صحیح بخاری

Sahih Bukhari

قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

The book of commentary.

آیت ( ( اذتلقونہ بالسنتکم ....الایۃ ) ) کی تفسیر

(8) CHAPTER. “When you were propagating it with your tongues, and uttering with your mouths that whereof you had no knowledge...” (V.24:15)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقْرَأُ : 0 إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ 0 4 .

Narrated Ibn Abi Mulaika: I heard `Aisha reciting: When you invented a lie (and carry it) on your tongues. (24.15)

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی کہ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ مذکورہ بالا آیت «إذ تلقونه بألسنتكم‏» ( جب تم اپنی زبانوں سے اسے منہ در منہ نقل کر رہے تھے ) پڑھ رہی تھیں۔