سنن ابن ماجہ

Sunnan Ibn e Maja

اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل

Establishing the prayer and the sunnah regarding them

مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ ب الطُّورِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جُبَيْرٌ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ:‏‏‏‏ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ إِلَى قَوْلِهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ سورة الطور آية 35 ـ 38 كَادَ قَلْبِي يَطِيرُ.

It was narrated from Muhammad bin Jubair bin Mut’im that his father said: “I heard the Prophet (ﷺ) reciting At-Tur (52) in the Maghrib.” In a different narration, Jubair said: “And when I heard him recite: ‘Were they created by nothing? Or were they themselves the creators?’ up to: ‘Then let their listener produce some manifest proof’,[52:35-38] it was as if my heart were about to take flight.”

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے«فليأت مستمعهم بسلطان مبين»، یعنی: کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ ( اگر ایسا ہے ) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے ، ( سورۃ الطور: ۳۵ -۳۸ ) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ۱؎۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 5, Hadith 832 Arabic reference : Book 5, Hadith 881
Conclusion
تخریج
صحیح البخاری/الأذان ۱۹۹ (۷۶۵)، الجہاد ۱۷۲ (۳۰۵۰)، المغازي ۱۲ (۴۰۲۳)، تفسیر الطور ۱ (۴۸۵۴)، صحیح مسلم/الصلاة ۳۵ (۴۶۳)، سنن ابی داود/الصلاة ۱۳۲ (۸۱۱)، سنن النسائی/الافتتاح ۶۵ (۹۸۸)، (تحفة الأشراف: ۳۱۸۹)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ۵ (۲۳)، مسند احمد (۴/۸۳، ۸۴، ۸۵)، سنن الدارمی/الصلاة ۶۴ (۱۳۳۲)
Explanation
شرح و تفصیل
ان آیتوں کے عمدہ مضمون کا اثر دل پر ایسا ہوا کہ دل ہی ہاتھ سے جانے کو تھا، سبحان اللہ ایک تو قرآن کا اثر کیا کم ہے، دوسرے نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے آیتوں کی تلاوت، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شفق کے ختم ہونے تک مغرب کا وقت پھیلا ہوا ہے۔