TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of the virtues of the quran. - کتاب قرآن کے فضائل کا بیان - Book 67 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 67 of Sahih Bukhari, with 37 chapters and 85 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

85 Hadith · 37 Chapters
(26) CHAPTER. Forgetting the Quran. And can one say: “I forgot such and such a Verse?”
قرآنمجید کو بھلادینا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ فِي سُورَةٍ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا .
Narrated Aisha: Allah's Apostle heard a man reciting the Qur'an at night, and said, May Allah bestow His Mercy on him, as he has reminded me of such-and-such Verses of such-and-such Suras, which I was caused to forget.
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو رات کے وقت ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں۔
5038
Sahih
(26) CHAPTER. Forgetting the Quran. And can one say: “I forgot such and such a Verse?”
قرآنمجید کو بھلادینا
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ :نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, Why does anyone of the people say, 'I have forgotten such-and-such Verses (of the Qur'an)?' He, in fact, is caused (by Allah) to forget.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا بلکہ اسے ( یوں کہنا چاہئے ) کہ میں فلاں فلاں آیتوں کو بھلا دیا گیا۔
5039
Sahih
(27) CHAPTER. Whoever thinks that there is no harm in saying: Surat Al-Baqarah (The Cow) or Surat so-and-so.
جن کے نزدیک سورۃ البقرہ یا فلاں فلاں سورت ( نام کے ساتھ ) کہنے میں کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَ بِهِمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ .
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari: The Prophet said, If one recites the last two Verses of Surat-al-Baqara at night, it is sufficient for him (for that night).
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ اور عبدالرحمٰن بن یزید نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتوں کو جو شخص رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔
5040
Sahih
(27) CHAPTER. Whoever thinks that there is no harm in saying: Surat Al-Baqarah (The Cow) or Surat so-and-so.
جن کے نزدیک سورۃ البقرہ یا فلاں فلاں سورت ( نام کے ساتھ ) کہنے میں کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ ، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ ؟ قَالَ : أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : كَذَبْتَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقُودُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا ، وَإِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ ، فَقَالَ : يَا هِشَامُ ، اقْرَأْهَا ؟ فَقَرَأَهَا الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ : اقْرَأْ يَا عُمَرُ ، فَقَرَأْتُهَا الَّتِي أَقْرَأَنِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ .
Narrated `Umar bin Khattab: I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting Surat-al-Furqan during the lifetime of Allah's Apostle, and I listened to his recitation and noticed that he recited it in several ways which Allah's Apostle had not taught me. So I was on the point of attacking him in the prayer, but I waited till he finished his prayer, and then I seized him by the collar and said, Who taught you this Surah which I have heard you reciting? He replied, Allah's Apostle taught it to me. I said, You are telling a lie; By Allah! Allah's Apostle taught me (in a different way) this very Surah which I have heard you reciting. So I took him, leading him to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! I heard this person reciting Surat-al-Furqan in a way that you did not teach me, and you have taught me Surat-al-Furqan. The Prophet said, O Hisham, recite! So he recited in the same way as I heard him recite it before. On that Allah's Apostle said, It was revealed to be recited in this way. Then Allah's Apostle said, Recite, O `Umar! So I recited it as he had taught me. Allah's Apostle then said, It was revealed to be recited in this way. Allah Apostle added, The Qur'an has been revealed to be recited in several different ways, so recite of it that which is easier for you.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے مسعود بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے خبر دی کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں ان کی قرآت کو غور سے سننے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے بہت سے طریقوں میں تلاوت کر رہے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھایا تھا۔ ممکن تھا کہ میں نماز ہی میں ان کا سر پکڑ لیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر لپیٹ دی اور پوچھا یہ سورتیں جنہیں ابھی ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے تمہیں کس نے سکھائی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح ان سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورتیں پڑھائی ہیں جو میں نے تم سے سنیں۔ میں انہیں کھینچتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے خود سنا کہ یہ شخص سورۃ الفرقان ایسی قرآت سے پڑھ رہا تھا۔ جس کی تعلیم آپ نے ہمیں نہیں دی ہے آپ مجھے بھی سورۃ الفرقان پڑھا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہشام! پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے اسی طرح اس کی قرآت کی جس طرح میں ان سے سن چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! اب تم پڑھو۔ میں نے بھی اسی طرح قرآت کی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید سات قسم کی قراتوں پر نازل ہوا ہے بس تمہارے لیے جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔
5041
Sahih
(27) CHAPTER. Whoever thinks that there is no harm in saying: Surat Al-Baqarah (The Cow) or Surat so-and-so.
