حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ بَرِيرَةَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ حُرٌّ .
It was narrated from Aishah that:
she freed Barirah and the Messenger of Allah (ﷺ) gave her the choice, and she (Barirah) had a free husband.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا، ( کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں ) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎۔
Takhreej
سنن الترمذی/الرضاع ۷ (۱۱۵۴)،(تحفة الأشراف:۱۵۹۵۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق ۱۰ (۲۵۳۶)، سنن ابی داود/الطلاق ۲۰ (۲۲۳۵)، سنن النسائی/الزکاة ۹۹ (۲۶۱۵)، الطلاق ۳۰ (۳۴۸۰)، موطا امام مالک/الطلاق ۱۰ (۲۵)، مسند احمد (۶/۴۶،۱۱۵،۱۲۳،۱۷۲،۱۷۵،۱۷۸،۱۹۱،۲۰۷)، سنن الدارمی/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۷)
Explanation
آزادی کے بعد پہلا نکاح باقی رکھے یا نہ رکھے، لیکن یہ جب ہے کہ اس کا شوہر غلام ہو، اگر شوہر آزاد ہو تو اختیار نہ ہو گا، امام مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی قول ہے اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ہر حال میں اختیار ہو گا، اور اس باب میں مختلف احادیث وارد ہیں۔
2074
Zaeef