مشکوۃ

Mishkat

افعال حج کا بیان

عرفات اور مزدلفہ سے واپسی کا بیان

بَابٌ الدَّفْعُ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ


وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن وہ نبی ﷺ کے ساتھ واپس آ رہے تھے کہ نبی ﷺ نے اپنے پیچھے اونٹوں کو بہت مارنے اور ڈانٹنے کی آوازیں سنیں تو آپ نے اپنے کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :’’ لوگو ! سکینت اختیار کرو کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ البخاری (۱۶۷۱) ۔