صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اخلاق کے بیان میں

The book of al-adab (good manners).

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔

(106) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kunyah.”

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقَالُوا : لَا نَكْنِيهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي .

Narrated Jabi: A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said, We will not call him (i.e., the father) by that Kuniya (Abu-l-Qasim) till we ask the Prophet about it. The Prophet said. Name yourselves by my name, but do not call (yourselves) by my Kuniya.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں۔ ہم اس نام پر تمہاری کنیت نہیں ہونے دیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي .

Narrated Abu Huraira: Abu-l-Qasim (The Prophet) said, Name yourselves by my name, but do not call yourselves by my Kuniya.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔“

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقَالُوا لَا نَكْنِيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ .

Narrated Jabir bin `Abdullah: A man among us begot a boy whom he named Al-Qasim. The people said (to him), We will not call you Abul-l-Qasim, nor will we please you by calling you so. The man came to the Prophet and mentioned that to him. The Prophet said to him, Name your son `Abdur-Rahman.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