It was narrated that Ibn 'Abbas said:
The Messenger of Allah said: 'Let the best of you give the call to prayer (Adhan), and let those who are most versed in the Qur'an lead you in prayer.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے اچھے لوگ اذان دیں، اور جو لوگ قاری عالم ہوں وہ امامت کریں ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever calls the Adhan for seven years, seeking reward (from Allah), Allah will decree for him deliverance from the Fire.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے طلب ثواب کی نیت سے سات سال اذان دی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے نجات لکھ دے گا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۶۰۱۷)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ۳۸ (۲۰۶)
It was narrated from Ibn 'Umar that:
The Messenger of Allah said: Whoever calls the Adhan for twelve years, he will be guaranteed Paradise, and for each day sixty Hasanat (good deeds) will be recorded for him by virtue of his Adhan, and thirty Hasanat by virtue of his Iqamah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بارہ سال اذان دی، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور اس کے لیے ہر روز کی اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں، اور ہر اقامت پہ تیس نیکیاں لکھ دی گئیں ۱؎۔
اوپر حدیث میں سات برس کا ذکر ہے، اور اس میں بارہ برس کا یہ تعارض نہیں ہے، کیونکہ سات برس کی اذان دینے میں جب جہنم سے برأت حاصل ہو گئی، تو بارہ برس کی اذان دینے میں جنت ضرور حاصل ہو گی، ان شاء اللہ اور بعضوں نے کہا سات برس خلوص نیت کے ساتھ کافی ہیں، اور بارہ برس ہر طرح کافی ہیں، اگرچہ نیت میں صفائی کامل نہ ہو، واللہ اعلم۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
They looked for something by means of which they could call out informing of (the time of) the prayer. Then Bilal was commanded to say the phrases of the Adhan twice and the phrases of the Iqamah once.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایسی چیز کی تلاش ہوئی جس کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے اوقات کی واقفیت ہو جائے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الأذان ۱ (۶۰۳)، ۲ (۶۰۵)، ۳ (۶۰۶)، صحیح مسلم/الصلاة ۲ (۳۷۸)، سنن ابی داود/الصلاة ۲۹ (۵۰۸)، سنن الترمذی/الصلاة ۲۷ (۱۹۳)، سنن النسائی/الأذان ۲ (۶۲۸)، (تحفة الأشراف: ۹۴۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۰۳، ۱۸۹)، سنن الدارمی/الصلاة ۶ (۱۲۳۰)
Explanation
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے تو کافی ہے، کیونکہ اقامت حاضرین کو سنانے کے لئے کافی ہوتی ہے، اس میں تکرار کی ضرورت نہیں، اور عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث (طحاوی اور ابن ابی شیبہ) یہ ہے کہ فرشتے نے اذان دی، دو دو بار اور اقامت کہی دو دو بار، مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہنا کافی نہیں، اور محدثین کے نزدیک تو دونوں امر جائز ہیں، انہوں نے کسی حدیث کے خلاف نہیں کیا، لیکن حنفیہ پر یہ الزام قائم ہوتا ہے کہ افراد اقامت کی حدیثیں صحیح ہیں، تو افراد کو جائز کیوں نہیں سمجھتے۔
Abdur-Rahman bin Sa'd bin 'Ammar bin Sa'd narrated (from his great-grandfather of the Messenger of Allah) that:
In the Adhan of Bilal, the phrases were two by two, and in his Iqamah they were said once
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہتے تھے۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۳۸۲۶، ومصباح الزجاجة: ۲۷۱)
It was narrated that Abu Rafi' said:
I saw Bilal calling the Adhan in fron of Allah's Messenger, (saying the phrases) two by two, and saying each phrase once in the Iqamah.
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اذان دیتے دیکھا، وہ اذان کے کلمات دو دو بار کہہ رہے تھے، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۲۰۲۴، ومصباح الزجاجة: ۲۷۲)
Explanation
ان احادیث سے طحاوی اور ابن جوزی کی یہ روایت باطل ہو گئی کہ بلال رضی اللہ عنہ اقامت کے کلمات دو دو بار کہتے رہے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، یعنی ایک ایک بار اقامت کے کلمات انہوں نے کہے، کیونکہ یہ شہادت ہے نفی پر اور یہ جائز ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کبھی اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے ہوں، اور کبھی دو دو بار اور اس راوی نے ایک ایک بار کہنا نہ سنا ہو، اور اس صورت میں دونوں طرح کی روایتوں میں توفیق و تطبیق ہو جائے گی۔
It was narrated that Abu Sha'tha said:
We were sitting in the mosque with Abu Hurairah when the Mu'adh-dhin called the Adhan. A man got up and walked out of the mosque, and Abu Hurairah followed him with his gaze until he left the mosque. Then Abu Hurairah said: This man has disobeyed Abul-Qasim.'
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں مؤذن نے اذان دی، ایک شخص مسجد سے اٹھ کر جانے لگا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا، اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎۔
جو لوگ نماز سے فارغ ہونے تک مسجد میں ٹھہرے رہے انہوں نے آپ ﷺ کی فرمانبرداری کی، نبی اکرم ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ جب مسجد میں اذان ہو جائے، تو پھر بغیر نماز پڑھے نہ نکلے اگر وہ شخص دوسری جگہ کا امام ہو اور کوئی سخت عذر ہو تو نکلنا جائز ہے، نماز پڑھ کر جائے تو بہتر ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ امر جائز ہے کہ ایک شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے، پھر اسی نماز میں دوسرے لوگوں کی امامت کرے، معاذ رضی اللہ عنہ ایسا ہی کیا کرتے تھے، اور ان کی پہلی باجماعت نماز فرض ہوتی تھی اور دوسری امامت والی نماز نفل اور مقتدی ان کے پیچھے فریضہ ادا کرتے تھے۔
It was narrated that 'Uthman said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever hears the Adhan when he is in the mosque, then goes out and does not go out for any (legitimate) need and does not intend to return, is a hypocrite.'
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہو جائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۹۸۴۱، ومصباح الزجاجة: ۲۷۳)
Explanation
یعنی اس کا عمل منافق کے عمل کی طرح ہے کہ وہ نماز پڑھنے کا خیال نہیں رکھتا، اور اس میں سستی کرتا ہے، یہ منافق کی نشانی ہے۔