جن کے نزدیک سورۃ البقرہ یا فلاں فلاں سورت ( نام کے ساتھ ) کہنے میں کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا .
Narrated `Aisha: The Prophet heard a reciter reciting, the Qur'an in the mosque at night. The Prophet said, May Allah bestow His Mercy on him, as he has remind ed me of such-and-such Verses of such and-such Suras, which I missed!
ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری کو رات کے وقت مسجد میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس آدمی پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا۔
5042
Sahih
(27) CHAPTER. Whoever thinks that there is no harm in saying: Surat Al-Baqarah (The Cow) or Surat so-and-so.
جن کے نزدیک سورۃ البقرہ یا فلاں فلاں سورت ( نام کے ساتھ ) کہنے میں کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ ، فَقَالَ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ، إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ ، وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم .
Narrated Abu Wail: We went to `Abdullah in the morning and a man said, Yesterday I recited all the Mufassal Suras. On that `Abdullah said, That is very quick, and we have the (Prophet's) recitation, and I remember very well the recitation of those Suras which the Prophet used to recite, and they were eighteen Suras from the Mufassal, and two Suras from the Suras that start with Ha Mim.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے واصل احدب نے، ان سے ابووائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم ان کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے ( تمام ) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہو گی۔ ہم سے قرآت سنی ہے اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں «حم‏.‏» ہے۔
5043
Sahih
(28) CHAPTER. The recitation of Quran in Tartil (clearly and in slow style).
قرآنمجید کی تلاوت صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر کرنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فِي قَوْلِهِ : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ ، وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ سورة القيامة آية 1 ، لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ { 16 } إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ { 17 } فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ { 18 } سورة القيامة آية 16-18 فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 ، قَالَ : إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ .
Narrated Ibn `Abbas: Regarding His (Allah's) Statement:-- 'Move not your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith.' (75.16) And whenever Gabriel descended to Allah's Apostle with the Divine Inspiration, Allah's Apostle used to move his tongue and lips, and that used to be hard for him, and one could easily recognize that he was being inspired Divinely. So Allah revealed the Verse which occurs in the Surah starting with I do swear by the Day of Resurrection.' (75.1) i.e. 'Move not your tongue concerning (the Qur'an) to make haste then with. It is for Us to collect it (in your mind) (O Muhammad) an give you the ability to recite it 'by heart.' (75.16-17) which means: It is for us to collect it (in your mind) and give you the ability to recite it by heart. And when We have recited it to you (O Muhammad) through Gabriel then follow you its recital. (75.18) means: 'When We reveal it (the Qur'an) to you, Listen to it.' for then: It is for Us to explain it and make it clear to you' (75.19) i.e. It is up to Us to explain it through your tongue. So, when Gabriel came to him, Allah's Apostle would listen to him attentively, and as soon as Gabriel left, he would recite the Revelations, as Allah had promised him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان «لا تحرك به لسانك لتعجل به‏» ”آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں۔“ بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آپ کے لیے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہو جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة‏» میں ہے، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ سر جھکا لیتے اور جب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیا تھا کہ تیرے دل میں جما دینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے۔
5044
Sahih
(29) CHAPTER. Prolonging certain sounds while reciting the Quran.
قرآنمجید پڑھنے میں مد کر نا یعنی جہاں مد ہو اس حرف کو کھینچ کر ادا کرنا
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : كَانَ يَمُدُّ مَدًّا .
Narrated Qatada: I asked Anas bin Malik about the recitation of the Prophet. He said, He used to pray long (certain sounds) very much.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم ازدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت قرآن مجید کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کو کھینچ کر پڑھتے تھے جن میں مد ہوتا تھا۔
5045
Sahih
(29) CHAPTER. Prolonging certain sounds while reciting the Quran.
