It was narrated that Rifa'ah bin Shaddad Al-Qitbani said: “Were it not for a word that I heard from 'Amr bin Hamiq Khuza'i, I would have separated the head of Al-Mukhtar from his body. I heard him saying: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If a man trusts someone with his life then he kills him, he will carry a banner of treachery on the day of Resurrection.'”
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا ۔
It was narrated that Rifa'ah said: “I entered upon Mukhtar in his palace and he said: 'Jibril has just left me.' Nothing stopped me from striking his neck (i.e, killing him) but a Hadith that I heard from Sulaiman bin Surad, according to which the Prophet (ﷺ) said: 'If a man trusts you with his life, then do not kill him.' That is what stopped me.”
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ۱؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