It was narrated that Abu Mas’ud said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to enjoin charity, then one of us would go out and carry goods for others until he earned a Mudd, but one of them nowadays has one hundred thousand (Dinar or Dirham).” Shaqiq said: It was as if he was hinting that this was he himself.
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات کا حکم دیتے تو ہم میں سے ایک شخص حمالی کرنے جاتا، یہاں تک کہ ایک مد کما کر لاتا، ( اور صدقہ کر دیتا ) اور آج ان میں سے ایک کے پاس ایک لاکھ نقد موجود ہے، ابووائل شقیق کہتے ہیں: گویا کہ وہ اپنی ہی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Utbah bin Ghazwan delivered a sermon on the pulpit and said: ‘I saw myself the seventh of seven with the Messenger of Allah (ﷺ), and we did not have any food to eat except the leaves of trees, until our gums hurt.’”
خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر خطبہ سنایا اور کہا: میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں ان سات آدمیوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ ( اس کے پتے کھانے سے ) ہمارے مسوڑھے زخمی ہو جاتے۔
It was narrated from Abu Hurairah that they suffered from hunger and they were seven. He said: “Then the Prophet (ﷺ) gave me seven dates, one date for each man.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو بھوک لگی اور وہ سات آدمی تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں دیں، ہر ایک کے لیے ایک ایک کھجور تھی ۱؎۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Zubair bin ‘Awwam that his father said: “When the following was reveled: “Then on that Day you shall be asked about the delights (you indulged in, in this world)! [102:8] Zubair said: ‘What delights shall we be asked about? It is only the two black ones, dates and water.’ He said: ‘It is going to happen.’”
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ( سورة اتكاثر: 8 ) نازل ہوئی، تو انہوں نے کہا: کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ یہاں تو صرف دو کالی چیزیں: پانی اور کھجور ہی میسر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب نعمتیں حاصل ہوں گی ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) sent us, (we were) three hundred men, carrying our provisions on our necks. Our provisions ran out until there would be for (every) man among us one date (a day).” Then it was said: “O Abu ‘Abdullah, how can one date satisfy a man?” He said: “When we no longer had it, we realized how much it was worth. Then we came to the sea and found a whale that had been thrown up by the sea, and we ate from it for eighteen days.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو آدمیوں کو روانہ کیا، ہم نے اپنے توشے اپنی گردنوں پر لاد رکھے تھے، ہمارا توشہ ختم ہو گیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کو ایک کھجور ملتی، کسی نے پوچھا: ابوعبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہو گا؟ جواب دیا: جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی، ہم سمندر تک آئے، آخر ہمیں ایک مچھلی ملی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے ۱؎۔