قرآنمجید پڑھنے میں مد کر نا یعنی جہاں مد ہو اس حرف کو کھینچ کر ادا کرنا
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ : كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : كَانَتْ مَدًّا ، ثُمَّ قَرَأَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ .
Narrated Qatada: Anas was asked, How was the recitation (of the Qur'an) of the Prophet?' He replied, It was characterized by the prolongation of certain sounds. He then recited: In the Name of Allah, the Most Beneficent, the Most Merciful prolonging the pronunciation of 'In the Name of Allah, 'the most Beneficent,' and 'the Most Merciful
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کیسی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مد کے ساتھ۔ پھر آپ نے «بسم الله الرحمن الرحيم» پڑھا اور کہا کہ «بسم الله» ( میں اللہ کی لام ) کو مد کے ساتھ پڑھتے «الرحمن» ( میں میم ) کو مد کے ساتھ پڑھتے اور «الرحيم‏.» ( میں حاء کو ) مد کے ساتھ پڑھتے۔
5046
Sahih
(30) CHAPTER. At-Tajri (to recite the Quran in a sort of attraction viberating tone).
قر آن شریف پڑھتے وقت حلق میں آواز کو گھمانا اور خوش آوازی سے قرآن شریف پڑھنا
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ أَوْ جَمَلِهِ وَهِيَ تَسِيرُ بِهِ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ ، أَوْ مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ قِرَاءَةً لَيِّنَةً يَقْرَأُ وَهُوَ يُرَجِّعُ .
Narrated `Abdullah bin Mughaffal: I saw the Prophet reciting (Qur'an) while he was riding on his she camel or camel which was moving, carrying him. He was reciting Surat Fath or part of Surat Fath very softly and in an Attractive vibrating tone.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوایاس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی یا اونٹ پر سوار ہو کر تلاوت کر رہے تھے سواری چل رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے یا ( راوی نے یہ بیان کیا کہ ) سورۃ الفتح میں سے پڑھ رہے تھے نرمی اور آہستگی کے ساتھ قرآت کر رہے تھے اور آواز کو حلق میں دہراتے تھے۔
5047
Sahih
(31) CHAPTER. To recite the Quran in a charming voice.
خوشالحانی کے ساتھ تلا وت کرنا مستحب ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : يَا أَبَا مُوسَى ، لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ .
Narrated Abu Musa: That the Prophet said to him' O Abu Musa! You have been given one of the musical windinstruments of the family of David .'
ہم سے محمد بن خلف ابوبکر عسقلانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابویحییٰ حمانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوموسیٰ! تجھے داؤد علیہ السلام جیسی بہترین آواز عطا کی گئی ہے۔“
5048
Sahih
(32) CHAPTER. Whoever likes to hear the Quran from another person.
اس شخص کے بارے میں جس نے قرآنمجید کو دوسرے سے سننا پسند کیا
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ ، قُلْتُ : أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ، قَالَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي .
Narrated `Abdullah: That the Prophet said to him, Recite the Qur'an to me. `Abdullah said, Shall I recite (the Qur'an) to you while it has been revealed to you? He said, I like to hear it from others.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا میں آپ کو قرآن سناؤں آپ پر تو قرآن نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قرآن مجید دوسرے سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔
5049
Sahih
(33) CHAPTER. The saying of the listener (to the recitation of the Quran) to the reciter: “Enough!”
قرآنمجید سننے والے کا پڑھنے والے سے کہنا کہ بس کر بس کر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ عَلَيَّ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ، قَالَ : نَعَمْ . فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 ، قَالَ : حَسْبُكَ الْآنَ ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ .
Narrated `Abdullah bin Mas`ud: The Prophet said to me, Recite (the Qur'an) to me. I said, O Allah's Apostle Shall I recite (the Qur'an) to you while it has been revealed to you? He said, Yes. So I recited Surat-An-Nisa' (The Women), but when I recited the Verse: 'How (will it be) then when We bring from each nation a witness and We bring you (O Muhammad) as a witness against these people.' (4.41) He said, Enough for the present, I looked at him and behold! His eyes were overflowing with tears
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو پڑھ کر سناؤں، آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سناؤ۔ چنانچہ میں نے سورۃ نساء پڑھی جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا‏» پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بس کرو۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
5050
Sahih
(34) CHAPTER. What is the proper period for reciting the whole Quran.
