صحیح بخاری

Sahih Bukhari

قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

The book of commentary.

آیت ( ( سیصلیٰ نارا ذات لھب ) ) کی تفسیر

(3) CHAPTER. The Statement of Allah: “He (Abu Lahab) will be burnt in a Fire of blazing flames!” (V.111:3)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ أَبُو لَهَبٍ : تَبًّا لَكَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا ، فَنَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ سورة المسد آية 1 إِلَى آخِرِهَا .

Narrated Ibn `Abbas: Abu Lahab said, May you perish! Is it' for this that you have gathered us? So there was revealed:-- 'Parish the hands of Abu Lahab'.

ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابولہب نے کہا تھا کہ تو تباہ ہو۔ کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟ اس پر یہ آیت «تبت يدا أبي لهب‏» نازل ہوئی۔