جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کا بیان - جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کا بیان - Establishing the prayer and the sunnah regarding them - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Chapter 99 of Establishing the prayer and the sunnah regarding them in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘On Friday there is a time when no Muslim man happens to stand in prayer at that time, asking Allah for good things, but He will give that to him.” And he gestured with his hand to indicate how short that time is.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ نماز پڑھتا ہوا اسے پا لے، اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے کسی بھلائی کا سوال کرے، تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے اس وقت کو بہت ہی مختصر بتایا
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۴۴۴۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ۳۷ (۹۳۵)، الطلاق ۲۴ (۵۲۹۴)، الدعوات ۶۱ (۶۴۰۰)، صحیح مسلم/الجمعة ۴ (۸۵۲)، سنن النسائی/الجمعة ۴۴ (۱۴۳۳)، سنن ابی داود/الصلاة ۲۰۴ (۱۶۱۰)، موطا امام مالک/الجمعة ۷ (۵۱)
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf Al-Muzani narrated from his father, that his grandfather said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘On Friday there is a time of the day during which no person asks Allah for something but He will give him what he asks for.’” It was said: ‘When is that time?’ He said: ‘When the Iqamah for prayer (is called), until the prayer ends.’”
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ( گھڑی ) ہے کہ اس میں بندہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگے اس کی دعا قبول ہو گی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کے لیے اقامت کہی جانے سے لے کر اس سے فراغت تک ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Salam said:
“I said, when the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting: ‘We find in the Book of Allah that on Friday there is an hour when no believing slave performs prayer and asks Allah for anything at that time, but Allah will fulfill his need.’” ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) pointed to me, saying: ‘Or some part of an hour.’ I said: ‘you are right, or some part of an hour.’ I said: ‘What time is that?’ He said: ‘It is the last hours of the day.’ I said: ‘It is not the time of the prayer?’ He said: ‘Yes (it is so), when a believing slave performs prayer and then sits with nothing but the prayer keeping him, he is still in a state of prayer.’”
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا: ہم اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ( گھڑی ) ہے کہ جو مومن بندہ نماز پڑھتا ہوا اس کو پا لے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو وہ اس کی حاجت پوری کرے گا، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کیا کہ وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا، وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے، میں نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دن کی آخری ساعت ہے میں نے کہا: یہ تو نماز کی ساعت نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں! بیشک مومن بندہ جب نماز پڑھتا ہے، پھر نماز ہی کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۵۳۴۲، ومصباح الزجاجة: ۴۰۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۵۰، ۴۵۱)
Explanation
جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کی ساعت کے سلسلہ میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں، بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نماز جمعہ کی اقامت سے فراغت نماز تک ہے، اور بعض سے پتہ چلتا ہے اخیر دن میں ہے، لیکن سب سے زیادہ صحیح حدیث اس باب میں ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی ہے، جو صحیح مسلم میں ہے کہ یہ ساعت اس وقت ہے جب امام خطبہ کے لئے منبر پر بیٹھے نماز کی تکبیر ہونے تک ابن حجر فرماتے ہیں: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قول کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اس باب میں سب سے زیادہ مشہور ہے، اور ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت سب سے زیادہ صحیح ہے، «واللہ اعلم»، اس گھڑی کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کی تلاش میں پورے دن عبادت و دعامیں مشغول و منہمک رہے، «والعلم عند الله»