TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of tauhid (islamic monotheism). - اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں - Book 99 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 99 of Sahih Bukhari, with 52 chapters and 193 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

193 Hadith · 52 Chapters
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ ، حدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah said: The son of Adam hurts Me by abusing Time, for I am Time; in My Hands are all things and I cause the revolution of night and day.' (See Hadith No. 351, Vol. 6)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہو رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔“
7491
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ ، وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah said: The Fast is for Me and I will give the reward for it, as he (the one who observes the fast) leaves his sexual desire, food and drink for My Sake. Fasting is a screen (from Hell) and there are two pleasures for a fasting person, one at the time of breaking his fast, and the other at the time when he will meet his Lord. And the smell of the mouth of a fasting person is better in Allah's Sight than the smell of musk. (See Hadith No. 128, Vol. 3).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ بندہ اپنی شہوت، کھانا پینا میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے اور روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملتا ہے اور روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ کے نزدیک مشک عنبر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“
7492
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ ، فَنَادَى رَبُّهُ : يَا أَيُّوبُ ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى ، قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Once while Job (Aiyub) was taking a bath in a naked state. Suddenly a great number of gold locusts started falling upon him and he started collecting them in his clothes. His Lord called him, 'O Job! Didn't I make you rich enough to dispense with what you see now?' Job said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with Your Blessings.'
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیوں کا ایک دل ان پر آ کر گرا اور آپ انہیں کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ ان کے رب نے انہیں پکارا کہ اے ایوب! کیا میں نے تجھے مالدار بنا کر ان ٹڈیوں سے بےپروا نہیں کر دیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں بیشک تو نے مجھ کو بےپروا مالدار کیا ہے مگر تیرے فضل و کرم اور رحمت سے بھی میں کہیں بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
7493
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ، فَيَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Every night when it is the last third of the night, our Lord, the Superior, the Blessed, descends to the nearest heaven and says: Is there anyone to invoke Me that I may respond to his invocation? Is there anyone to ask Me so that I may grant him his request? Is there anyone asking My forgiveness so that I may forgive him?. (See Hadith No. 246,Vol. 2)
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوعبداللہ الاغر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر آتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کون بلاتا ہے کہ میں اسے جواب دوں، مجھ سے کون مانگتا ہے کہ میں اسے عطا کروں، مجھ سے کون مغفرت طلب کرتا ہے میں اس کی مغفرت کروں؟“
7494
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, We (Muslims) are the last (to come) but will be the foremost on the Day of Resurrection.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گو دنیا میں ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن آخرت میں سب سے آگے ہوں گے۔“
7495
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : اللَّهُ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ .
The narrators of this Hadith said: Allah said (to man), 'Spend (in charity), for then I will compensate you (generously).'
اور اسی سند سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم خرچ کرو تو میں تم پر خرچ کروں گا۔
7496
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : هَذِهِ خَدِيجَةُ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ ، أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَأَقْرِئْهَا مِنْ رَبِّهَا السَّلَامَ ، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said that Gabriel said, Here is Khadija coming to you with a dish of food or a tumbler containing something to drink. Convey to her a greeting from her Lord (Allah) and give her the glad tidings that she will have a palace in Paradise built of Qasab wherein there will be neither any noise nor any fatigue (trouble). (See Hadith No. 168, Vol. 5)
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ( جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یا رسول اللہ! ) یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ کے پاس برتن میں کھانا یا پانی لے کر آتی ہیں انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہئیے اور انہیں خولدار موتی کے ایک محل کی جنت میں خوشخبری سنائیے جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی۔
7497
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ ، مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ .
Narrated Abu Huraira: the Prophet said, Allah said, I have prepared for My righteous slaves (such excellent things) as no eye has ever seen, nor an ear has ever heard nor a human heart can ever think of.'
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا کہا، ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔“
7498
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ .
Narrated Ibn `Abbas: Whenever the Prophet offered the night (Tahajjud) prayer, he used to say, O Allah! All the Praises are for You; You are the Light of the Heavens and the Earth. And all the Praises are for You; You are the Keeper of the Heavens and the Earth. All the Praises are for You; You are the Lord of the Heavens and the Earth and whatever is therein. You are the Truth, and Your Promise is the Truth, and Your Speech is the Truth, and meeting You is the Truth, and Paradise is the Truth and Hell (Fire) is the Truth and all the prophets are the Truth and the Hour is the Truth. O Allah! I surrender to You, and believe in You, and depend upon You, and repent to You, and in Your cause I fight and with Your orders I rule. So please forgive my past and future sins and those sins which I did in secret or in public. It is You Whom I worship, None has the right to be worshipped except You . (See Hadith No. 329,Vol. 8)
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے مجھ کو سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس یمانی نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض،‏‏‏‏ ولك الحمد أنت قيم السموات والأرض،‏‏‏‏ ولك الحمد أنت رب السموات والأرض،‏‏‏‏ ومن فيهن أنت الحق،‏‏‏‏ ووعدك الحق وقولك الحق،‏‏‏‏ ولقاؤك الحق،‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ والنبيون حق،‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ وبك آمنت،‏‏‏‏ وعليك توكلت،‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ وما أسررت وما أعلنت،‏‏‏‏ أنت إلهي،‏‏‏‏ لا إله إلا أنت» ”حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا نور ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے سب کا رب ہے۔ تو سچ ہے، تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے اور دوزخ سچ ہے، سارے انبیاء سچے ہیں اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں تیرے سامنے ہی جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیرے ہی سامنے اپنا جھگڑا پیش کرتا اور تجھ ہی سے اپنا فیصلہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت کر دے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی جو میں نے چھپا کر کئے اور جو ظاہر کئے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“
7499
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي ، طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ فِي بَرَاءَتِي وَحْيًا يُتْلَى ، وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى ، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ .
