TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: Sadaqah due on sheep - بکریوں کی زکاۃ کا بیان - The chapters regarding zakat - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 13 of The chapters regarding zakat in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 28 · 3 Hadith
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْتُ فِيهِ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَثُرَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَوَجَدْتُ فِيهِ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَوَجَدْتُ فِيهِ لَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَرِمَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ .
It was narrated from Ibn Shihab, from Salim bin Abdullah, from his father, from the Messenger of Allah: Salim said: “My father read to me a letter that the Messenger of Allah (ﷺ) had written about Sadaqat before Allah caused him to pass away. I read in it: 'For forty sheep, one sheep, up to one hundred and twenty. If there is more than that - even one - then two sheep, up to two hundred, If there is one more than that - even one = then three sheep, up to three hundred. If there are many sheep, then for each hundred, one sheep.' And I read in it: 'Separate flocks should not be combined, and a combined flock should not be separated.' And I read in it: 'And a male goat should not be taken for Sadaqah, nor a decrepit nor defective animal.' ”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ۳۰۰ تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے ، اور اس میں یہ بھی پایا: زکاۃ میں جفتی کے لیے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الزکاة ۴ (۱۵۶۸)، سنن الترمذی/الزکاة ۴ (۶۲۱)،(تحفة الأشراف:۶۸۳۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ۱۱ (۲۳)، مسند احمد (۲/۱۴،۱۵)، سنن الدارمی/الزکاة ۴ (۱۶۶۶)
1805
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ .
Ibn Umar narrated that: the Messenger of Allah said: “The Sadaqah of Muslims should be taken at their watering places.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی زکاۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں میں لی جائے گی ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۷۳۴، ومصباح الزجاجة:۶۴۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۸۴)
1806
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هِنْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ زَادَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ خَلِيطَيْنِ يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ لِلْمُصَدِّقِ هَرِمَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَيْسٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ .
Ibn Umar narrated that: the Messenger of Allah said: “For forty sheep, one sheep up to one hundred and twenty. If there is one more. Then two sheep, up to two hundred. If there is one more, then three sheep, up to three hundred. If there are more than that, then for every hundred one sheep. Do not separate combined flock and do not combine separate flocks for fear of Sadaqah. Each partner (who has a share in the flock) should pay in proportion to his shares. And the Zakat collector should not accept any decrepit or defective animal, nor any male goat, unless he wishes to.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر دو سو سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور جو جانور اکٹھے ہوں انہیں زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ نہ کیا جائے، اور نہ ہی جو الگ الگ ہوں انہیں اکٹھا کیا جائے، اور اگر مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں اپنے اپنے حصہ کے موافق زکاۃ پوری کریں ۱؎، اور زکاۃ میں عامل زکاۃ کو بوڑھا، عیب دار اور جفتی کا مخصوص بکرا نہ دیا جائے، الا یہ کہ عامل زکاۃ خود ہی لینا چاہے ۲؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۵۴۵)
Explanation
مثلاً دو شریک ہیں ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں، اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں ہیں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں،زکاۃ وصول کرنے والا آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجیے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے، اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں، اور دو سو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالیسے بنتے ہیں جن میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہو گی اور ۲۵ چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر ہو گی، اب اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپئے واپس کرے گا، اور اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے دس بکریاں لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ ادا کرے گا۔ ۲؎: یعنی جب کسی مصلحت کی وجہ سے محصل (زکاۃ وصول کرنے والا) کسی عیب دار یا بوڑھے یا نر جانور کو لینا چاہے تو صاحب مال پر کوئی زور نہیں کہ وہ دے ہی دے اور محصل کی مرضی کے بغیر اس قسم کے جانور کو زکاۃ میں دینا منع ہے، مصلحت یہ ہے کہ مثلاً عیب دار جانور قوی اورموٹا ہو، دودھ کی زیادہ توقع ہو، یا زکاۃ کے جانور سب مادہ ہوں، ان میں نر کی ضرورت ہو تو نر قبول کرے یا بوڑھا جانور ہو لیکن عمدہ نسل کا ہو تو اس کو قبول کرے۔ «واللہ اعلم»۔
1807
Sahih

Chapters

28
01
Chapter: The obligation of Zakat
زکاۃ کی فرضیت کا بیان
1 Hadith
02
Chapter: What was narrated concerning withholding Zakat
زکاۃ نہ دینے پر وارد وعید کا بیان
3 Hadith
03
Chapter: Wealth on which Zakat is paid is not 'hoarded treasure'
زکاۃ ادا کیا ہوا مال کنز (خزانہ) نہیں ہے۔
3 Hadith
04
Chapter: Zakat on silver and gold
سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان
2 Hadith
05
Chapter: One who acquires wealth
جو شخص مال حاصل کرے اس کی زکاۃ کا بیان
1 Hadith
06
Chapter: Wealth on which Zakat is required
جن چیزوں میں زکاۃ واجب ہے ان کا بیان
2 Hadith
07
Chapter: Paying Zakat before it is due
وقت سے پہلے زکاۃ نکالنے کا بیان
1 Hadith
08
Chapter: What is to be said when Zakat is paid
زکاۃ نکالنے والے کو زکاۃ نکالنے پر کیا دعا دی جائے؟۔
2 Hadith
09
Chapter: Sadaqah due on camels
اونٹ کی زکاۃ کا بیان
2 Hadith
10
Chapter: When the Zakat collector receives an animal that is one year younger or one year older than required
جب زکاۃ وصول کرنے والا زکاۃ دینے والے سے مقررہ عمر سے چھوٹا یا بڑا جانور لے تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
11
Chapter: What kind of camels should be taken
محصل زکاۃ والے سے کس قسم کا اونٹ لے؟۔
2 Hadith
12
Chapter: Sadaqah due on cattle
گائے بیل کی زکاۃ کا بیان۔
2 Hadith
13
Chapter: Sadaqah due on sheep
بکریوں کی زکاۃ کا بیان
3 Hadith
14
Chapter: What was narrated concerning the collectors of Zakat
زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان
4 Hadith
15
Chapter: Sadaqah due on horses and slaves
گھوڑے اور غلام کی زکاۃ کا بیان
2 Hadith
16
Chapter: Wealth on which Zakat is due
جن مالوں میں زکاۃ واجب ہے اس کا بیان۔
2 Hadith
17
Chapter: Sadaqah due on crops and fruits
غلوں اور پھلوں کی زکاۃ کا بیان
3 Hadith
18
Chapter: Assessment of date palms and grapevines
(زکاۃ میں) کھجور اور انگور کا اندازہ لگانا۔
2 Hadith
19
Chapter: Prohibition of giving the worst of one's wealth as sadaqah
زکاۃ میں خراب مال نکالنا منع ہے
2 Hadith
20
Chapter: Zakat due on honey
شہد کی زکاۃ کا بیان
2 Hadith
21
Chapter: Sadaqat al-Fitr
صدقہ فطر کا بیان۔
6 Hadith
22
Chapter: `Ushr and Kharaj
عشر اور خراج کا بیان
1 Hadith
23
Chapter: A Wasq is sixty Sa
ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں
2 Hadith
24
Chapter: Giving charity to relatives
رشتے دار کو صدقہ دینے کا بیان۔
2 Hadith
25
Chapter: Begging is disliked
سوال کرنا اور مانگنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔
2 Hadith
26
Chapter: One who asks when he is not in need
مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
3 Hadith
27
Chapter: For whom is charity permissible
جن لوگوں کے لیے زکاۃ حلال ہے ان کا بیان۔
1 Hadith
28
Chapter: The virtue of charity
صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
3 Hadith
No chapter matched that.