It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the sons from the same mother inherit from one another, but not sons from different mothers. A man inherits from his full brother from the same father and mother, but not his brothers from his father.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، علاتی کے نہیں، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا علاتی بھائیوں کا نہیں ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الفرائض ۵ (۲۰۹۴،۲۰۹۵)،(تحفة الأشراف:۱۰۰۴۳)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض ۲۸ (۳۰۲۷)، وقد مضی برقم:۲۷۱۵
Explanation
حقیقی (سگے) بھائی یعنی وہ جن کے ماں اور باپ دونوں ایک ہوں، اور علاتی سے مراد وہ بھائی ہیں جن کے باپ ایک ہو، اور ماں الگ الگ ہو، اور جن کی ماں ایک ہو باپ الگ الگ ہوں، انہیں اخیافی بھائی کہتے ہیں۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Distribute wealth among those who are entitled to shares of inheritance, according to the Book of Allah, then whatever is left over goes to the nearest male relative.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال کو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق ذوی الفروض ( میراث کے حصہ داروں ) میں تقسیم کرو، پھر جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کا ہو گا جو میت کا زیادہ قریبی ہو ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الفرائض ۵ (۶۷۳۲)، صحیح مسلم/الفرائض ۱ (۱۶۱۵)، سنن ابی داود/الفرائض ۷ (۲۸۹۸)، سنن الترمذی/الفرائض ۸ (۲۰۹۸)،(تحفة الأشراف:۵۷۰۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۹۲،۳۱۳،۳۲۵)، سنن الدارمی/الفرائض ۲۸ (۳۰۳۰)
Explanation
جیسے بھائی چچا کے بہ نسبت اور چچا زاد بھائی کی بہ نسبت اور بیٹا پوتے کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:
“A man died at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and he left no heir except for a slave whom he had set free. The Messenger of Allah (ﷺ) gave the legacy to him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مر گیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الفرائض ۸ (۲۹۰۵)، سنن الترمذی/الفرائض ۱۴ (۲۱۰۶)،(تحفة الأشراف:۶۳۲۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۲۱،۳۵۸)
It was narrated from Wathilah bin Asqa’ that the Prophet (ﷺ) said:
“A woman may get three types of inheritance: From her freed slave woman, a foundling whom she raised, and her child concerning whom she swore in Li’an that he was legitimate.”
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت تین میراث حاصل کرتی ہے، ایک تو اپنے اس غلام یا لونڈی کی میراث جس کو وہ آزاد کرے، دوسرے اس بچے کی میراث جس کو راستہ میں لاوارث پا کر پرورش کرے، تیسرے اس بچے کی میراث جس پر اپنے شوہر سے لعان کرے ۔ محمد بن یزید کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الفرائض ۹ (۲۹۰۶)، سنن الترمذی/الفرائض ۲۳ (۲۱۱۵)،(تحفة الأشراف:۱۱۷۴۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۹۰،۴/۱۰۶،۱۰۷)
It was narrated that Abu Hurairah said:
“Then the Verse of Li’an was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Any woman who attributed her child to people to whom he does not belong, then she has no relation to (the religion of) Allah, and she will never enter Paradise, and any man who rejects his child, while he recognizes him, Allah will screen Himself from him on the Day of Resurrection and disgrace him before the witnesses.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے ( بچہ ) کو ملا دیا جو ان میں سے نہیں تھا، تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ اس کی جنت میں ہرگز داخل نہ ہو گی، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کو پہچان لینے کے باوجود انکار کر دیا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا، اور سب کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) said:
“It is disbelief for a man to attribute himself to someone other than his father knowingly, or to deny his connection to his father, even subtly.”*
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا ایسے نسب کا دعویٰ کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے یا اپنے نسب کا انکار کر دینا گرچہ اس کا سبب باریک ( دقیق ) ہو یہ بھی کفر ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأ شراف:۸۸۱۷ ألف، ومصباح الزجاجة:۹۷۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۱۵)
Explanation
یہاں پر کفر سے مراد نسب کی ناشکری ہے، کیونکہ وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر جو کہ اس کے وجود کا سبب ہے، دوسرے کا بیٹا بنا چاہتا ہے۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever commits adultery with a slave woman or a free woman, his child is illegitimate, and he cannot inherit from him or be inherited from (i.e., this child cannot inherit from him).”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۷۷۸)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض ۲۱ (۲۱۱۳)
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Every child who is attributed to his father after his father to whom he is attributed has died, and his heirs attributed him to him after he died, he ruled that* whoever was born to a slave woman whom he owned at the time when he had intercourse with her, he should be named after the one to whom he was attributed, but he has no share of any inheritance that was distributed previously. Whatever inheritance he finds has not yet been distributed, he will have a share of it. But he cannot be named after his father if the man whom he claimed as his father did not acknowledge him. If he as born to a slave woman whom his father did not own, or to a free woman with whom he committed adultery, then he cannot be named after him and he does not inherit from him, even if the one whom he claims as his father acknowledges him. So he is an illegitimate child who belongs to his mother’s people, whoever they are, whether she is a free woman or a slave.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں ( کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا: اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کر لی ہو، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہو گا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہو گا، ( اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے ) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، جب بھی وہ ولدالزنا ہی ہو گا، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کر دی گئی ہو۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۷۱۲ألف، ومصباح الزجاجة:۹۷۱)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ۳۰ (۲۲۶۵)، مسند احمد (۲/۱۸۱،۲۱۹)، سنن الدارمی/الفرائض ۴۵ (۳۱۵۴)
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whatever division of inheritance was made during the Ignorance period, stands according to the division of the Ignorance period, and whatever division of inheritance was made during Islam, it stands according to the division of Islam.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہو چکی، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۲۳۲، ومصباح الزجاجة:۹۷۲)
Explanation
اس حدیث سے کیسا عمدہ مسئلہ حل ہوا کہ ہر قانون کا عمل اس کے نفاذ کے بعد سے جو مقدمات پیدا ہوں ان پر ہوتا ہے اور جن مقدمات کے فیصلے قانون کے نفاذ سے پہلے ہو چکے ہوں ان میں اس قانون کے نفاذ سے کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“If the child has cired, the (funeral) prayer should be offered for him (if he dies) and he is an heir.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ پیدائش کے وقت رو دے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۷۰۸)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ۴۳ (۱۰۳۲)، سنن الدارمی/الفرائض ۴۷ (۳۱۶۸)، وقد مضی برقم:(۱۵۰۸)
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah and Miswar bin Makhrumah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“No child inherits until he raises his voice or cries.”
جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ولادت کے وقت ) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روے یا چیخے یا چھینکے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۲۵۷،(الف)۱۲۶۶ (الف)
Explanation
غرض کوئی کام ایسا کرے جس سے اس کی زندگی ثابت ہو تو وہ وارث ہو گا۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mawhab said:
“I heard Tamim Ad- Dari say: ‘I said: O Messenger of Allah, what is the Sunnah concerning a man from among the People of the Book who becomes a Muslim at the hands of another man?’ He said: ‘He is the closest of all people to him in life and in death.’”
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الفرائض ۱۳ (۲۹۱۸)، سنن الترمذی/الفرائض۲۰ (۲۱۱۲)،(تحفة الأشراف:۲۰۵۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۰۴،۱۰۳)، سنن الدارمی/الفرائض ۳۴ (۳۰۷۶)
Explanation
ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