Narrated `Urwa bin Az-Zubair: Sa`id bin Al-Musaiyab, 'Alqama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin `Abdullah regarding the narrating of the forged statement against `Aisha, the wife of the Prophet, when the slanderers said what they said and Allah revealed her innocence. `Aisha said, But by Allah, I did not think that Allah, (to confirm my innocence), would reveal Divine Inspiration which would be recited, for I consider myself too unimportant to be talked about by Allah through Divine Inspiration revealed for recitation, but I hoped that Allah's Apostle might have a dream in which Allah would reveal my innocence. So Allah revealed:-- 'Verily! Those who spread the slander are a gang among you...' (The ten Verses in Suratan- Nur) (24.11-20)
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ نے اس سے انہیں بَری قرار دیا تھا۔ ان سب نے بیان کیا اور ہر ایک نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کی ہوئی بات کا ایک حصہ بیان کیا۔ ام المؤمنین نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ میری پاکی بیان کرنے کے لیے وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہو گی۔ میرے دل میں میرا درجہ اس سے بہت کم تھا کہ اللہ میرے بارے میں ( قرآن مجید میں ) وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہو گی، البتہ مجھے امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ میری برات کر دے گا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات «إن الذين جاءوا بالإفك‏» نازل کی ہیں، دس آیات۔
7500
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ : إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا ، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا ، وَإِنْ تَرَكَهَا مِنْ أَجْلِي ، فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Allah says, If My slave intends to do a bad deed then (O Angels) do not write it unless he does it; if he does it, then write it as it is, but if he refrains from doing it for My Sake, then write it as a good deed (in his account). (On the other hand) if he intends to go a good deed, but does not do it, then write a good deed (in his account), and if he does it, then write it for him (in his account) as ten good deeds up to seven-hundred times.'
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو یہاں تک کہ اسے کر نہ لے۔ جب اس کو کر لے پھر اسے اس کے برابر لکھو اور اگر اس برائی کو میرے خوف سے چھوڑ دے تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھو اور اگر بندہ کوئی نیکی کرنی چاہے تو اس کے لیے ارادہ ہی پر ایک نیکی اس کے لیے لکھو۔“
7501
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ ، فَقَالَ : مَهْ ، قَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ ، فَقَالَ : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ ، قَالَتْ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ : فَذَلِكِ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ سورة محمد آية 22 .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Allah created the creation, and when He finished from His creation the Rahm (womb) got up, and Allah said (to it). Stop! What do you want? It said; At this place I seek refuge with You from all those who sever me (i.e. sever the ties of Kinship.) Allah said: Would you be pleased that I will keep good relation with the one who will keep good relation with you, and I will sever the relation with the one who will sever the relation with you. It said: 'Yes, 'O my Lord.' Allah said (to it), 'That is for you.'' And then Abu Huraira recited the Verse:-- Would you then if you were given the authority, do mischief in the land, and sever your ties of kinship. (47.22)
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے بیان کیا اور ان سے سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے بیان کیا اور ان سے سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ٹھہر جا۔ اس نے کہا کہ یہ قطع رحم (ناطہٰ توڑنا) سے تیری پناہ مانگنے کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں ناطہٰ کو جوڑنے والے سے اپنے رحم کا ناطہٰ جوڑوں اور ناطہٰ کو کاٹنے والوں سے جدا ہو جاؤں۔ اس نے کہا کہ ضرور، میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہی تیرا مقام ہے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (سورۃ محمد کی) یہ آیت پڑھی «فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم‏» ”ممکن ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور قطع رحم کرو۔“
7502
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : مُطِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَالَ اللَّهُ : أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِي .
Narrated Zaid bin Khalid: It rained (because of the Prophet's invocation for rain) and the Prophet said, Allah said, 'Some of My slaves have become disbelievers in Me, and some others, believers in Me.'
