صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

The book of the interpretation of dreams.

جب خواب میں کوئی چیز اڑتی ہوئی نظرآئے

(38) CHAPTER. If something flies in a dream.

حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، قَالَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ .

Narated Ubaidullah bin Abdullah: I asked Ibn Abbas about the dream of Allah's Messenger which he mentioned. (see following hadith)

مجھ سے سعید بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابوعبیدہ بن نشیط نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جو انہوں نے بیان کیا تھا۔

فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا ، فَأُذِنَ لِي ، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزٌ بِالْيَمَنِ ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ .

Narrated `Abdullah bin `Abbas: Allah's Apostle said, While I was sleeping, two golden bangles were put in my two hands, so I got scared (frightened) and disliked it, but I was given permission to blow them off, and they flew away. I interpret it as a symbol of two liars who will appear. 'Ubaidullah said, One of them was Al-`Ansi who was killed by Fairuz at Yemen and the other was Musailama (at Najd) .

تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