کتنی مدت میں قرآنمجید ختم کرنا چاہئے ؟
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ لِي ابْنُ شُبْرُمَةَ : نَظَرْتُ كَمْ يَكْفِي الرَّجُلَ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَلَمْ أَجِدْ سُورَةً أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ ، فَقُلْتُ : لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقْرَأَ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ . قَالَ عَلِيٌّ ، قَالَ سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَخْبَرَهُ عَلْقَمَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ وَلَقِيتُهُ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ .
Narrated Sufyan: Ibn Shubruma said, I wanted to see how much of the Qur'an can be enough (to recite in prayer) and I could not find a Surah containing less than three Verses, therefore I said to myself), One ought not to recite less than three (Quranic) Verses (in prayer). Narrated Abu Mas'ud: The Prophet said, If somebody recites the last two Verses of Surat al-Baqara at night, it will be sufficient for him.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شبرمہ نے بیان کیا (جو کوفہ کے قاضی تھے) کہ میں نے غور کیا کہ نماز میں کتنا قرآن پڑھنا کافی ہو سکتا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک سورت میں تین آیتوں سے کم نہیں ہے۔ اس لیے میں نے یہ رائے قائم کی کہ کسی کے لیے تین آیتوں سے کم پڑھنا مناسب نہیں۔ علی المدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم کو منصور نے خبر دی، انہیں ابراہیم نے، انہیں عبدالرحمٰن بن یزید نے، انہیں علقمہ نے خبر دی اور انہیں ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ( علقمہ نے بیان کیا کہ ) میں نے ان سے ملاقات کی تو وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) کہ جس نے سورۃ البقرہ کے آخری کی دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اس کے لیے کافی ہیں۔
5051
Sahih
(34) CHAPTER. What is the proper period for reciting the whole Quran.
کتنی مدت میں قرآنمجید ختم کرنا چاہئے ؟
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ ، فَكَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ ، فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا ، فَتَقُولُ : نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا ، وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الْقَنِي بِهِ ، فَلَقِيتُهُ بَعْدُ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَصُومُ ؟ قَالَ : كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : وَكَيْفَ تَخْتِمُ ؟ قَالَ : كُلَّ لَيْلَةٍ ، قَالَ : صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةً ، وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْجُمُعَةِ ، قُلْتُ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ وَصُمْ يَوْمًا ، قَالَ : قُلْتُ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ ، صَوْمَ دَاوُدَ ، صِيَامَ يَوْمٍ وَإِفْطَارَ يَوْمٍ ، وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً ، فَلَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَاكَ أَنِّي كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ ، فَكَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ مِنَ الْقُرْآنِ بِالنَّهَارِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَأَحْصَى وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا ، فَارَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فِي ثَلَاثٍ وَفِي خَمْسٍ وَأَكْثَرُهُمْ عَلَى سَبْعٍ .
