It was narrated from Usamah bin Zaid that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “I am not leaving behind me any tribulation that is more harmful to men than women.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور مضر کوئی فتنہ نہیں پاتا ۱؎۔
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “No morning comes but two angels call out: ‘Woe to men from women, and woe to women from men.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر صبح دو فرشتے یہ پکارتے ہیں: مردوں کے لیے عورتوں کی وجہ سے بربادی ہے، اور عورتوں کے لیے مردوں کی وجہ سے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver a sermon and one of the things that he said was: “This world is fresh and sweet, and Allah will make your successive generations therein, so look at what you do and beware of (the temptations of) this world and beware of (the temptations of) women.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے، تو اس خطبہ میں یہ بھی فرمایا: دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، تو وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ سنو! تم دنیا سے بھی بچاؤ کرو، اور عورتوں سے بھی ۱؎۔
It was narrated that ‘Aishah said: “While the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting in the mosque, a woman from Muzainah (tribe) entered, trailing her garment in the mosque. The Prophet (ﷺ) said: ‘O people, tell your women not to wear their adornments and show pride in the mosque, for the Children of Israel were not cursed until their women wore adornments and walked proudly in their places of worship.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مسجد میں بنی ٹھنی اتراتی ہوئی داخل ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی عورتوں کو زیب و زینت کا لباس پہن کر اور ناز و ادا کے ساتھ مسجد میں آنے سے منع کرو، کیونکہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اس وقت آئی تھی جبکہ ان کی عورتوں نے لباس فاخرہ پہننے شروع کئے، اور مسجدوں میں ناز و ادا کے ساتھ داخل ہونے لگیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah met a woman who was wearing perfume and heading for the mosque. He said: “O slavewoman of the Compeller, where are you headed?” She said: “To the mosque.” He said: “And have you put on perfume for that?” She said: “Yes.” He said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Any woman who puts on perfume then goes out to the mosque, no prayer will be accepted from her until she takes a bath.’”
ابورہم کے عبید نامی غلام کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خوشبو لگائے مسجد جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اسی کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “O women, give in charity and pray a great deal for forgiveness, for I have seen that you form the majority of the people of Hell.” A woman who was very wise said: “Why is it, O Messenger of Allah, that we form the majority of the people of Hell?” He said: “You curse a great deal and you are ungrateful to your husbands, and I have never seen anyone lacking in discernment and religion more overwhelming to a man of wisdom than you.” She said: “O Messenger of Allah, what is this lacking in discernment and religion?” He said: “The lack of discernment is the fact that the testimony of two women is equal to the testimony of one man; this is the lack of reason. And (a woman) spends several nights when she does not pray, and she does not fast in Ramadhan, and this is the lack in religion.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرو، کثرت سے استغفار کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں تم عورتوں کو زیادہ دیکھا ہے ، ان میں سے ایک سمجھ دار عورت نے سوال کیا: اللہ کے رسول ہمارے جہنم میں زیادہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لعنت و ملامت زیادہ کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، میں نے باوجود اس کے کہ تم ناقص العقل اور ناقص الدین ہو، تم سے زیادہ مرد کی عقل کو مغلوب اور پسپا کر دینے والا کسی کو نہیں دیکھا ، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری عقل کی کمی ( و نقصان ) تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے، اور دین کی کمی یہ ہے کہ تم کئی دن ایسے گزارتی ہو کہ اس میں نہ نماز پڑھ سکتی ہو، اور نہ رمضان کے روزے رکھ سکتی ہو ۔