سنن ابن ماجہ

Sunnan Ibn e Maja

الأطعمة (كھانوں) ‌كے ‌احكام ‌و مسائل

Chapters on food

میدہ کا بیان


حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ الرَّمْلِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ زَارَأَبُو هُرَيْرَةَ قَوْمَهُ بَيِنَنَا،‏‏‏‏ فَأَتَوْهُ بِرُقَاقٍ مِنْ رُقَاقِ الْأُوَلِ،‏‏‏‏ فَبَكَى،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا بِعَيْنِهِ قَطُّ .

It was narrated from Ibn ‘Ata that his father said: “Abu Hurairah visited his people, meaning, a village” – I (one of the narrators) think he said: “Yuna” – “And they brought him some of the first thin loaves of bread. He wept and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) never saw such a thing with his own eyes.’”

عطا کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے، تو وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی ( چہ جائے کہ کھاتے ) ۱؎۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 29, Hadith 3338 Arabic reference : Book 29, Hadith 3463
(ابن عطاء یہ عثمان بن عطاء ہیں اور ضعیف ہیں)
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۲۰۵، ومصباح الزجاجة:۱۱۵۳)
Explanation
شرح و تفصیل
صحیح بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے باریک روٹی نہیں دیکھی یعنی چپاتی کیونکہ یہ روٹی موٹے آٹے کی نہیں پک سکتی بلکہ اکثر میدے کی پکاتے ہیں، بلکہ آپ ہمیشہ موٹی روٹی وہ بھی اکثر جو کی کھایا کرتے، اور بے چھنے آٹے کی وہ بھی روز پیٹ بھر کر نہ ملتی تھی، ایک دن کھایا، تو ایک دن فاقہ «سبحان اللہ»ہمارے رسول ﷺ کا تو یہ حال تھا، اور ہم روز کیسے کیسے عمدہ کھانے خوش ذائقہ اور نئی ترکیب کے جن کو اگلے لوگوں نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا کھاتے ہیں، اور وہ بھی ناکوں ناک پیٹ بھر کر وہ بھی اسی طرح سے کہ حلال حرام کا کچھ خیال نہیں، مشتبہ کا تو کیا ذکر ہے۔