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al `As: My father got me married to a lady of a noble family, and often used to ask my wife about me, and she used to reply, What a wonderful man he is! He never comes to my bed, nor has he approached me since he married me. When this state continued for a long period, my father told the story to the Prophet who said to my father, Let me meet him. Then I met him and he asked me, How do you fast? I replied, I fast daily, He asked, How long does it take you to finish the recitation of the whole Qur'an? I replied, I finish it every night. On that he said, Fast for three days every month and recite the Qur'an (and finish it) in one month. I said, But I have power to do more than that. He said, Then fast for three days per week. I said, i have the power to do more than that. He said, Therefore, fast the most superior type of fasting, (that is, the fasting of (prophet) David who used to fast every alternate day; and finish the recitation of the whole Qur'an In seven days. I wish I had accepted the permission of Allah's Apostle as I have become a weak old man. It is said that `Abdullah used to recite one-seventh of the Qur'an during the day-time to some of his family members, for he used to check his memorization of what he would recite at night during the daytime so that it would be easier for him to read at night. And whenever he wanted to gain some strength, he used to give up fasting for some days and count those days to fast for a similar period, for he disliked to leave those things which he used to do during the lifetime of the Prophet.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے میرا نکاح ایک شریف خاندان کی عورت ( ام محمد بنت محمیہ ) سے کر دیا تھا اور ہمیشہ اس کی خبرگیری کرتے رہتے تھے اور ان سے باربار اس کے شوہر ( یعنی خود ان ) کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ میری بیوی کہتی کہ بہت اچھا مرد ہے۔ البتہ جب سے میں ان کے نکاح میں آئی ہوں انہوں نے اب تک ہمارے بستر پر قدم بھی نہیں رکھا نہ میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ ڈالا۔ جب بہت دن اسی طرح ہو گئے تو والد صاحب نے مجبور ہو کر اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی ملاقات کراؤ۔ چنانچہ میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ روزہ کس طرح رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ روزانہ پھر دریافت فرمایا قرآن مجید کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہر رات۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کرو۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بلا روزے کے رہو اور ایک دن روزے سے۔ میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ روزہ رکھو جو سب سے افضل ہے، یعنی داؤد علیہ السلام کا روزہ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور قرآن مجید سات دن میں ختم کرو۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی کیونکہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں۔ حجاج نے کہا کہ آپ اپنے گھر کے کسی آدمی کو قرآن مجید کا ساتواں حصہ یعنی ایک منزل دن میں سنا دیتے تھے۔ جتنا قرآن مجید آپ رات کے وقت پڑھتے اسے پہلے دن میں سنا رکھتے تاکہ رات کے وقت آسانی سے پڑھ سکیں اور جب ( قوت ختم ہو جاتی اور نڈھال ہو جاتے اور ) قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے کیونکہ آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ جس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے وعدہ کر لیا ہے ( ایک دن روزہ رکھنا ایک دن افطار کرنا ) اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے تین دن میں اور بعض نے پانچ دن میں۔ لیکن اکثر نے سات راتوں میں ختم کی حدیث روایت کی ہے۔
5052
Sahih
(34) CHAPTER. What is the proper period for reciting the whole Quran.
کتنی مدت میں قرآنمجید ختم کرنا چاہئے ؟
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: The Prophet asked me, How long does it take you to finish the recitation of the whole Qur'an?
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ قرآن مجید تم کتنے دن میں ختم کر لیتے ہو؟
5053
Sahih
(34) CHAPTER. What is the proper period for reciting the whole Quran.
کتنی مدت میں قرآنمجید ختم کرنا چاہئے ؟
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : وَأَحْسِبُنِي قَالَ : سَمِعْتُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ، قُلْتُ : إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، حَتَّى قَالَ : فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: Allah's Apostle said to me, Recite the whole Qur'an in one month's time. I said, But I have power (to do more than that). Allah's Apostle said, Then finish the recitation of the Qur'an in seven days, and do not finish it in less than this period.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں شیبان نے، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں بنی زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، یحییٰ نے کہا اور میں خیال کرتا ہوں شاید میں نے یہ حدیث خود ابوسلمہ سے سنی ہے۔ بلاواسطہ (محمد بن عبدالرحمٰن کے) خیر ابوسلمہ نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کرو میں نے عرض کیا مجھ کو تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا سات راتوں میں ختم کیا کرو اس سے زیادہ مت پڑھ۔
5054
Sahih
(35) CHAPTER. To weep while reciting the Quran.
قرآنمجید کی تلاوت کرتے وقت ( خوف الٰہی سے ) رونا
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ يَحْيَى : بَعْضُ الْحَدِيثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
Narrated `Abdullah (bin Mas`ud): Allah's Apostle said (to me), Recite the Qur'an to me. I said, Shall I recite (it) to you while it has been revealed to you? He said, I like to hear it from another person. So I recited Surat An-Nisa (The Women) till I reached the Verse: 'How (will it be) then when We bring from each nation a witness, and We bring you (O Muhammad) as a witness against these people.' (4.41) Then he said to me, Stop! Thereupon I saw his eyes overflowing with tears.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں سلیمان نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں عبیدہ سلمانی نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یحییٰ بن قطان نے کہا اس حدیث کا کچھ ٹکڑا اعمش نے ابراہیم سے سنا ہے کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
5055
Sahih
(35) CHAPTER. To weep while reciting the Quran.
