It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah (ﷺ) passed by us when we were fixing a hut of ours, and said: ‘What is this?’ I said: ‘It is a hut of ours that has fallen into disrepair.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The matter (of death) may come sooner than that.’”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اس وقت ہم اپنی ایک جھونپڑی درست کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا: یہ ہماری جھونپڑی ہے، ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے خیال میں موت اس سے بھی جلد آ سکتی ہے ۔
It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a dome-shaped structure at the door of a man among the Ansar and said: ‘What is this? ‘They said: ‘A dome that was built by so-and-so.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘All wealth that is like this (extravagant) will bring evil consequences to its owner on the Day of Resurrection.’ News of that reached the Ansari, so he demolished it. Then the Prophet (ﷺ) passed by (that place) later on and did not see it. He asked about it and was told that its owner had demolished it because of what he had heard from him. He said: ‘May Allah have mercy on him, may Allah have mercy on him.’”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے، تو سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: یہ گول گھر ہے، اس کو فلاں نے بنایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال اس طرح خرچ ہو گا، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا، انصاری کو اس کی خبر پہنچی، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی، تو اس نے اسے ڈھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “I had built a house to shelter me from the rain and the sun, during the time of Allah’s Messenger (ﷺ), and no creature of Allah helped me in building it.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا کہ میں نے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے بچائے، اور اللہ کی مخلوق نے میری اس میں ( گھر بنانے میں ) کوئی مدد نہیں کی تھی۔
It was narrated that Harithah bin Mudarrib said: “We came to Khabbab to visit him (when he was sick), and he said: ‘I have been sick for a long time, and were it not that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Do not wish for death,” I would have wished for it.’ And he said: “A person will be rewarded for all his spending, except for (what he spends) on dust,” or he said, “on building.”
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ہم خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے، تو آپ کہنے لگے کہ میرا مرض طویل ہو گیا ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ تم موت کی تمنا نہ کرو تو میں ضرور اس کی آرزو کرتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے ، یا فرمایا: عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ہے ۔