صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب نکاح کے مسائل کا بیان

The book of (the wedlock).

محرم کے سوا کوئی غیر مردکسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے ۔

(112) CHAPTER. A man should not stay with a woman in seclusion unless he is a Dhu-Mahram (a person who is legally not allowed to marry that woman, e.g. her father or brother, etc.). (And it is unlawful for one) to enter upon a woman whose husband is absent.

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟ قَالَ : الْحَمْوُ : الْمَوْتُ .

Narrated `Uqba bin 'Amir: Allah's Apostle said, Beware of entering upon the ladies. A man from the Ansar said, Allah's Apostle! What about Al-Hamu the in-laws of the wife (the brothers of her husband or his nephews etc.)? The Prophet replied: The in-laws of the wife are death itself.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیور کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ ( وہ اپنی بھاوج کے ساتھ جا سکتا ہے یا نہیں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور یا ( جیٹھ ) کا جانا ہی تو ہلاکت ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَاكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ .

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, No man should stay with a lady in seclusion except in the presence of a Dhu- Muhram. A man stood up and said, O Allah's Apostle! My wife has gone out intending to perform the Hajj and I have been enrolled (in the army) for such-and-such campaign. The Prophet said, Return and perform the Hajj with your wife.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے ابو معبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیوی حج کرنے گئی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو واپس جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