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بعض بندے صبح، کافر ہو کر کرتے ہیں اور بعض بندے صبح، مومن ہو کر کرتے ہیں۔
7503
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ ، وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Allah said, 'If My slaves loves the meeting with Me, I too love the meeting with him; and if he dislikes the meeting with Me, I too dislike the meeting with him.' (See Hadith No. 514, Vol. 8)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے تو میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔“
7504
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Allah said, 'I am to my slave as he thinks of Me, (i.e. I am able to do for him what he thinks I can do for him). (See Hadith No. 502)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے۔“
7505
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ : رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَإِذَا مَاتَ ، فَحَرِّقُوهُ وَاذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ ، فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَرَّ ، فَجَمَعَ مَا فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : لِمَ فَعَلْتَ ؟ ، قَالَ : مِنْ خَشْيَتِكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ لَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, A man who never did any good deed, said that if he died, his family should burn him and throw half the ashes of his burnt body in the earth and the other half in the sea, for by Allah, if Allah should get hold of him, He would inflict such punishment on him as He would not inflict on anybody among the people. But Allah ordered the sea to collect what was in it (of his ashes) and similarly ordered the earth to collect what was in it (of his ashes). Then Allah said (to the recreated man ), 'Why did you do so?' The man replied, 'For being afraid of You, and You know it (very well).' So Allah forgave him.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے جس نے ( بنی اسرائیل میں سے ) کوئی نیک کام کبھی نہیں کیا تھا، وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا ڈالیں اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی دریا میں بکھیر دیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو ایسا عذاب مجھ کو دے گا جو دنیا کے کسی شخص کو بھی وہ نہیں دے گا۔ پھر اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اس نے خشکی کو حکم دیا اور اس نے بھی اپنی تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے عرض کیا اے رب! تیرے خوف سے میں نے ایسا کیا اور تو سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔“
7506
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا ، وَرُبَّمَا قَالَ : أَذْنَبَ ذَنْبًا ، فَقَالَ : رَبِّ أَذْنَبْتُ ، وَرُبَّمَا قَالَ : أَصَبْتُ ، فَاغْفِرْ لِي ، فَقَالَ رَبُّهُ : أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ ، غَفَرْتُ لِعَبْدِي ، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَصَابَ ذَنْبًا أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا ، فَقَالَ : رَبِّ ، أَذْنَبْتُ أَوْ أَصَبْتُ آخَرَ ، فَاغْفِرْهُ ، فَقَالَ : أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ ، غَفَرْتُ لِعَبْدِي ، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا ، وَرُبَّمَا قَالَ : أَصَابَ ذَنْبًا ، قَالَ : قَالَ رَبِّ ، أَصَبْتُ أَوْ قَالَ أَذْنَبْتُ آخَرَ : فَاغْفِرْهُ لِي ، فَقَالَ : أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ ، غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثَلَاثًا ، فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ .
Narrated Abu Huraira: I heard the Prophet saying, If somebody commits a sin and then says, 'O my Lord! I have sinned, please forgive me!' and his Lord says, 'My slave has known that he has a Lord who forgives sins and punishes for it, I therefore have forgiven my slave (his sins).' Then he remains without committing any sin for a while and then again commits another sin and says, 'O my Lord, I have committed another sin, please forgive me,' and Allah says, 'My slave has known that he has a Lord who forgives sins and punishes for it, I therefore have forgiven my slave (his sin). Then he remains without Committing any another sin for a while and then commits another sin (for the third time) and says, 'O my Lord, I have committed another sin, please forgive me,' and Allah says, 'My slave has known that he has a Lord Who forgives sins and punishes for it I therefore have forgiven My slave (his sin), he can do whatever he likes.
ہم سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے اسحاق بن عبداللہ نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے سنا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بندے نے بہت گناہ کئے اور کہا: اے میرے رب! میں تیرا ہی گنہگار بندہ ہوں تو مجھے بخش دے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے دوبارہ گناہ کر لیا، اسے بھی بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے بدلے میں سزا بھی دیتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا بندہ گناہ سے رکا رہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور اللہ کے حضور میں عرض کیا: اے میرے رب! میں نے گناہ پھر کر لیا ہے تو مجھے بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ورنہ اس کی وجہ سی سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ تین مرتبہ، پس اب جو چاہے عمل کرے۔
7507
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا فِيمَنْ سَلَفَ أَوْ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، قَالَ : كَلِمَةً يَعْنِي أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا فَلَمَّا حَضَرَتِ الْوَفَاةُ ، قَالَ لِبَنِيهِ : أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ؟ ، قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ أَوْ لَمْ يَبْتَئِزْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَإِنْ يَقْدِرِ اللَّهُ عَلَيْهِ يُعَذِّبْهُ ، فَانْظُرُوا إِذَا مُتُّ ، فَأَحْرِقُونِي حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا ، فَاسْحَقُونِي ، أَوْ قَالَ فَاسْتَحِلُونِي فَإِذَا كَانَ يَوْمُ رِيحٍ عَاصِفٍ فَأَذْرُونِي فِيهَا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي ، فَفَعَلُوا ثُمَّ أَذْرَوْهُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : كُنْ فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ قَائِمٌ ، قَالَ اللَّهُ : أَيْ عَبْدِي مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ ، قَالَ : مَخَافَتُكَ أَوْ فَرَقٌ مِنْكَ ، قَالَ : فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ عِنْدَهَا ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا عُثْمَانَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ هَذَا مِنْ سَلْمَانَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ أَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ أَوْ كَمَا حَدَّثَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، وَقَالَ : لَمْ يَبْتَئِرْ ، وَقَالَ خَلِيفَةُ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ وَقَالَ لَمْ يَبْتَئِزْ ، فَسَّرَهُ قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ .
Narrated Abu Sa`id: The Prophet mentioned a man from the people of the past or those who preceded you. The Prophet said a sentence meaning: Allah had given him wealth and children. When his death approached, he said to his sons, What kind of father have I been to you? They replied, You have been a good father. He told them that he had not presented any good deed before Allah, and if Allah should get hold of him He would punish him.' So look! he added, When I die, burn me, and when I turn into coal, crush me, and when there comes a windy day, scatter my ashes in the wind. The Prophet added, Then by Allah, he took a firm promise from his children to do so, and they did so. (They burnt him after his death) and threw his ashes on a windy day. Then Allah commanded to his ashes. Be, and behold! He became a man standing! Allah said, O My slave! What made you do what you did? He replied, For fear of You. Nothing saved him then but Allah's Mercy (So Allah forgave him).
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کا ذکر کیا۔ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ فرمایا یعنی اللہ نے اسے مال و اولاد سب کچھ دیا تھا۔ جب اس کے مرنے کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین باپ، اس پر اس نے کہا کہ لیکن تمہارے باپ نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی نہیں بھیجی ہے اور اگر کہیں اللہ نے مجھے پکڑ پایا تو سخت عذاب کرے گا تو دیکھو جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، یہاں تک کہ جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو اسے خوب پیس لینا اور جس دن تیز آندھی آئے اس میں میری یہ راکھ اڑا دینا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر اس نے اپنے بیٹوں سے پختہ وعدہ لیا اور اللہ کی قسم کہ ان کے لڑکوں نے ایسا ہی کیا، جلا کر راکھ کر ڈالا، پھر انہوں نے اس کی راکھ کو تیز ہوا کے دن اڑا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے «كن‏» کا لفظ فرمایا کہ ہو جا تو وہ فوراً ایک مرد بن گیا جو کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے میرے بندے! تجھے کس بات نے اس پر آمادہ کیا کہ تو نے یہ کام کرایا۔ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ اس پر رحم کیا۔ پھر میں نے یہ بات ابوعثمان نہدی سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سلیمان فارسی سے سنا، البتہ انہوں نے یہ لفظ زیادہ کئے کہ «أذروني في البحر‏.‏» یعنی میری راکھ کو دریا میں ڈال دینا یا کچھ ایسا ہی بیان کیا۔ ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اور اس نے «لم يبتئر‏.‏» کے الفاظ کہے اور خلیفہ بن خیاط ( امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ) نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا پھر یہی حدیث نقل کی۔ اس میں «لم يبتئر‏.‏» ہے۔ قتادہ نے اس کے معنی یہ کئے ہیں یعنی کوئی نیکی آخرت کے لیے ذخیرہ نہیں کی۔
7508
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ شُفِّعْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ ، فَيَدْخُلُونَ ، ثُمَّ أَقُولُ أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى شَيْءٍ ، فَقَالَ أَنَسٌ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Anas: I heard the Prophet saying, On the Day of Resurrection I will intercede and say, O my Lord! Admit into Paradise (even) those who have faith equal to a mustard seed in their hearts. Such people will enter Paradise, and then I will say, 'O (Allah) admit into Paradise (even) those who have the least amount of faith in their hearts. Anas then said: As if I were just now looking at the fingers of Allah's Apostle.
ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن عبداللہ یربوعی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے، ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اس کو بھی جنت میں داخل فرما دے۔ ایسے لوگ جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ میں پھر عرض کروں گا: اے رب! جنت میں اسے بھی داخل کر دے جس کے دل میں معمولی سا بھی ایمان ہو۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں اس وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
7509
Sahih
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ : اجْتَمَعْنَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَذَهَبْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَذَهَبْنَا مَعَنَا بِثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ لَنَا عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ ، فَإِذَا هُوَ فِي قَصْرِهِ ، فَوَافَقْنَاهُ يُصَلِّي الضُّحَى ، فَاسْتَأْذَنَّا ، فَأَذِنَ لَنَا وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقُلْنَا لِثَابِتٍ لَا تَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ أَوَّلَ مِنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا حَمْزَةَ هَؤُلَاءِ إِخْوَانُكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ جَاءُوكَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيم ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ ، فَيَأْتُونَ مُوسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى ، فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَأْتُونِي ، فَأَقُولُ : أَنَا لَهَا ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لَا تَحْضُرُنِي الْآنَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي أُمَّتِي ، فَيَقُولُ : انْطَلِقْ ، فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي أُمَّتِي ، فَيَقُولُ : انْطَلِقْ ، فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي أُمَّتِي ، فَيَقُولُ : انْطَلِقْ ، فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ، فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ أَنَسٍ ، قُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِنَا : لَوْ مَرَرْنَا بِالْحَسَنِ وَهُوَ مُتَوَارٍ فِي مَنْزِلِ أَبِي خَلِيفَةَ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَأَذِنَ لَنَا ، فَقُلْنَا لَهُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَلَمْ نَرَ مِثْلَ مَا حَدَّثَنَا فِي الشَّفَاعَةِ ، فَقَالَ : هِيهْ ، فَحَدَّثْنَاهُ بِالْحَدِيثِ ، فَانْتَهَى إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ ، فَقَالَ : هِيهْ ، فَقُلْنَا : لَمْ يَزِدْ لَنَا عَلَى هَذَا ، فَقَالَ : لَقَدْ حَدَّثَنِي وَهُوَ جَمِيعٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً ، فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَمْ كَرِهَ أَنْ تَتَّكِلُوا ، قُلْنَا : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، فَحَدِّثْنَا فَضَحِكَ ، وَقَالَ : خُلِقَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا مَا ذَكَرْتُهُ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدَّثَنِ كَمَا حَدَّثَكُمْ بِهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَيَقُولُ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي ، لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
Narrated Ma`bad bin Hilal Al-`Anzi: We, i.e., some people from Basra gathered and went to Anas bin Malik, and we went in company with Thabit Al-Bunnani so that he might ask him about the Hadith of Intercession on our behalf. Behold, Anas was in his palace, and our arrival coincided with his Duha prayer. We asked permission to enter and he admitted us while he was sitting on his bed. We said to Thabit, Do not ask him about anything else first but the Hadith of Intercession. He said, O Abu Hamza! There are your brethren from Basra coming to ask you about the Hadith of Intercession. Anas then said, Muhammad talked to us saying, 'On the Day of Resurrection the people will surge with each other like waves, and then they will come to Adam and say, 'Please intercede for us with your Lord.' He will say, 'I am not fit for that but you'd better go to Abraham as he is the Khalil of the Beneficent.' They will go to Abraham and he will say, 'I am not fit for that, but you'd better go to Moses as he is the one to whom Allah spoke directly.' So they will go to Moses and he will say, 'I am not fit for that, but you'd better go to Jesus as he is a soul created by Allah and His Word.' (Be: And it was) they will go to Jesus and he will say, 'I am not fit for that, but you'd better go to Muhammad.' They would come to me and I would say, 'I am for that.' Then I will ask for my Lord's permission, and it will be given, and then He will inspire me to praise Him with such praises as I do not know now. So I will praise Him with those praises and will fall down, prostrate before Him. Then it will be said, 'O Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to; and ask, for your will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will say, 'O Lord, my followers! My followers!' And then it will be said, 'Go and take out of Hell (Fire) all those who have faith in their hearts, equal to the weight of a barley grain.' I will go and do so and return to praise Him with the same praises, and fall down (prostrate) before Him. Then it will be said, 'O Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to, and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will say, 'O Lord, my followers! My followers!' It will be said, 'Go and take out of it all those who have faith in their hearts equal to the weight of a small ant or a mustard seed.' I will go and do so and return to praise Him with the same praises, and fall down in prostration before Him. It will be said, 'O, Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to, and ask, for you will be granted (your request); and intercede, for your intercession will be accepted.' I will say, 'O Lord, my followers!' Then He will say, 'Go and take out (all those) in whose hearts there is faith even to the lightest, lightest mustard seed. (Take them) out of the Fire.' I will go and do so. ' When we left Anas, I said to some of my companions, Let's pass by Al-Hasan who is hiding himself in the house of Abi Khalifa and request him to tell us what Anas bin Malik has told us. So we went to him and we greeted him and he admitted us. We said to him, O Abu Sa`id! We came to you from your brother Anas Bin Malik and he related to us a Hadith about the intercession the like of which I have never heard. He said, What is that? Then we told him of the Hadith and said, He stopped at this point (of the Hadith). He said, What then? We said, He did not add anything to that. He said, Anas related the Hadith to me twenty years ago when he was a young fellow. I don't know whether he forgot or if he did not like to let you depend on what he might have said. We said, O Abu Sa`id ! Let us know that. He smiled and said, Man was created hasty. I did not mention that, but that I wanted to inform you of it. Anas told me the same as he told you and said that the Prophet added, 'I then return for a fourth time and praise Him similarly and prostrate before Him me the same as he 'O Muhammad, raise your head and speak, for you will be listened to; and ask, for you will be granted (your request): and intercede, for your intercession will be accepted .' I will say, 'O Lord, allow me to intercede for whoever said, 'None has the right to be worshiped except Allah.' Then Allah will say, 'By my Power, and my Majesty, and by My Supremacy, and by My Greatness, I will take out of Hell (Fire) whoever said: 'None has the right to be worshipped except Allah.' ''
