TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے

Chapter 29 of The chapters on divorce in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 29 of 36 · 5 Hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ بَرِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ حُرٌّ .
It was narrated from Aishah that: she freed Barirah and the Messenger of Allah (ﷺ) gave her the choice, and she (Barirah) had a free husband.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا، ( کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں ) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎۔
Takhreej
سنن الترمذی/الرضاع ۷ (۱۱۵۴)،(تحفة الأشراف:۱۵۹۵۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق ۱۰ (۲۵۳۶)، سنن ابی داود/الطلاق ۲۰ (۲۲۳۵)، سنن النسائی/الزکاة ۹۹ (۲۶۱۵)، الطلاق ۳۰ (۳۴۸۰)، موطا امام مالک/الطلاق ۱۰ (۲۵)، مسند احمد (۶/۴۶،۱۱۵،۱۲۳،۱۷۲،۱۷۵،۱۷۸،۱۹۱،۲۰۷)، سنن الدارمی/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۷)
Explanation
آزادی کے بعد پہلا نکاح باقی رکھے یا نہ رکھے، لیکن یہ جب ہے کہ اس کا شوہر غلام ہو، اگر شوہر آزاد ہو تو اختیار نہ ہو گا، امام مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی قول ہے اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ہر حال میں اختیار ہو گا، اور اس باب میں مختلف احادیث وارد ہیں۔
2074
Zaeef
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ مُغِيثٌ، ‏‏‏‏‏‏كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:‏‏‏‏ يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ رَاجَعْتِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏تَأْمُرُنِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَشْفَعُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The husband of Barirah was a slave called Mughith. It is as if I can see him now, walking behind her and weeping, with tears running down his cheeks. The Prophet (ﷺ) said to 'Abbas: 'O Abbas, are you not amazed by the love of Mughith for Barirah, and the hatred of Barirah for Mughith?' And the Prophet said to her: Why don’t you take him back, for he is the father of your child?' She said: 'O Messenger of Allah, are you commanding me (to do so)?' He said: 'No, rather I am interceding.' She said: 'I have no need of him.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا اس کو مغیث کہا جاتا تھا، گویا کہ میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پھر رہا ہے، اور رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں: عباس! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور مغیث سے بریرہ کی نفرت پہ تعجب نہیں ہے ؟ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کاش تو مغیث کے پاس لوٹ جاتی، وہ تیرے بچے کا باپ ہے ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں ، تو وہ بولی: مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔
Takhreej
صحیح البخاری/الطلاق ۱۵ (۵۲۸۲)،۱۶ (۵۲۸۳)، سنن ابی داود/الطلاق ۱۹ (۲۲۳۱)، سنن الترمذی/الرضاع ۷ (۱۱۵۴)، سنن النسائی/آداب القضاء ۲۷ (۵۴۱۹)،(تحفة الأشراف:۶۰۴۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۱۵)، سنن الدارمی/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۸)
2075
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ .
It was narrated that Aishah said: 'Three Sunan were established because of Barirah: She was given the choice (of whether to remain married) when she was freed, and her husband was a slave; they used to give her charity and she used to give it as a gift to the Prophet (ﷺ), and he would say: 'It is charity for her and a gift for us,' and he said, the 'Wala' is for the one who set the slave free.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: حق ولاء ( غلام یا لونڈی کی میراث ) اس کا ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۷۴۳۲)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق ۱۰ (۲۵۳۶)، الأطعمة ۳۱ (۵۴۳۰)، الفرائض ۲۰ (۶۷۶۰)،۲۲ (۶۷۵۴)،۲۳ (۶۷۵۹)، سنن ابی داود/الفرائض ۱۲ (۲۹۱۶)، سنن الترمذی/البیوع ۳۳ (۲۱۲۶)،الولاء ۱ (۲۱۲۵)، سنن النسائی/الطلاق ۳۰ (۳۴۷۹)، موطا امام مالک/الطلاق۱۰ (۲۵)، مسند احمد (۶/۴۲،۱۷۰،۱۸۰،۱۸۶،۲۰۹)، سنن الدارمی/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۶)
Explanation
جب بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے ولاء (حق وراثت) لینا چاہا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء (حق وراثت) اسی کو ملے گا جو آزاد کرے ۔
2076
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أُمِرَتْ بَرِيرَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ تَعْتَدَّ بِثَلَاثِ حِيَضٍ .
It was narrated that 'Aishah said: Barirah was told to observe the waiting period for three menstrual cycles.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزاریں
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۰۰۲، ومصباح الزجاجة:۷۳۱)
2077
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ بَرِيرَةَ .
It was narrated from Abu Hurairah that: the Messenger of Allah (ﷺ) gave Barirah the choice
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ( کہ وہ اپنے شوہر مغیث کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں ) ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۵۹۰، ومصباح الزجاجة:۷۳۲)
2078
Sahih

