صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اخلاق کے بیان میں

The book of al-adab (good manners).

جس نے اپنے کسی ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارا ۔

(111) CHAPTER. Whoever, while calling a friend, omits a letter from his name.

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَائِشَ ، هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، قُلْتُ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَهُوَ يَرَى مَا لَا نَرَى .

Narrated `Aisha: (the wife the Prophet) Allah's Apostle said, O Aisha! This is Gabriel sending his greetings to you. I said, Peace, and Allah's Mercy be on him. `Aisha added: The Prophet used to see things which we used not to see.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یا عائش! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔“ میں نے کہا اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي الثَّقَلِ وَأَنْجَشَةُ غُلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسُوقُ بِهِنَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَنْجَشُ رُوَيْدَكَ ، سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ .

Narrated Anas: Once Um Sulaim was (with the women who were) in charge of the luggage on a journey, and Anjashah, the slave of the Prophet, was driving their camels (very fast). The Prophet said, O Anjash! Drive slowly (the camels) with the glass vessels (i.e., ladies).

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا مسافروں کے سامان کے ساتھ تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام انجشہ عورتوں کے اونٹ کو ہانک رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انجش! ذرا اس طرح آہستگی سے لے چل جیسے شیشوں کو لے کر جاتا ہے۔“