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ہلال العنزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ بصرہ کے کچھ لوگ ہمارے پاس جمع ہو گئے۔ پھر ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اپنے ساتھ ثابت رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے شفاعت کی حدیث پوچھیں۔ انس رضی اللہ عنہ اپنے محل میں تھے اور جب ہم پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے ملاقات کی اجازت چاہی اور ہمیں اجازت مل گئی۔ اس وقت وہ اپنے بستر پر بیٹھے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا تھا کہ حدیث شفاعت سے پہلے ان سے اور کچھ نہ پوچھنا۔ چنانچہ انہوں نے کہا: اے ابوحمزہ! یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے شفاعت کی حدیث پوچھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کا دن جب آئے گا تو لوگ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ظاہر ہوں گے۔ پھر وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ہماری اپنے رب کے پاس شفاعت کیجئے۔ وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ سے شرف ہم کلامی پانے والے ہیں۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، البتہ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں کہوں گا کہ میں شفاعت کے لیے ہوں اور پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تعریفوں کے الفاظ مجھے الہام کرے گا جن کے ذریعہ میں اللہ کی حمد بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں۔ چنانچہ جب میں یہ تعریفیں بیان کروں گا اللہ کے حضور میں سجدہ کرنے والا ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو وہ سنا جائے گا، جو مانگو گے وہ دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی۔ پھر میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، کہا جائے گا کہ جاؤ اور ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لو جن کے دل میں ذرہ یا رائی برابر بھی ایمان ہو۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ پھر میں لوٹوں گا اور یہی تعریفیں پھر کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا مجھ سے کہا جائے گا۔ اپنا سر اٹھاؤ کہو، آپ کی سنی جائے گی، میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے کم سے کم تر حصہ کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی جہنم سے نکال لو۔ پھر میں جاؤں گا اور نکالوں گا۔ پھر جب ہم انس رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں امام حسن بصری کے پاس بھی چلنا چاہئیے، وہ اس وقت ابوخلیفہ کے مکان میں تھے اور ان سے وہ حدیث بیان کرنا چاہئیے جو انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا۔ پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم نے ان سے کہا: اے ابوسعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے یہاں سے آئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی، اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی، انہوں نے کہا کہ بیان کرو۔ ہم نے ان سے حدیث بیان کی جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا کہ اور بیان کرو، ہم نے کہا کہ اس سے زیادہ انہوں نے نہیں بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ جب صحت مند تھے، بیس سال اب سے پہلے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے یا اس لیے بیان کرنا ناپسند کیا کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ ہم نے کہا ابوسعید! پھر ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے۔ آپ اس پر ہنسے اور فرمایا: انسان بڑا جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے اس کا ذکر ہی اس لیے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح تم سے بیان کی ( اور اس میں یہ لفظ اور بڑھائے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا اور وہی تعریفیں کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا۔ اللہ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے سنا جائے گا، جو مانگو کے دیا جائے گا، جو شفاعت کرو کے قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! مجھے ان کے بارے میں بھی اجازت دیجئیے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی، میری بڑائی کی قسم! اس میں سے ( میں ) انہیں بھی نکالوں گا جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کہا ہے۔
7510
Sahih

Chapters

52
01
(1) CHAPTER. What has been said about the Prophet (p.b.u.h.) inviting his followers (nation) to Tauhid Allah i.e., Islamic Monotheism (worshiping none but Allah Alone).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا
5 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say: Invoke Allah or invoke the Most Gracious (Allah), by whatever name you invoke Him (it is the same), for to Him belong the Best Names.” (V.17:110)
اللہ تعالیٰ کاارشاد سورۃ بنیاسرائیل میں کہ آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمن کو ‘ جس نام سے بھی پکارو گے تو اللہ کے سب اچھے نام ہیں
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily Allah is the All-Provider, Owner of Power, the Most Strong.” (V.51:58)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ والذاریات میں ” میں بہت روزی دینے والا ‘ زوردار مضبوط ہوں ۔ “
1 Hadith
04
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily Allah is the All-Provider, Owner of Power, the Most Strong.” (V.51:58)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الجن میں کہ ” وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب کو کسی پر نہیں کھولتا “
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. The Statement of Allah: “…(Allah is He Who is) the One Free from all defects, the Giver of security...” (V.59:23)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحشر میں ارشاد ” اللہ سلامتی دینے والا ( السلام ) امن دینے والا ( مومن ) ہے ۔ “
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “The King of mankind.” (V.114:2)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الناس میں کہ ” لوگوں کا بادشاہ “
1 Hadith
07
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “The King of mankind.” (V.114:2)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور وہی غالب ہے ‘ حکمت والا “ ۔
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is He Who has created the heavens and the earth in truth…” (V.6:73)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الانعام میں ” اور وہی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا “ ۔
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The Statement of Allah: “And Allah is Ever All-Heater, All-Seer.” (V.4:134)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور اللہ بہت سننے والا ‘ بہت دیکھنے والا ہے “ ۔
4 Hadith
10
(10) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say: He has power to (send torment on you from above)...” (V.6:65)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں فرمانا کہ ” کہہ دیجئیے کہ وہی قدرت والا ہے “ ۔
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The One Who turns the hearts. The Statement of Allah: And We shall turn their hearts and their eyes… (V.6:110)
اللہ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ دلوں کا پھیرنے والا ہے ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Allah has one hundred Names less One (ninety-nine).
