مشکوۃ

Mishkat

افعال حج کا بیان

کنکریاں مارنے کا بیان

بَاب رمي الْجمار

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا قَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا»

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں آپ ﷺ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور ان کی لگاموں ، چمڑوں اور پالانوں کو صدقہ کر دوں اور قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دوں ، فرمایا :’’ ہم اسے اپنے پاس سے دیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن جابرٍ قَالَ: كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلُوا وَتَزَوَّدُوا» . فَأَكَلْنَا وتزودنا

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم اپنے قربانی کے اونٹوں کا گوشت تین دن سے زائد نہیں کھایا کرتے تھے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رخصت دی تو فرمایا :’’ کھاؤ اور زادِراہ کے طور پر ساتھ بھی لے جاؤ ۔‘‘ پس ہم نے کھایا اور زادِراہ کے طورپر ساتھ بھی لائے ۔ متفق علیہ ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ ذَهَبٍ يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْركين. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حدیبیہ کے سال قربانی کے جانور بھیجے ، رسول اللہ ﷺ کے قربانی کے جانوروں میں ابوجہل کا اونٹ بھی تھا جس کی ناک میں چاندی کا اورایک دوسری روایت میں ہے کہ سونے کا ایک کڑا تھا ، آپ ﷺ اس سے مشرکین کو غصہ دلانا چاہتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟ قَالَ: «انْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهَا فَيَأْكُلُونَهَا» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

ناجیہ خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قربانی کے اونٹوں میں سے کوئی چلنے سے عاجز آ جائے تو کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے نحر کر دینا پھر اس (کے قلادے) کے جوتے اس کے خون میں ڈبو دینا (اور اس کے پہلو پر نشان لگا دینا) پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑدینا تاکہ وہ اسے کھا لیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي عَن نَاجِية الْأَسْلَمِيّ

ابوداؤد اور دارمی نے اسے ناجیہ اسلمی سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ» . قَالَ ثَوْرٌ: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي. قَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فطفِقْن يَزْدَلفْنَ إِليهِ بأيتهِنَّ يبدأُ قَالَ: فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا. قَالَ فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ: مَا قَالَ؟ قَالَ: «مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَا ابنِ عبَّاسٍ وجابرٍ فِي بَاب الْأُضْحِية

عبداللہ بن قرط ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے ، پھر (منیٰ میں) قرار پکڑنے (گیارہ ذوالحجہ) کا دن ہے ۔‘‘ ثور ؒ نے فرمایا : اس سے قربانی کا دوسرا دن مراد ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ پیش کیے گئے ، وہ آپ ﷺ کے قریب ہونے لگے کہ آپ کس سے ابتدا فرمائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ پہلوں کے بل گر پڑیں تو آپ نے کوئی ہلکی سی بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا ، تو میں نے (اپنے پاس والے شخص سے) کہا : آپ نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے کہا : آپ ﷺ نے فرمایا ہے :’’ جو شخص چاہے اس سے گوشت کاٹ کر لے جائے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ عبداللہ بن عباس ؓ اور جابر ؓ سے مروی حدیث باب الاضحیۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ» . فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا الْعَامَ الْمَاضِي؟ قَالَ: «كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهِمْ»

سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جس نے قربانی کی ہے ۔ تیسرے دن کے بعد (یعنی چوتھے روز) اس کے گھر میں قربانی کا گوشت نہیں ہونا چاہیے ۔‘‘ جب آئندہ سال آیا تو صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جس طرح ہم نے پچھلے سال کیا تھا کیا اس سال بھی ہم ویسے ہی کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کھاؤ ، کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کرو ، کیونکہ گزشتہ سال لوگ قحط سالی کی وجہ سے تکلیف میں تھے ، اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ تم ان کی اعانت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ نُبَيْشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِن كُنَّا نهينَا عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تسَعْكم. جاءَ اللَّهُ بالسَّعَةِ فكُلوا وادَّخِرُوا وأْتَجِروا. أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وذِكْرِ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

نُبیشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم نے تمہیں منع کیا تھا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زائد نہیں کھانا تاکہ تمہیں کشائش اور خوشحالی مل جائے ، اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوشحالی عطا کر دی ہے تو کھاؤ ، ذخیرہ کرو اور (صدقہ کر کے) اجر پاؤ ۔ اور سن لو ! یہ ایام کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤ ۔