It was narrated that ‘Amr bin ‘Abasah said: “I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, who became a Muslim with you?’ He said: ‘A free man and a slave.’ I said: ‘Is there any hour of the night that is closer to Allah than another?’ He said: ‘Yes, the last half of the night.’”
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون کون سے لوگ اسلام لائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام ۱؎ میں نے پوچھا: کیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی کے مقابلے میں ایسی ہے جس میں اللہ کا قرب زیادہ ہوتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں رات کی درمیانی ساعت ( گھڑی ) ۲؎۔
It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to sleep during the first part of the night and stay awake during the latter part.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع رات میں سو جاتے تھے، اور اخیر رات میں عبادت کرتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Our Lord, the Blessed and Exalted, descends when one third of the night remains, every night and He says: ‘Who will ask of Me, that I may give him? Who will call upon Me, that I may answer him? Who will ask My forgiveness, that I may forgive him?’ until dawn comes.” Hence they used to prefer voluntary prayers at the end of the night rather than at the beginning.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت اخیر کی تہائی رات رہ جاتی ہے تو ہمارا رب جو کہ برکت والا اور بلند ہے، ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور فرماتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو دوں؟ کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اسے بخش دوں؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے ، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اخیر رات میں عبادت کرنا بہ نسبت اول رات کے پسند کرتے تھے ۱؎۔
It was narrated that Rifa’ah Al-Juhani said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah provides respite until, when half or two thirds of the night had passed, He says: “My slave does not ask of anyone other than Me. Whoever calls upon Me, I will answer him; whoever asks of Me, I will give him; whoever asks My forgiveness, I will forgive him,” until dawn comes.’”
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ مہلت دیتا ہے ( اپنے بندوں کو کہ وہ سوئیں اور آرام کریں ) یہاں تک کہ جب رات کا آدھا یا اس کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو فرماتا ہے: میرے بندے! میرے سوا کسی سے ہرگز نہ مانگیں، جو کوئی مجھے پکارے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا، جو مجھ سے سوال کرے گا میں اسے دوں گا، جو مجھ سے مغفرت چاہے گا، میں اسے بخش دوں گا، طلوع فجر تک یہی حال رہتا ہے ۱؎۔