اللہ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا ۔
10 Hadith
13
(14) CHAPTER. What is mentioned regarding Adh-Dhat (the Self of Allah), His Qualities and His Names.
اللہ تعالیٰ کو ذات کہہ سکتے ہیں ( اسی طرح شخص بھی کہہ سکتے ہیں ) یہ اس کے اسماء اور صفات ہیں ۔
3 Hadith
14
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “… And Allah warns you against Himself (i.e., punishment)...” (V.3:28)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ آلعمران میں
1 Hadith
15
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: “... Everytl1ing will perish save His Face...” (V.28:88) [That means that Allah will never perish].
سورۃ قصص میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اللہ کے منہ کے سوا تمام چیزیں مٹ جانے والی ہیں “ ۔
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “... In order that you [O Musa (Moses)] may be brought up under My Eye.” (V.20:39)
سورۃ طہٰ میں اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ علیہالسلام سے فرمانا کہ
2 Hadith
17
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “He is Allah, the Creator, the Inventor of all things, the Bestower of forms…” (V.59:24)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الحشر میں ” وہی اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا نقشہ کھینچنے والا ہے “ ۔
1 Hadith
18
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “... To one whom I have created with Both My Hands...” (V.38:75)
اللہ تعالیٰ نے ( شیطان سے ) فرمایا ” تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا “ ۔
6 Hadith
19
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): “No person has more Ghaira than Allah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ” اللہ سے زیادہ غیرتمند اور کوئی نہیں “ ۔
1 Hadith
20
(21) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say (O Muhammad (p.b.u.h.)): ‘What thing is the most great in witness?' Say: ‘Allah…' ” (V.6:19)
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
1 Hadith
21
(22) CHAPTER. (The Statement of Allah): “… And His Throne was on the water…” (V.11:7) …The Lord of the Supreme Throne. (V.27:26)
سورۃ ہود میں اللہ کا فرمان ” اور اس کا عرش پانی پر تھا “ ” اور وہ عرش عظیم کا رب ہے “ ۔
11 Hadith
22
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: “The angels and the Ruh [Jibril (Gabriel)] ascend to Him...” (V.70:4) The Statement of Allah: To Him ascend (all) the goodly words… (V.35:10)
سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فرشتے اور روح القدس اس کی طرف چڑھتے ہیں “ ۔
5 Hadith
23
(24) CHAPTER. The Statement of Allah: “Some faces that Day shall be Nadirah (shining and radiant). Looking at their Lord.” (V.75:22,23)
سورۃ قیامت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے ‘ وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ‘ یا دیکھ رہے ہوں گے ۔
14 Hadith
24
(25) CHAPTER. What is said regarding the Statement of Allah: “... Surely, Allah's Mercy is (ever) near unto the good-doers.” (V.7:56)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں روایات کہ ” بلاشبہ اللہ کی رحمت نیکو کاروں سے قریب ہے “ ۔
3 Hadith
25
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they move away from their places…” (V.35:41)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ فاطر میں یہ فرمان کہ بلاشبہ اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتے ۔
1 Hadith
26
(27) CHAPTER. What has been said regarding the creation of the heavens, earth and other created beings
آسمانوں اور زمین اور دوسری مخلوق کے پیدا کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
27
(28) CHAPTER. The Statement of Allah: “And, verily, Our Word has gone forth of old for Our slaves -- the Messengers.” (V.37:171)
سورۃ والصافات میں اللہ کا فرمان کہ
6 Hadith
28
(29) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily! Our Word unto a thing when We intend it…” (V.16:40)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ النحل میں انما قولنا لشئی الخ ‘ ۔
4 Hadith
29
(30) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say: (O Muhammad (p.b.u.h.) to mankind): If the sea were ink for (writing) the Words of my Lord, surely the sea would be exhausted before the Words of my Lord would be finished, even if we brought (another sea) like it, for its aid. (V.18:109)
سورۃ الکہف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد
1 Hadith
30
(31) CHAPTER. (Allah's) Wish and Will.
مشیت اور ارادہ خداوندی کا بیان ۔
21 Hadith
31
(33) CHAPTER. The Talk of the Lord with Jibril (Gabriel) and Allah's Call for the angels.