Chapters

36
01
ہمیں سوید بن سعید نے بیان کیا۔
3 Hadith
02
سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان
4 Hadith
03
حاملہ عورت کو طلاق کیسے دی جائے؟۔
1 Hadith
04
جس نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
05
طلاق سے رجوع ہونے کا بیان
1 Hadith
06
حاملہ عورت کو طلاق دی جائے تو بچہ جنتے ہی وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی
1 Hadith
07
حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے
4 Hadith
08
شوہر کی وفات کے بعد بیوہ عدت کے دن کہاں گزارے؟۔
1 Hadith
09
کیا عورت عدت میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟۔
3 Hadith
10
کیا تین طلاق پائی ہوئی عورت نفقہ اور رہائش کی حقدار ہے؟۔
2 Hadith
11
طلاق کے وقت عورت کو کچھ دینے کا بیان
1 Hadith
12
مرد کہے کہ اس نے طلاق نہیں دی ہے (اور بیوی اس کا دعویٰ کرتی ہو) تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
13
ہنسی مذاق میں طلاق دینے یا نکاح کرنے یا رجوع کرنے کے احکام کا بیان
1 Hadith
14
دل میں طلاق دینے اور زبان سے کچھ نہ کہنے کے حکم کا بیان
1 Hadith
15
دیوانہ، نابالغ اور سوئے ہوئے شخص کی طلاق کے حکم کا بیان
2 Hadith
16
زبردستی یا بھول سے دی گئی طلاق کے حکم کا بیان
4 Hadith
17
نکاح سے پہلے دی گئی طلاق کے صحیح نہ ہونے کا بیان
3 Hadith
18
جن الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے ان کا بیان
1 Hadith
19
: بتہ یعنی بائن طلاق کا بیان
1 Hadith
20
مرد اپنی بیوی کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیدے
2 Hadith
21
(بغیر کسی شرعی سبب کے) عورت کا خلع کا مطالبہ مکروہ ہے
2 Hadith
22
شوہر نے عورت کو جو مال دیا ہے خلع کے بدلے وہ لے سکتا ہے
2 Hadith
23
خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان
1 Hadith
24
ایلاء کا بیان
3 Hadith
25
ظہار کا بیان
2 Hadith
26
ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
27
لعان کا بیان
6 Hadith
28
عورت کو اپنے اوپر حرام کر لینے کے حکم کا بیان
2 Hadith
29
آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے
5 Hadith
30
لونڈی کی طلاق اور عدت کا بیان
2 Hadith
31
غلام کی طلاق کا بیان
1 Hadith
32
دو طلاق دینے کے بعد لونڈی کے خریدنے کا بیان
1 Hadith
33
ام ولد کی عدت کا بیان
1 Hadith
34
بیوہ عورت عدت کے دنوں میں زیب و زینت نہ کرے
1 Hadith
35
کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟۔
3 Hadith
36
اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.