مشکوۃ

Mishkat

کتاب ایمان کا بیان

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

بَاب الْإِيمَان بِالْقدرِ


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يصدق ذَلِك كُله ويكذبه» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا مُدْرِكٌ ذَلِكَ لَا محَالة فالعينان زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے اولاد آدم پر اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے ، جسے وہ ضرور پا کر رہے گا ، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے ، زبان کا زنا بولنا ہے جبکہ نفس تمنا اور آرزو کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ اللہ نے ابن آدم پر اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے ، جسے وہ ضرور پا کر رہے گا ، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے ، کانوں کا زنا سننا ہے ، زبان کا زنا بات کرنا ہے ، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے ، ٹانگ کا زنا چل کر جانا ہے ، جبکہ نفس تمنا اور آرزو کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۱۲ ، ۶۲۴۳) و مسلم ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفق عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۱۲ ، ۶۲۴۳) و مسلم (۲۰ / ۲۶۵۷) ۔ 6754