صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اخلاق کے بیان میں

The book of al-adab (good manners).

جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو جس میں کفر کی وجہ نہ ہو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے

(73) CHAPTER. Whoever calls his brother a Kafir (disbeliever) without any grounds, and he does not think that he is such, then he himself is such, what he says.

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, If a man says to his brother, O Kafir (disbeliever)!' Then surely one of them is such (i.e., a Kafir).

ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی (یا محمد بن بشار) اور احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو کہتا ہے کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔ اور عکرمہ بن عمار نے یحییٰ سے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن یزید نے کہا، انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا .

Narrated 'Abdullah bin 'Umar: Allah's Apostle said, 'If anyone says to his brother, 'O misbeliever! Then surely, one of them such.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے بھی اپنے کسی بھائی کو کہا کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔“

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ .

Narrated Thabit bin Ad-Dahhak: The Prophet said, Whoever swears by a religion other than Islam (i.e. if he swears by saying that he is a non-Muslim in case he is telling a lie), then he is as he says if his oath is false and whoever commits suicide with something, will be punished with the same thing in the (Hell) fire, and cursing a believer is like murdering him, and whoever accuses a believer of disbelief, then it is as if he had killed him.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی جھوٹ موٹ قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے، جس کی اس نے قسم کھائی ہے اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کر لی تو اسے جہنم میں اسی سے عذاب دیا جائے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اسے قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اس کے قتل کے برابر ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَلِيمٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمُ الصَّلَاةَ ، فَقَرَأَ بِهِمُ الْبَقَرَةَ قَالَ : فَتَجَوَّزَ رَجُلٌ فَصَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا ، فَقَالَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا وَنَسْقِي بِنَوَاضِحِنَا ، وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى بِنَا الْبَارِحَةَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فَتَجَوَّزْتُ ، فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مُعَاذُ ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ ثَلَاثًا ، اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَنَحْوَهَا .

Narrated Jabir bin `Abdullah: Mu`adh bin Jabal used to pray with the Prophet and then go to lead his people in prayer. Once he led the people in prayer and recited Surat-al-Baqara. A man left (the row of the praying people) and offered (light) prayer (separately) and went away. When Mu`adh came to know about it, he said. He (that man) is a hypocrite. Later that man heard what Mu`adh said about him, so he came to the Prophet and said, O Allah's Apostle! We are people who work with our own hands and irrigate (our farms) with our camels. Last night Mu`adh led us in the (night) prayer and he recited Sura-al-Baqara, so I offered my prayer separately, and because of that, he accused me of being a hypocrite. The Prophet called Mu`adh and said thrice, O Mu`adh! You are putting the people to trials? Recite 'Washshamsi wad-uhaha' (91) or'Sabbih isma Rabbi ka-l-A'la' (87) or the like.

ہم سے محمد بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید نے خبر دی، کہا ہم کو سلیم نے خبر دی، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔ انہوں نے ( ایک مرتبہ ) نماز میں سورۃ البقرہ پڑھی۔ اس پر ایک صاحب جماعت سے الگ ہو گئے اور ہلکی نماز پڑھی۔ جب اس کے متعلق معاذ کو معلوم ہوا تو کہا وہ منافق ہے۔ معاذ کی یہ بات جب ان کو معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ محنت کا کام کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو خود پانی پلاتے ہیں معاذ نے کل رات ہمیں نماز پڑھائی اور سورۃ البقرہ پڑھنی شروع کر دی۔ اس لیے میں نماز توڑ کر الگ ہو گیا، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں منافق ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتے ہو، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ( جب امام ہو تو ) سورۃ «اقرأ»،‏‏‏‏ «والشمس وضحاها‏» اور «سبح اسم ربك الأعلى‏» جیسی سورتیں پڑھا کرو۔