Narrated `Umar bin Al-Khattab: I heard Allah's Apostle saying, The (reward of) deeds, depend upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for the sake of Allah and His Apostle, then his emigration will be considered to be for Allah and His Apostle, and whoever emigrated for the sake of worldly gain or for a woman to marry, then his emigration will be considered to be for what he emigrated for.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بلاشبہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو واقعی وہ انہیں کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔
Narrated Ka`b bin Malik: In the last part of his narration about the three who remained behind (from the battle of Tabuk). (I said) As a proof of my true repentance (for not joining the Holy battle of Tabuk), I shall give up all my property for the sake of Allah and His Apostle (as an expiation for that sin). The Prophet said (to me), Keep some of your wealth, for that is better for you.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا مجھ کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، کہا مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی، جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کی اولاد میں ایک یہی کہیں آنے جانے میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے واقعہ اور آیت «على الثلاثة الذين خلفوا» کے سلسلہ میں سنا، انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا کہ ( میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ ) اپنی توبہ کی خوشی میں میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت میں صدقہ کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