مشکوۃ

Mishkat

افعال حج کا بیان

سر منڈانے کا بیان

بَاب الْحلق

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا ، اور آپ ﷺ کے بعض صحابہ نے بھی سر منڈایا اور ان میں سے بعض نے بال کترائے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: إِنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ النَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عِنْد الْمَرْوَة بمشقص

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، معاویہ ؓ نے مجھے بتایا کہ میں نے مَروہ کے پاس تیر کے بھال سے نبی ﷺ کے سر کے بال کترے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا :’’ اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور بال کترانے والوں پر بھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بال کترانے والوں پر بھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بال کترانے والوں پر بھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن يحيى بن الْحصين عَن جدته أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مرّة وَاحِدَة. رَوَاهُ مُسلم

یحیی بن حصین ؒ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ کو سر منڈوانے والوں کے لیے تین بار اور بال کترانے والوں کے لیے ایک بار دعا کرتے ہوئے سنا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ نُسُكَهُ ثُمَّ دَعَا بِالْحَلَّاقِ وَنَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ فَقَالَ «احْلِقْ» فَحَلَقَهُ فَأعْطَاهُ طَلْحَةَ فَقَالَ: «اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ»

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ منیٰ تشریف لائے تو جمرہ پر آئے اور اسے کنکریاں ماریں ، پھر منیٰ میں اپنی رہائش گاہ پر آئے اور قربانی کی پھر آپ نے حجام کو منگایا اور آپ نے اپنے سر کی دائیں طرف حجام کی طرف کی تو اس نے اسے مونڈ دیا پھر آپ نے ابوطلحہ انصاری ؓ کو بلایا اور وہ بال انہیں دے دیے ، پھر آپ نے بائیں جانب اس کی طرف کی اور فرمایا :’’ مونڈ دو ۔‘‘ تو اس نے اسے مونڈ دیا تو آپ نے وہ بال بھی ابوطلحہ کو دے دیے اور فرمایا :’’ انہیں لوگوں میں تقسیم کر دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کو احرام باندھنے سے پہلے اور قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے کستوری کی ملاوٹ والی خوشبو لگایا کرتی تھی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رجعَ فصلّى الظهْرَ بمنى. رَوَاهُ مُسلم

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا ، پھر واپس تشریف لائے اور ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ رواہ مسلم ۔