صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اخلاق کے بیان میں

The book of al-adab (good manners).

اللہ تعالیٰ کا فرمان ( سورۃ الحجرات میں )

(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Let not a group scoff at another group...” (V.49:11)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْحَكَ الرَّجُلُ مِمَّا يَخْرُجُ مِنَ الْأَنْفُسِ وَقَالَ : بِمَ يَضْرِبُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ضَرْبَ الْفَحْلِ أَوِ الْعَبْدِ ثُمَّ لَعَلَّهُ يُعَانِقُهَا ، وَقَالَ الثَّوْرِيُّ ، وَوُهَيْبٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، جَلْدَ الْعَبْدِ .

Narrated `Abdullah bin Zam`a: The Prophet forbade laughing at a person who passes wind, and said, How does anyone of you beat his wife as he beats the stallion camel and then he may embrace (sleep with) her? And Hisham said, As he beats his slave

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی ریح خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے کس طرح ایک شخص اپنی بیوی کو زور سے مارتا ہے جیسے اونٹ، حالانکہ اس کی پوری امید ہے کہ شام میں اسے وہ گلے لگائے گا۔ اور ثوری، وہیب اور ابومعاویہ نے ہشام سے بیان کیا کہ ( جانور کی طرح ) کے بجائے لفظ غلام کی طرح کا استعمال کیا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى : أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ ، أَفَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : بَلَدٌ حَرَامٌ ، أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : شَهْرٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا .

Narrated Ibn `Umar: The Prophet said at Mina, Do you know what day is today? They (the people) replied, Allah and His Apostle know better, He said Today is 10th of Dhul-Hijja, the sacred (forbidden) day. Do you know what town is this town? They (the people) replied, Allah and His Apostle know better. He said, This is the (forbidden) Sacred town (Mecca a sanctuary). And do you know which month is this month? They (the People) replied, Allah and His Apostle know better. He said, ''This is the Sacred (forbidden) month . He added, Allah has made your blood, your properties and your honor Sacred to one another (i.e. Muslims) like the sanctity of this day of yours in this month of yours, in this town of yours. (See Hadith No. 797, Vol. 2.)

مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے میرے والد اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع ) کے موقع پر منیٰ میں فرمایا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا یہ حرمت والا دن ہے ( پھر فرمایا ) تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا یہ حرمت والا شہر ہے۔ ( پھر فرمایا ) تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا یہی حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر فرمایا بلاشبہ اللہ نے تم پر تمہارا ( ایک دوسرے کا ) خون، مال اور عزت اسی طرح حرام کیا ہے جیسے اس دن کو اس نے تمہارے اس مہینہ میں اور تمہارے اس شہر میں حرمت والا بنایا ہے۔