قرآنمجید کی تلاوت کرتے وقت ( خوف الٰہی سے ) رونا
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ عَلَيَّ ، قُلْتُ : أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ، قَالَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي .
Narrated `Abdullah bin Masud: The Prophet said to me, Recite Qur'an to me. I said to him. Shall I recite (it) to you while it has been revealed to you? He said, I like to hear it from another person.
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: کیا میں سناؤں؟آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کسی سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔
5056
Sahih
(36) CHAPTER. The sin of the person who recites the Quran to show off or to gain some worldly benefit, or to feel proud etc.
اس شخص کی برائی میں جس نے دکھاوے یا شکم پروری یا فخر کے لئے قرآنمجید کو پڑھا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
Narrated `Ali: I heard the Prophet saying, In the last days (of the world) there will appear young people with foolish thoughts and ideas. They will give good talks, but they will go out of Islam as an arrow goes out of its game, their faith will not exceed their throats. So, wherever you find them, kill them, for there will be a reward for their killers on the Day of Resurrection.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن کوفی نے، ان سے سوید بن غفلہ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم پیدا ہو گی نوجوانوں اور کم عقلوں کی۔ یہ لوگ ایسا بہترین کلام پڑھیں گے جو بہترین خلق کا ( پیغمبر کا ) ہے یا ایسا کلام پڑھیں گے جو سارے خلق کے کلاموں سے افضل ہے۔ ( یعنی حدیث یا آیت پڑھیں گے اس سے سند لائیں گے ) لیکن اسلام سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کر کے نکل جاتا ہے ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو۔ کیونکہ ان کا قتل قیامت میں اس شخص کے لیے باعث اجر ہو گا جو انہیں قتل کر دے گا۔
5057
Sahih

Chapters

37
01
(1) CHAPTER. How the Divine Revelation used to be revealed and what was the first thing revealed (to the Messenger ).
6 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Quran was revealed in the language of Quraish and the Arabs. ...An Arabic Quran... (V.12:2) In the plain Arabic language. (V.26:195)
قرآنمجید قریش اور عرب کے محاورہ میں نازل ہوا
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The collection of the Quran.
قرآنمجید کے جمع کرنے کا بیان
3 Hadith
04
(4) CHAPTER. The scribe of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب کا بیان
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. The Quran was revealed to be recited in seven different ways.
قرآنمجید سات قراتوں سے نازل ہوا ہے
2 Hadith
06
(6) CHAPTER. The compilation of the Quran (i.e., the arrangement of its Surah).
قرآنمجید یا آیتوں کی ترتیب کا بیان
4 Hadith
07
(7) CHAPTER. Jibril (Gabriel) used to present (recite) the Quran to the Prophet .
۔ ۔ ۔
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. (What is said regarding) the Qurra (the reciters of the Quran by heart) from among the Companions of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں قرآن کے قاری ( حافظ ) کون کون تھے ؟
3 Hadith
09
(8) CHAPTER. (What is said regarding) the Qurra (the reciters of the Quran by heart) from among the Companions of the Prophet .
سورۃ الفاتحہ کی فضیلت کا بیان ۔ ۔ فضائل آمین
6 Hadith
10
(10) CHAPTER. The superiority of Surat Al-Baqarah (The Cow) [No.2].
سورۃ البقرہ کی فضیلت کے بیان میں
3 Hadith
11
(11) CHAPTER. The superiority of Surat Al-Kahf (The Cave) [No.18].
سورۃ الکہف کی فضیلت کے بیان میں
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. The superiority of Surat Al-Fath (The Victory) [No.48].
سورۃ الفتح کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The superiority of Qul-Huwa Allahu Ahad. [ Say (O Muhammad ): He is Allah, (the) One. ] (i.e., Surat Al-Iklas) [No.112].
سورۃ قلھواللہاحد کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
14
(14) CHAPTER. The superiority of Al-Muawwidhat (Surat Al-Falaq and Surat An-Nas) [No.113 & 114].
