صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب دوا اور علاج کے بیان میں

The book of medicine.

بدشگونی لینے کا بیان

(43) CHAPTER. At-Tiyara (drawing an evil omen from birds, etc.)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ ، وَالدَّابَّةِ .

Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, There is neither 'Adha (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission) nor Tiyara, but an evil omen may be in three a woman, a house or an animal.

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید ایلی نے، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”امراض میں چھوت چھات کی اور بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اگر نحوست ہوتی تو یہ صرف تین چیزوں میں ہوتی عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں۔“

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ، قَالُوا : وَمَا الْفَأْلُ ، قَالَ : الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ .

Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, There is no Tiyara, and the best omen is the Fal. They asked, What is the Fal? He said, A good word that one of you hears (and takes as a good omen).

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں البتہ نیک فال لینا کچھ برا نہیں ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نیک فال کیا چیز ہے؟ فرمایا ”کوئی ایسی بات سننا۔“