلَاسِلِ فِي أَعْنَاقِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ .

Narrated Abu Huraira: The Verse:-- You (true Muslims) are the best of peoples ever raised up for mankind. means, the best of peoples for the people, as you bring them with chains on their necks till they embrace Islam.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ان سے سفیان نے، ان سے میسرہ نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت «كنتم خير أمة أخرجت للناس‏» ”تم لوگ لوگوں کے لیے سب لوگوں سے بہتر ہو“ اور کہا ان کو گردنوں میں زنجیریں ڈال کر ( لڑائی میں گرفتار کر کے ) لاتے ہو پھر وہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