معوذات کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
15
(15) CHAPTER. The descent of As-Sakinah (peace, reassurance and tranquillity) and angels at the time of the recitation of the Quran.
قرآن کی تلاوت کے وقت سکینت اورفرشتوں کے اترنے کا بیان
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. Whoever said that the Prophet did not leave anything after his death, except what is between the two binders (of the Quran).
اس کے بارے میں جس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن ترکہ میں چھوڑا وہ سب مصحف میں دو لوحوں کے درمیان محفوظ ہے ‘ اس کا کہنایہ صحیح ہے
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. The superiority of the Quran above other kinds of speech.
قرآنمجید کی فضیلت دوسرے تمام کلاموں پر کس قدر ہے ؟
2 Hadith
18
(18) CHAPTER. To recommend the Book of Allah (the Quran).
کتاباللہ پر عمل کرنے کی وصیت کا بیان
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. Whoever does not recite the Quran in a pleasant tone.
اس شخص کے بارے میں جو قرآنمجید کو خوش آواز ی سے نہ پڑھے
2 Hadith
20
(20) CHAPTER. Wish to be the like of the one who recites the Quran.
قرآنمجید پڑھنے والے پر رشک کرنا جائز ہے
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. The best among you (Muslims) are those who learn the Quran and teach it (to others).
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآنمجید پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے
3 Hadith
22
(22) CHAPTER. The recitation of the Quran by heart.
زبانی قرآنمجید کی تلاوت کرنا
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. The learning of the Quran by heart and the reciting of it repeatedly.
قرآنمجید کو ہمیشہ پڑھتے اور یاد کرتے رہنا
3 Hadith
24
(24) CHAPTER. The recitation of the Quran on an animal.
سواری پر تلاوت کرنا
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. Teaching the Quran to the children.
بچوں کو قرآنمجید کی تعلیم دینا
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. Forgetting the Quran. And can one say: “I forgot such and such a Verse?”
قرآنمجید کو بھلادینا
3 Hadith
27
(27) CHAPTER. Whoever thinks that there is no harm in saying: Surat Al-Baqarah (The Cow) or Surat so-and-so.
جن کے نزدیک سورۃ البقرہ یا فلاں فلاں سورت ( نام کے ساتھ ) کہنے میں کوئی حرج نہیں
4 Hadith
28
(28) CHAPTER. The recitation of Quran in Tartil (clearly and in slow style).
قرآنمجید کی تلاوت صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر کرنا
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. Prolonging certain sounds while reciting the Quran.
قرآنمجید پڑھنے میں مد کر نا یعنی جہاں مد ہو اس حرف کو کھینچ کر ادا کرنا
2 Hadith
30
(30) CHAPTER. At-Tajri (to recite the Quran in a sort of attraction viberating tone).
قر آن شریف پڑھتے وقت حلق میں آواز کو گھمانا اور خوش آوازی سے قرآن شریف پڑھنا
1 Hadith
31
(31) CHAPTER. To recite the Quran in a charming voice.
خوشالحانی کے ساتھ تلا وت کرنا مستحب ہے
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. Whoever likes to hear the Quran from another person.
اس شخص کے بارے میں جس نے قرآنمجید کو دوسرے سے سننا پسند کیا
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. The saying of the listener (to the recitation of the Quran) to the reciter: “Enough!”
قرآنمجید سننے والے کا پڑھنے والے سے کہنا کہ بس کر بس کر
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. What is the proper period for reciting the whole Quran.
کتنی مدت میں قرآنمجید ختم کرنا چاہئے ؟
4 Hadith
35
(35) CHAPTER. To weep while reciting the Quran.
قرآنمجید کی تلاوت کرتے وقت ( خوف الٰہی سے ) رونا
2 Hadith
36
(36) CHAPTER. The sin of the person who recites the Quran to show off or to gain some worldly benefit, or to feel proud etc.
اس شخص کی برائی میں جس نے دکھاوے یا شکم پروری یا فخر کے لئے قرآنمجید کو پڑھا
3 Hadith
37
(37) CHAPTER. Recite (and study) the Quran together as long as you agree about its interpretation.
قرآنمجید اس وقت تک پڑھو جب تک دل لگا رہے
3 Hadith
No chapter matched that.