جبرائیل کے ساتھ اللہ کا کلام کرنا ۔
2 Hadith
32
(33) CHAPTER. The Talk of the Lord with Jibril (Gabriel) and Allah's Call for the angels.
سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو جان کر اتارا ہے ۔
4 Hadith
33
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
سورۃ الفتح میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ” یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں ۔
8 Hadith
34
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
21 Hadith
35
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: “... Then do not set up rivals unto Allah (in worship) while you know (that He Alone has the right to be worshipped).” (V.2:22)
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” پس اللہ کے شریک نہ بناؤ ۔
1 Hadith
36
(41) CHAPTER. The Statement of Allah: “And you have not been hiding yourselves, lest your ears, and your eyes and your skins testify against you, but you thought that Allah knew not much of what you were doing.” (V.41:22)
سورۃ حم سجدہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
1 Hadith
37
(42) CHAPTER. The Statement of Allah: “... Every day He is (engaged) in some affair (such as giving honour to some, disgrace to some, life to some, death to some, etc.)!” (V.55:29)
سورۃ رحمان میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
2 Hadith
38
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “Move not your tongue concerning (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h.)) to make haste therewith. (V.75:16) And the Prophet (p.b.u.h.) did that at the time of the revelation of the Divine Revelation.
سورۃ القیامہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد
1 Hadith
39
(44) CHAPTER. The Statement of Allah: “And whether you keep your talk secret or disclose it. Verily, He is the All-Knower of what is in the breasts (of men). Should not He Who has created know? And He is the Most Kind and Coueteous (to His slaves), All-Aware (of everything).” (V.67:13,14)
سورۃ الملک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
3 Hadith
40
(45) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): A man whom Allah gave the knowledge of the Quran and he read it [in Salat (prayer)] during the hours of the night and the day; and another man says, ‘If I have been given what this man has been given, I would do the same as he is doing.' So Allah's Messenger (p.b.u.h.) showed that his reciting the Quran in Salat in his action.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ” ایک شخص جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور رات دن وہ اس مین مشغول رہتا ہے ۔
2 Hadith
41
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Messenger (Muhammad (p.b.u.h.))! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message...” (V.5:67)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المائدہ میں فرمانا اے رسول ! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے ۔
4 Hadith
42
(48) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) called As-Salat (the prayer) a deed.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو عمل کہا ۔
1 Hadith
43
(49) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, man (disbliever) was created very impatient. Irritable (discontented) when evil touches him. And niggardly when good touches him.” (V.70:19,21)
سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ آدم زاد دل کا کچا پیدا کیا گیا ہے ۔
1 Hadith
44
(50) CHAPTER. What the Prophet (p.b.u.h.) mentioned and narrated of his Lord's Sayings.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے روایت کرنا
5 Hadith
45
(51) CHAPTER. What is allowed as regards the interpretation of the Taurat (Torah) and other Holy Books (revealed by Allah) in Arabic and in other languages as Allah says: …Bring here the Taurat (Torah) and recite it if you are truthful. (V.3:93)
تورات اور اس کے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں کی تفسیر اور ترجمہ عربی وغیرہ میں کرنے کا جائز ہونا ۔
3 Hadith
46
(52) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): “A person who is perfect in reciting and memorizing the Quran will be with the honourable, pious and just scribes (in heaven).” and, Adorn the Quran by reciting it with your (pleasant) voices.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ قرآن کا جید حافظ قیامت کے دن لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا ۔
6 Hadith
47
(53) CHAPTER. The Statement of Allah: “... So, recite as much of the Quran as may be easy for you...” (V.73:20)
سورۃ مزمل میں اللہ تعالیٰ کا فرمان پس قرآن میں سے وہ پڑھو جو تم سے آسانی سے ہو سکے ( یعنی نماز میں )
1 Hadith
48
(54) CHAPTER. The Statement of Allah: “And We have indeed made the Quran easy to understand and remember...” (V.54:17)
سورۃ القمر اللہ تعالیٰ کا فرمان اور ہم نے قرآنمجید کو سمجھنے یا یاد کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے ۔
2 Hadith
49
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: “Nay! This is a Glorious Quran (Inscribed), in Al-Lauh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet).” (V.85:21,22)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمانا بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
2 Hadith
50
(56) CHAPTER. The Statement of Allah: “While Allah has created you and what you make!” (V.37:96) .
سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو ۔
5 Hadith
51
(57) CHAPTER. The recitation of the Quran by an impious person or a hypocrite; and the fact that their voices and recitation do not exceed their throats (i.e., do not benefit them).
فاسق اور منافق کی تلاوت کا بیان اور اس کا بیان کہ ان کی آواز اور ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی ۔
3 Hadith
52
(58) CHAPTER. The Statement of Allah: “And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection…” (V.21:47)
سورۃ انبیاء میں اللہ کا فرمان اور قیامت کے دن ہم ٹھیک ترازوئیں رکھیں گے ۔
1 Hadith
No chapter matched that.